صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. بَابُ مَنْ أَخْبَرَ صَاحِبَهُ بِمَا يُقَالُ فِيهِ:
باب: جو اپنے ساتھی کو وہ بات بتائے جو اس کے بارے میں کی جاتی ہو۔
حدیث نمبر: 6059
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِسْمَةً، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِهَذَا وَجْهَ اللَّهِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ فَتَمَعَّرَ وَجْهُهُ وَقَالَ:" رَحِمَ اللَّهُ مُوسَى لَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ".
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابووائل نے اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال تقسیم کیا تو انصار میں سے ایک شخص نے کہا کہ اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس تقسیم سے اللہ کی رضا مقصود نہ تھی۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس شخص کی یہ بات آپ کو سنائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، انہیں اس سے بھی زیادہ ایذا دی گئی، لیکن انہوں نے صبر کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6059]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت تقسیم کیا تو انصار میں سے ایک آدمی نے کہا: ”اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تقسیم سے اللہ کی رضا کا ارادہ نہیں کیا۔“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس شخص کی بات سے مطلع کیا تو آپ کا چہرہ انور متغیر ہو گیا۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے انہیں اس سے بھی زیادہ اذیت دی گئی تھی لیکن انہوں نے صبر سے کام لیا۔““ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6059]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة