صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
90. باب ما يجوز من الشعر والرجز والحداء وما يكره منه:
باب: شعر، رجز اور حدی خوانی کا جائز ہونا۔
حدیث نمبر: 6146
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، سَمِعْتُ جُنْدَبًا، يَقُولُ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِذْ أَصَابَهُ حَجَرٌ فَعَثَرَ فَدَمِيَتْ إِصْبَعُهُ فَقَالَ:" هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے، انہوں نے کہا کہ میں نے جندب بن عبداللہ بجلی سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ آپ کو پتھر سے ٹھوکر لگی اور آپ گر پڑے، اس سے آپ کی انگلی سے خون بہنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر پڑھا ”تو تو اک انگلی ہے اور کیا ہے جو زخمی ہو گئی ... کیا ہوا اگر راہ مولیٰ میں تو زخمی ہو گئی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6146]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جندب بن كعب الأزدي، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥الأسود بن قيس العبدي، أبو قيس الأسود بن قيس العبدي ← جندب بن كعب الأزدي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← الأسود بن قيس العبدي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم الفضل بن دكين الملائي ← سفيان الثوري | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6146
| هل أنت إلا إصبع دميت وفي سبيل الله ما لقيت |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6146 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6146
حدیث حاشیہ:
یہ کلام رجز ہے شعر نہیں آپ نے خود کوئی شعر نہیں بنایا۔
ہاں دوسرے شاعروں کے عمدہ شعر کبھی آپ نے پڑھے ہیں۔
صدق اللہ تعالیٰ ﴿وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُ﴾
یہ کلام رجز ہے شعر نہیں آپ نے خود کوئی شعر نہیں بنایا۔
ہاں دوسرے شاعروں کے عمدہ شعر کبھی آپ نے پڑھے ہیں۔
صدق اللہ تعالیٰ ﴿وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُ﴾
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6146]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6146
حدیث حاشیہ:
یہ شعر نہیں بلکہ ایک رجز یہ کلام ہے جو اتفاق سے ہم وزن ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کوئی شعر نہیں بنایا کیونکہ شعر بنانے میں غوروفکر اور تکلف ہوتا ہے، ایسا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شایان شان نہیں، البتہ بعض اوقات آپ سے شعراء کا کلام پڑھنا مروی ہے جیسا کہ آپ نے لبید کا یہ شعر پڑھا تھا:
(ألا كل شئيء ما خلا الله باطل)
خبردار! اللہ کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
شاعر کا یہ شعر بہت عمدہ اور سچائی پر مبنی ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے۔
یہ شعر نہیں بلکہ ایک رجز یہ کلام ہے جو اتفاق سے ہم وزن ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کوئی شعر نہیں بنایا کیونکہ شعر بنانے میں غوروفکر اور تکلف ہوتا ہے، ایسا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شایان شان نہیں، البتہ بعض اوقات آپ سے شعراء کا کلام پڑھنا مروی ہے جیسا کہ آپ نے لبید کا یہ شعر پڑھا تھا:
(ألا كل شئيء ما خلا الله باطل)
خبردار! اللہ کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
شاعر کا یہ شعر بہت عمدہ اور سچائی پر مبنی ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6146]
الأسود بن قيس العبدي ← جندب بن كعب الأزدي