مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
466. بَقِیَّة حَدِیثِ زَیدِ بنِ خَالِد الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ ...
حدیث نمبر: 17059
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَمَةِ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ، أَوْ الرَّابِعَةِ: الزُّهْرِيُّ شَكَّ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17059]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2555، م: 1704
حدیث نمبر: 17060
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلُقَطَةٍ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا سَنَةً، ثُمَّ اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ بِهَا، وَإِلَّا فَاسْتَنْفِقْهَا" . قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ: " لَكَ، أَوْ لِأَخِيكَ، أَوْ لِلذِّئْبِ" . قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ضَالَّةُ الْإِبِلِ؟ قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " مَا لَكَ وَلَهَا؟ مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا، تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ" .
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خود یا کسی اور آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ بکری کا حکم پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے پکڑ لو گے یا بھیڑیا لے جاۓ گا“، سائل نے پوچھا: یا رسول اللہ! گمشدہ اونٹ ملے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی ناراض ہوئے، حتیٰ کہ رخسار مبارک سرخ ہو گئے اور فرمایا: ”تمہارا اس کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے پاس مشکیزہ اور جوتے ہیں اور وہ درختوں کے پتے کھا سکتا ہے“، پھر سائل نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر مجھے کسی تھیلی میں چاندی مل جائے تو آپ کیا فرماتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا ظرف، اس کا بندھن اور اس کی تعداد اچھی طرح محفوظ کر کے ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس دوران اس کا مالک آ جاۓ تو اس کے حوالے کر دو، ورنہ وہ تمہاری ہو گئی۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17060]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2427، م: 1722
حدیث نمبر: 17061
قَرَأْتُ عَلَى قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، قَالَ أَبِي: وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى إِثَرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، قَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي قَالَ إِسْحَاقُ، كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَمُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ كَافِرٌ بِي، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ" .
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ رات کے وقت بارش ہوئی، جب صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھا کر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”کیا تم لوگوں نے سنا نہیں کہ تمہارے پروردگار نے آج رات کیا فرمایا؟“ انہوں نے عرض کیا، اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے کچھ لوگ صبح کے وقت مؤمن (اور ستاروں کے منکر، جبکہ لوگ ستاروں پر مؤمن) اور میرے منکر ہوتے ہیں، جو شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہم پر بارش ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان رکھتا اور ستاروں کا انکار کرتا ہے، اور جو یہ کہتا ہے کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے وہ تو ستارے پر ایمان رکھتا ہے اور میرے ساتھ کفر کرتا ہے۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17061]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 846، م: 71
حدیث نمبر: 17062
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ الشَّهَادَةِ مَنْ شَهِدَ بِهَا صَاحِبُهَا قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا" .
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں بہترین گواہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ جو (حق پر) گواہی کی درخواست سے پہلے گواہی دینے کے لیے تیار ہو۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17062]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه على وهم فيه، فقول عبدالرحمن بن إسحاق: «عن محمد بن أبى بكر وعبدالرحمن بن عمرو» وهم، والصواب: عبدالله بن أبى بكر، وعبدالله بن عمرو وأسقط عبدالرحمن بن إسحاق الواسطة بين عبدالله بن عمرو و زيد بن خالد