مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
444. حَدِیث معَاوِیَةَ بنِ اَبِی سفیَانَ
حدیث نمبر: 16907
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ وَكَانَ قَلِيلَ الْحَدِيثِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: " كُلُّ ذَنْبٍ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَغْفِرَهُ، إِلَّا الرَّجُلُ يَمُوتُ كَافِرًا، أَوْ الرَّجُلُ يَقْتُلُ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا"
ابوادریس کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ”جو بہت کم احادیث بیان کرتے تھے“ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ امید ہے اللہ تعالیٰ ہر گناہ معاف فرما دے گا، سوائے اس کے کہ کوئی شخص کفر کی حالت میں مر جائے یا وہ آدمی جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16907]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16908
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: إِنَّكُمْ لَتُصَلُّونَ صَلَاةً لَقَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْنَاهُ يُصَلِّيهَا، وَلَقَدْ نَهَى عَنْهُمَا، يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ"
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم لوگ ایک ایسی نماز پڑہتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کے باوجود ہم نے انہیں یہ نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ وہ اس سے منع کرتے تھے، مراد عصر کے بعد دو سنتیں (نفل) ہیں (جو انہوں نے کچھ لوگوں کو پڑھتے ہوئے دیکھا تھا)۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16908]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 587
حدیث نمبر: 16909
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ ، أَنَّهُ شَهِدَ مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ جَمْعٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ مُعَاوِيَةُ : أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ رُكُوبِ جُلُودِ النُّمُورِ"؟ قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: قَالَ: أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ"؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ: قَالَ: أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُشْرَبَ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ"؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ: قَالَ: أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا"؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ: قَالَ: أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ جَمْعٍ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ"؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ لَا، قَالَ: فَوَاللَّهِ إِنَّهَا لَمَعَهُنَّ .
ابوشیخ ہنائی کہتے ہیں میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجلس میں ایک مرتبہ بیٹھا ہوا تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: میں اللہ کی قسم دے کر تمہیں پوچھتا ہوں کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں۔ پھر فرمایا: میں آپ لوگوں کو قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو سونا پہننے سے منع فرمایا ہے الا یہ کہ معمولی سا ہو؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں۔ پھر فرمایا: میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا اپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چیتے کی سواری کرنے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! فرمایا: میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں۔ پھر فرمایا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! فرمایا: میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں۔ پھر فرمایا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج اور عمرے کو ایک سفر میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا یہ بات ہم نہیں جانتے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ بات بھی ثابت شدہ ہے اور پہلی باتوں کے ساتھ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16909]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سعيد بن أبى عروبة مختلط، وسماع محمد بن جعفر منه بعد الاختلاط، لكنه توبع، وقتادة مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع
حدیث نمبر: 16910
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصَبِيِّ ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يُحَدِّثُ، وَهُوَ يَقُولُ: إِيَّاكُمْ وَأَحَادِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا كَانَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ، وَإِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ أَخَافَ النَّاسَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُّ فِي الدِّينِ" .
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کثرت کے ساتھ احادیث بیان کرنے سے بچو سوائے ان احادیث کے جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں زبان زد عام تھیں کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو اللہ کے معاملات میں ڈراتے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16910]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1037
حدیث نمبر: 16911
وَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: " إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ، وَإِنَّمَا يُعْطِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً عَنْ طِيبِ نَفْسٍ، فَهُوَ أَنْ يُبَارَكَ لِأَحَدِكُمْ، وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً عَنْ شَرَهٍ، وَشَرَهِ مَسْأَلَةٍ، فَهُوَ كَالْآكِلِ وَلَا يَشْبَعُ"
اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں تو صرف خزانچی ہوں، اصل دینے والا اللہ ہے، اس لئے میں جس شخص کو دل کی خوشی کے ساتھ بخشش دوں تو اسے اس کے لیے مبارک کر دیا جائے گا اور جسے اس کے شر سے بچنے کے لئے یا اس کے سوال میں اصرار کی وجہ سے کچھ دوں، وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا رہے اور سیراب نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16911]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1037
حدیث نمبر: 16912
وَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: " لَا تَزَالُ أُمَّةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ"
اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا، وہ اپنی مخالفت کرنے والوں کی پرواہ نہیں کرے گا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16912]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1037
حدیث نمبر: 16913
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: نَعَمْ، صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي، فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ: لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ، إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ، فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَكَلَّمَ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ، " أَنْ لَا تُوصَلَ صَلَاةٌ بِصَلَاةٍ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَكَلَّمَ"
سیدنا عمر بن عطاء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے نافع بن جبیر نے سائب بن یزید کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا، جی ہاں! ایک مرتبہ میں ان کے ساتھ ”مقصورہ“ میں جمعہ پڑھا تھا، جب انہوں نے نماز کا سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ پر ہی کھڑے ہو کر سنتیں پڑھنے لگا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ جب اندر چلے گئے، تو مجھے بلا کر فرمایا: آج کے بعد دوبارہ اس طرح نہ کرنا جیسے ابھی کیا ہے، جب تم جمعہ کی نماز پڑھو، تو اس سے متصل ہی دوسری نماز نہ پڑھو جب تک کوئی بات نہ کر لو، یا وہاں سے ہٹ نا جاؤ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ کسی نماز سے متصل ہی دوسری نماز نہ پڑھی جائے جب تک کہ بات نہ کر لو یا وہاں سے ہٹ نہ جاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16913]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 883
حدیث نمبر: 16914
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، أَنَّهُ رَأَى أُنَاسًا يُصَلُّونَ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَتُصَلُّونَ صَلَاةً قَدْ صَحِبْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا رَأَيْنَاهُ يُصَلِّيهَا، وَلَقَدْ نَهَى عَنْهَا، يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم لوگ ایک ایسی نماز پڑھتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کے باوجود ہم نے انہیں یہ نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا بلکہ وہ اس سے منع فرماتے تھے، مراد عصر کے بعد کی دو سنتیں (نفل) ہیں جو انہوں نے کچھ لوگوں کو پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16914]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 587
حدیث نمبر: 16915
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ نَسِيَ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِهِ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ"
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص نماز میں کچھ بھول جائے تو اسے چاہیے کہ بیٹھ کر دو سجدے کر لے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16915]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16916
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ"
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے چاہیے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانا بنا لے۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16916]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد وهم فيه روح ابن عبادة، عن شعبة، عن أبى الفيض، والراجح: عن شعبة، عن رجل من بني عذرة، عن أبى الفيض، أى بزيادة واسطة: رجل من بني عذرة ، وهذا الإسناد ضعيف لجهالة رجل، ثم إن فى رواية أبى الفيض عن معاوية وقفة