🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

90. بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الشِّعْرِ وَالرَّجَزِ وَالْحُدَاءِ وَمَا يُكْرَهُ مِنْهُ:
باب: شعر، رجز اور حدی خوانی کا جائز ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6145
وَقَوْلِهِ وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ {224} أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ {225} وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لا يَفْعَلُونَ {226} إِلا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ {227} سورة الشعراء آية 224-227 قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي كُلِّ لَغْوٍ يَخُوضُونَ
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ الشعراء میں) فرمایا شاعروں کی پیروی وہی لوگ کرتے ہیں جو گمراہ ہیں، کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور وہ، وہ باتیں کہتے ہیں جو خود نہیں کرتے۔ سوا ان لوگوں کے جو ایمان لے آئے اور جنہوں نے عمل صالح کئے اور اللہ کا کثرت سے ذکر کیا اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو انہوں نے اس کا بدلہ لیا اور ظلم کرنے والوں کو جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ «في كل لغو يخوضون‏.» کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک لغو بےہودہ بات میں گھستے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: Q6145]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6145
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہیں مروان بن حکم نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث نے خبر دی، انہیں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض شعروں میں دانائی ہوتی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6145]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِكْمَةً» کچھ اشعار بہت حکمت بھرے ہوتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6145]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6146
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، سَمِعْتُ جُنْدَبًا، يَقُولُ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِذْ أَصَابَهُ حَجَرٌ فَعَثَرَ فَدَمِيَتْ إِصْبَعُهُ فَقَالَ:" هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے، انہوں نے کہا کہ میں نے جندب بن عبداللہ بجلی سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ آپ کو پتھر سے ٹھوکر لگی اور آپ گر پڑے، اس سے آپ کی انگلی سے خون بہنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر پڑھا تو تو اک انگلی ہے اور کیا ہے جو زخمی ہو گئی ... کیا ہوا اگر راہ مولیٰ میں تو زخمی ہو گئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6146]
حضرت اسود بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جندب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ اچانک آپ کو پتھر سے ٹھوکر لگی، آپ گر پڑے اور آپ کی انگلی سے خون بہنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ، وَفِي سَبِيلِ اللهِ مَا لَقِيتِ» تو تو اک انگلی ہے اور کیا ہے جو زخمی ہو گئی، کیا ہوا اگر راہِ مولیٰ میں تو زخمی ہو گئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6146]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6147
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا الشَّاعِرُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ، أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ" وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالملک نے، انہوں نے کہا ہم سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کی شعراء کے کلام میں سے سچا کلمہ لبید کا مصرعہ ہے جو یہ ہے کہ اللہ کے سوا جو کچھ ہے سب معدوم و فنا ہونے والا ہے۔ امیہ بن ابی الصلت شاعر تو قریب تھا کہ مسلمان ہو جائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6147]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاعر نے جو سچی بات کہی ہے وہ لبید کا یہ قول ہے: «أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ» آگاہ رہو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل (فنا ہونے والی) ہے اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جاتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6147]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6148
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَسِرْنَا لَيْلًا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ: أَلَا تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ؟ قَالَ: وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلًا شَاعِرًا فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَاغْفِرْ فِدَاءٌ لَكَ مَا اقْتَفَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَأَلْقِيَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَتَيْنَا وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ هَذَا السَّائِقُ؟" قَالُوا: عَامِرُ بْنُ الْأَكْوَعِ، فَقَالَ:" يَرْحَمُهُ اللَّهُ" فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَجَبَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوْلَا أَمْتَعْتَنَا بِهِ، قَالَ: فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ فَحَاصَرْنَاهُمْ حَتَّى أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ فَتَحَهَا عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ الْيَوْمَ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقِدُونَ؟ قَالُوا: عَلَى لَحْمٍ، قَالَ:" عَلَى أَيِّ لَحْمٍ؟" قَالُوا: عَلَى لَحْمِ حُمُرٍ إِنْسِيَّةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَهْرِقُوهَا وَاكْسِرُوهَا" فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ نُهَرِيقُهَا وَنَغْسِلُهَا، قَالَ:" أَوْ ذَاكَ"، فَلَمَّا تَصَافَّ الْقَوْمُ كَانَ سَيْفُ عَامِرٍ فِيهِ قِصَرٌ فَتَنَاوَلَ بِهِ يَهُودِيًّا لِيَضْرِبَهُ وَيَرْجِعُ ذُباب سَيْفِهِ فَأَصَابَ رُكْبَةَ عَامِرٍ فَمَاتَ مِنْهُ، فَلَمَّا قَفَلُوا قَالَ سَلَمَةُ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاحِبًا فَقَالَ لِي:" مَا لَكَ؟" فَقُلْتُ: فِدًى لَكَ أَبِي وَأُمِّي زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ، قَالَ:" مَنْ قَالَهُ؟" قُلْتُ: قَالَهُ فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ، وَأُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَذَبَ مَنْ قَالَهُ، إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ، وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ قَلَّ عَرَبِيٌّ نَشَأَ بِهَا مِثْلَهُ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے، ان سے برید ابن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ خیبر میں گئے اور ہم نے رات میں سفر کیا، اتنے میں مسلمانوں کے آدمی نے عامر بن اکوع رضی للہ عنہ سے کہا کہ اپنے کچھ شعر اشعار سناؤ۔ راوی نے بیان کیا کہ عامر شاعر تھے۔ وہ لوگوں کو اپنی حدی سنانے لگے۔ اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے نہ ہم صدقہ دے سکتے اور نہ نماز پڑھ سکتے۔ ہم تجھ پر فدا ہوں، ہم نے جو کچھ پہلے گناہ کئے ان کو تو معاف کر دے اور جب (دشمن سے) ہمارا سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ اور ہم پر سکون نازل فرما۔ جب ہمیں جنگ کے لیے بلایا جاتا ہے، تو ہم موجود ہو جاتے ہیں اور دشمن نے بھی پکار کر ہم سے نجات چاہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کون اونٹوں کو ہانک رہا ہے جو حدی گا رہا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ عامر بن اکوع ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پاک اس پر رحم کرے۔ ایک صحابی یعنی عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اب تو عامر شہید ہوئے۔ کاش اور چند روز آپ ہم کو عامر سے فائدہ اٹھانے دیتے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ہم خیبر آئے اور اس کو گھیر لیا اس گھراؤ میں ہم شدید فاقوں میں مبتلا ہوئے، پھر اللہ تعالیٰ نے خیبر والوں پر ہم کو فتح عطا فرمائی جس دن ان پر فتح ہوئی اس کی شام کو لوگوں نے جگہ جگہ آگ جلائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ آگ کیسی ہے، کس کام کے لیے تم لوگوں نے یہ آگ جلائی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ گوشت پکانے کے لیے۔ اس پر آپ نے دریافت فرمایا کس چیز کے گوشت کے لیے؟ صحابہ نے کہا کہ بستی کے پالتو گدھوں کا گوشت پکانے کے لیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گوشت کو برتنوں میں سے پھینک دو اور برتنوں کو توڑ دو۔ ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم گوشت تو پھینک دیں، مگر برتن توڑنے کے بجائے اگر دھو لیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا یوں ہی کر لو۔ جب لوگوں نے جنگ کی صف بندی کر لی تو عامر (ابن اکوع شاعر) نے اپنی تلوار سے ایک یہودی پر وار کیا، ان کی تلوار چھوٹی تھی اس کی نوک پلٹ کر خود ان کے گھٹنوں پر لگی اور اس کی وجہ سے ان کی شہادت ہو گئی۔ جب لوگ واپس آنے لگے تو سلمہ (عامر کے بھائی) نے بیان کیا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ میرے چہرے کا رنگ بدلا ہوا ہے۔ دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پر میرے ماں اور باپ فدا ہوں، لوگ کہہ رہے ہیں کہ عامر کے اعمال برباد ہو گئے۔ (کیونکہ ان کی موت خود ان کی تلوار سے ہوئی ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کس نے کہا؟ میں نے عرض کیا: فلاں، فلاں، فلاں اور اسید بن حضیر انصاری نے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے یہ بات کہی اس نے جھوٹ کہا ہے انہیں تو دوہرا اجر ملے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر اشارہ کیا کہ وہ عابد بھی تھا اور مجاہد بھی (تو عبادت اور جہاد دونوں کا ثواب اس نے پایا) عامر کی طرح تو بہت کم بہادر عرب میں پیدا ہوئے ہیں (وہ ایسا بہادر اور نیک آدمی تھا)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6148]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خیبر کی طرف گئے تو رات بھر چلتے رہے۔ اس دوران میں صحابہ کرام میں سے کسی نے حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم ہمیں اپنے اشعار نہیں سناتے؟ حضرت عامر رضی اللہ عنہ شاعر تھے۔ وہ اپنی سواری سے اترے اور لوگوں کو یہ شعر سنانے لگے: اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے، ہم تجھ پر فدا ہیں، ہم نے پہلے جو کچھ گناہ کیے ہیں انہیں معاف کر دے اور جب دشمن سے ہمارا پالا پڑے تو ہمیں ثابت قدم رکھنا اور ہم پر سکون و اطمینان نازل فرما، جب ہمیں جنگ کے لیے بلایا جاتا ہے تو ہم وہاں پہنچ جاتے ہیں اور وہ بلند آوازوں سے ہم پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اونٹوں کو چلانے والا شخص کون ہے؟ صحابہ کرام نے کہا: یہ عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے! صحابہ کرام میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! اب تو ان کے لیے شہادت ضروری ہو گئی ہے، آپ چند روز تک ہمیں ان کی زندگی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیتے۔ راوی نے کہا: پھر ہم خیبر آئے اور وہاں یہودیوں کا محاصرہ کیا حتیٰ کہ ہمیں بھوک نے بہت تنگ کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اہل خیبر پر فتح عطا کی۔ جب فتح کے روز شام ہوئی تو لوگوں نے جگہ جگہ آگ جلائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ آگ کیسی ہے؟ تم لوگ کس پر آگ جلا رہے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا: گوشت پکا رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کون سا گوشت؟ انہوں نے کہا: پالتو گدھوں کا گوشت پکا رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گوشت پھینک دو اور برتنوں کو توڑ دو۔ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم گوشت پھینک دیں اور برتنوں کو دھو لیں تو؟ آپ نے فرمایا: چلو ایسا کر لو۔ جب صحابہ کرام نے جنگ کے لیے صف بندی کر لی تو حضرت عامر رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار سے ایک یہودی پر حملہ کیا۔ چونکہ تلوار چھوٹی تھی، اس لیے اس کی نوک پلٹ کر ان کے گھٹنے پر آ لگی، اس وجہ سے ان کی شہادت ہو گئی۔ جب لوگ واپس آنے لگے تو حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے افسردہ دیکھ کر فرمایا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! لوگ کہتے ہیں کہ عامر رضی اللہ عنہ کے اعمال برباد ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کس نے کہا ہے؟ میں نے کہا: فلاں فلاں اور حضرت اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ نے ایسا کہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ بات کہی ہے، اس نے غلط کہا ہے، انہیں تو دوگنا اجر ملے گا۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو جمع کر کے اشارہ فرمایا: ۔۔۔۔۔ وہ عابد بھی تھا اور مجاہد بھی تھا، عامر کی طرح تو بہت کم بہادر پیدا ہوتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6148]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6149
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ وَمَعَهُنَّ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَقَالَ:" وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ سَوْقًا بِالْقَوَارِيرِ"، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ فَتَكَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلِمَةٍ لَوْ تَكَلَّمَ بِهَا بَعْضُكُمْ لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ قَوْلُهُ:" سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ایک سفر کے موقع پر) اپنی عورتوں کے پاس آئے جو اونٹوں پر سوار جا رہی تھیں، ان کے ساتھ ام سلیم رضی اللہ عنہا انس کی والدہ بھی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس، انجشہ! شیشوں کو آہستگی سے لے چل۔ ابوقلابہ نے کہا کہ نبی کریم نے عورتوں سے متعلق ایسے الفاظ کا استعمال فرمایا کہ اگر تم میں کوئی شخص استعمال کرے تو تم اس پر عیب جوئی کرو۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ شیشوں کو نرمی سے لے چل۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6149]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض بیویوں کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے ساتھ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا بھی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انجشہ! تجھ پر افسوس ہو، ان آبگینوں کو ذرا آہستگی سے لے کر چل۔ ابو قلابہ رحمہ اللہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے متعلق ایسے الفاظ کا استعمال فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص ان الفاظ کو استعمال کرے تو تم اسے معیوب خیال کرو، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد: ان آبگینوں کو آہستگی سے لے کر چل۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6149]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں