صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ الشُّرْبِ قَائِمًا:
باب: کھڑے کھڑے پانی پینا۔
حدیث نمبر: 5615
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ النَّزَّالِ، قَالَ: أَتَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى بَابِ الرَّحَبَةِ فَشَرِبَ قَائِمًا، فَقَالَ" إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُ أَحَدُهُمْ أَنْ يَشْرَبَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن میسرہ نے، ان سے نزال نے بیان کیا کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں مسجد کوفہ کے صحن میں حاضر ہوئے پھر علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پیا اور کہا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے اس وقت کھڑے ہو کر پانی پیتے دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5615]
حضرت نزال رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس (مسجد کوفہ کے) صحن میں پانی لایا گیا تو انہوں نے کھڑے ہو کر نوش کیا اور فرمایا: ”کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ خیال کرتے ہیں جبکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے (اس وقت) کرتے دیکھا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5615]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5616
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ قَعَدَ فِي حَوَائِجِ النَّاسِ فِي رَحَبَةِ الْكُوفَةِ، حَتَّى حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، ثُمَّ أُتِيَ بِمَاءٍ فَشَرِبَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، وَذَكَرَ رَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ الشُّرْبَ قِيَامًا، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ".
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن میسرہ نے بیان کیا، انہوں نے نزال بن سبرہ سے سنا، وہ علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے ظہر کی نماز پڑھی پھر مسجد کوفہ کے صحن میں لوگوں کی ضرورتوں کے لیے بیٹھ گئے۔ اس عرصہ میں عصر کی نماز کا وقت آ گیا پھر ان کے پاس پانی لایا گیا۔ انہوں نے پانی پیا اور اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے، ان کے سر اور پاؤں (کے دھونے کا بھی) ذکر کیا۔ پھر انہوں نے کھڑے ہو کر وضو کا بچا ہوا پانی پیا، اس کے بعد کہا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو برا سمجھتے ہیں حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یونہی کیا تھا جس طرح میں نے کیا، وضو کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5616]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نماز ظہر پڑھی، پھر (مسجد کوفہ کے) صحن میں لوگوں کی ضروریات کے لیے بیٹھ گئے حتیٰ کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ پھر ان کے پاس پانی لایا گیا تو انہوں نے پیا، اس سے منہ اور ہاتھ دھوئے، راوی نے سر اور پاؤں کا بھی ذکر کیا۔ پھر آپ کھڑے ہو گئے اور کھڑے کھڑے وضو سے بچا ہوا پانی نوش کیا۔ اس کے بعد کہا: ”کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینا مکروہ خیال کرتے ہیں حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا جیسے میں نے کیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5616]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5617
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا مِنْ زَمْزَمَ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عاصم احول نے، ان سے شعبی نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5617]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5617]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة