مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
444. حَدِیث معَاوِیَةَ بنِ اَبِی سفیَانَ
حدیث نمبر: 16897
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: حَجَّ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُعَاوِيَةُ، فَجَعَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَلِمُ الْأَرْكَانَ كُلَّهَا، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : إِنَّمَا اسْتَلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّيْنِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَيْسَ مِنْ أَرْكَانِهِ مَهْجُورٌ
ابوالطفیل رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما حرم مکی میں آئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے طواف کیا تو خانہ کعبہ کے سارے کونوں کا استلام کیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف دو کونوں کا استلام کیا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ خانہ کعبہ کا کوئی کونا بھی متروک نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16897]
حکم دارالسلام: رجاله ثقات على قلب فى متنه، فالمحفوظ أن القائل: ليس من أركانه مهجور هو معاوية، وأن ابن عباس هو الذى أنكر عليه
حدیث نمبر: 16898
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ إِذَا أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الْمُؤَذِّنِينَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ"
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ قیامت والے دن موذنین سب سے لمبی گردنوں والے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16898]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16899
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ فِي جَسَدِهِ يُؤْذِيهِ، إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ"
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ مسلمان کو اس کے جسم میں جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16899]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16900
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ يُشَقِّقُونَ الْكَلَامَ تَشْقِيقَ الشِّعْرِ"
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار کی طرح بات چبا چبا کر کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16900]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 16901
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَيْهَسُ بْنُ فَهْدَانَ ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ سَمِعْهُ مِنْهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا"
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو سونا پہننے سے منع فرمایا ہے الا یہ کہ معمولی سا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16901]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16902
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ابْنِ سَهْلٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَتَشَهَّدُ مَعَ الْمُؤَذِّنِينَ"
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مؤذن کے ساتھ خود بھی تشہد پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16902]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 612
حدیث نمبر: 16903
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ وَكَانَ قَلِيلَ الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ قَلَّمَا خَطَبَ إِلَّا ذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي خُطْبَتِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوٌ خَضِرٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ، بَارِكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا، يُفَقِّهِْهُّ فِي الدِّينِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْمَدْحَ فَإِنَّهُ الذَّبْحُ" .
معبد جہنی کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بہت کم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے تھے، البتہ یہ کلمات اکثر جگہوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ذکر کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتے ہیں تو اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتے ہیں اور یہ دنیا کا مال بڑا شیریں اور سرسبز و شاداب ہوتا ہے، سو جو شخص اسے اس کے حق کے ساتھ لیتا ہے، اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور منہ پر تعریف کرنے سے بچو کیونکہ یہ اس شخص کو ذبح کر دینا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16903]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16904
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ فِيهِ:" وَإِيَّاكُمْ وَالتَّمَادُحَ فَإِنَّهُ الذَّبْحُ".
گزشتہ حدیث یعقوب سے بھی مروی ہے (اور اس میں «مدح» کے بجائے «تمادح» کا لفظ ہے مطلب دونوں کا ایک ہی ہے یعنی) منہ پر تعریف کرنے سے بچو کیونکہ یہ اس شخص کو ذبح کر دینا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16904]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 16905
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا"
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس شخص کے حق میں ”عمریٰ“ جائز ہوتا ہے جس کے لیے وہ کیا گیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16905]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 16906
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَوْفٍ الْجُرَشِيُّ ، عَنْ أَبِي هِنْدٍ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ وَقَدْ غَمَّضَ عَيْنَيْهِ، فَتَذَاكَرْنَا الْهِجْرَةَ، وَالْقَائِلُ مِنَّا يَقُولُ: قَد انْقَطَعَتْ، وَالْقَائِلُ مِنَّا يَقُولُ: لَمْ تَنْقَطِعْ، فَاسْتَنْبَهَ مُعَاوِيَةُ ، فَقَالَ: مَا كُنْتُمْ فِيهِ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ، وَكَانَ قَلِيلَ الرَّدِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَذَاكَرْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتَّى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ، وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا"
ابوہند بجلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، جو اپنے تخت پر آنکھیں بند کیے بیٹھے تھے، ہم نے ہجرت کا تذکرہ شروع کر دیا، ہم میں سے کسی کی رائے تھی کہ ہجرت منقطع ہو گئی ہے اور کسی کی رائے تھی کہ ہجرت منقطع نہیں ہوئی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہوشیار ہو گئے اور فرمایا: تم کیا باتیں کر رہے ہو؟ ہم نے انہیں بتا دیا، وہ کسی بات کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بہت کم کرتے تھے، کہنے لگے کہ ایک مرتبہ ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہی مذاکرہ کیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی جب تک توبہ منقطع نہ ہو جائے اور توبہ اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16906]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى هند البجلي