🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

596. حَدِيثُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17948
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَيْتَنِي أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ. قَالَ: فَلَمَّا كَانَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، مِنْهُمْ عُمَرُ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مُتَضَمِّخًا بِطِيبٍ، قَالَ: فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ؟ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ سَكَتَ، فَجَاءَهُ الْوَحْيُ فَأَشَارَ عُمَرُ إِلَى يَعْلَى أَنْ تَعَالَ، فَجَاءَ يَعْلَى، فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغُطَّ كَذَلِكَ سَاعَةً، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ:" أَيْنَ الَّذِي سَأَلَنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا". فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ، فَأُتِيَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ، مَرَّاتٍ، وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا، ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجَّتِكَ" .
صفوان بن یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت یعلی رضی اللہ عنہ، سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے کہ کاش! میں نبی صلی اللہ علیہ کو نزول وحی کی کیفیت میں دیکھ پاتا، ایک مرتبہ وہ جعرانہ میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر ایک کپڑا تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیا گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ تھے جن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ اسی دوران ایک آدمی آیا جس نے ایک جبہ پہن رکھا تھا اور وہ خوشبو سے مہک رہا تھا، اس نے آکر پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے بارے آپ کی کیا رائے ہے جس نے اچھی طرح خوشبو لگانے کے بعد ایک جبہ میں عمرہ کا احرام باندھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لمحے کے لئے سوچا پھر خاموش ہوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کو اشارہ سے بلایا، وہ آئے اور اپنا سر خیمے میں داخل کردیا، دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا روئے انور سرخ ہو رہا ہے، کچھ دیر تک اسی طرح سانس کی آواز آتی رہی، پھر وہ کیفیت ختم ہوگئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص کہاں گیا جس نے ابھی مجھ سے عمرہ کے متعلق پوچھا تھا؟ اس آدمی کو تلاش کر کے لایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے جو خوشبو لگا رکھی ہے، اسے تین مرتبہ دھو لو، جبہ اتار دو اور اپنے عمرے کے ارکان اسی طرح ادا کرو، جس طرح حج کے ارکان ادا کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17948]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1536، م:1180
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17949
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَاتَلَ أَجِيرِي رَجُلًا، فَعَضَّ يَدَهُ، فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَهُ، وَقَالَ: " فَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ!" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے مزدور (کرایہ دار) کی ایک آدمی سے لڑائی ہوگئی، اس نے اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے کر کاٹ لیا، اس نے جو اپنے ہاتھ کو کھینچا تو اس کا دانت ٹوٹ کر گیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دعوی باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا تو کیا وہ اپنے ہاتھ کو تمہارے منہ میں ہی رہنے دیتا تاکہ تم اسے سانڈ کی طرح چباتے رہتے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17949]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2973، م:1674
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17950
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَتَتْكَ رُسُلِي فَأَعْطِهِمْ أَوْ قَالَ: فَادْفَعْ إِلَيْهِمْ ثَلَاثِينَ دِرْعًا، وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا أَوْ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ". فَقَالَ لَهُ: الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب میرے قاصد تمہارے پاس آئیں تو تم انہیں تیس زرہیں اور تیس اونٹ دے دینا (یا اس سے کم تعداد فرمائی)، انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا یہ عاریۃ ہیں جنہیں واپس لوٹا دیا جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں!۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17950]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17951
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَتِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ بَعْضِ بَنِي يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ، قَالَ يَعْلَى: وَكُنْتُ مِمَّا يَلِي البيتَ، فَلَمَّا بَلَغْتُ الرُّكْنَ الْغَرْبِيَّ الَّذِي يَلِي الْأَسْوَدَ، وَحَدَرْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ لِأَسْتَلِمَ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قُلْتُ: أَلَا تَسْتَلِمُ هَذَيْنِ؟ قَالَ: " أَلَمْ تَطُفْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" فَقُلْتُ: بَلَى. قَالَ:" أَرَأَيْتَهُ يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنين؟" يَعْنِي الْغَرْبِيَّيْنِ، قُلْتُ: لَا. قَالَ:" أَفَلَيْسَ لَكَ فِيهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟" قُلْتُ: بَلَى. قَالَ:" فَانْفُذْ عَنْكَ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا، میں بیت اللہ کے قریب تھا، جب میں حجر اسود کے ساتھ مغربی کونے پر پہنچا اور استلام کرنے کے لئے اپنے ہاتھ کو اٹھایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا کر رہے ہو؟ میں نے کہا کیا آپ ان دونوں کونوں کا استلام نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طواف نہیں کیا؟ میں نے کہا کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں مغربی کونوں کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ میں نے کہا نہیں، انہوں نے فرمایا تو کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں تمہارے لئے اسوہ حسنہ نہیں ہے؟ میں نے کہا کیوں نہیں؟ انہوں نے فرمایا تو پھر اسے ختم کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17951]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وجهالة بعض بني يعلى بن أمية لا تضر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17952
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى ، عَنْ يَعْلَى ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَبِعًا بِرِدَاءٍ حَضْرَمِيٍّ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موت کی چادر سے اضطباع کرتے ہوئے (حالت احرام میں دائیں کندھے سے کپڑا ہٹائے ہوئے) دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17952]

حکم دارالسلام: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17953
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ عَمَّيْهِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، وَسَلَمَةَ بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، مَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا، فَاقْتَتَلَ هُوَ وَرَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَعَضَّ ذَلِكَ الرَّجُلُ بِذِرَاعِهِ، فَاجْتَبَذَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ، فَطَرَحَ ثَنِيَّتَهُ، فَذَهَبَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ الْعَقْلَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ يَعَضُّهُ عَضِيضَ الْفَحْلِ، ثُمَّ يَأْتِي يَلْتَمِسُ الْعَقْلَ؟! لَا دِيَةَ لَكَ". قَالَ: فَأَطَلَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَأَبْطَلَهَا ..
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ غزوہ تبوک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، راستے میں میرے مزدور (کرایہ دار) کی ایک آدمی سے لڑائی ہوگئی، اس نے اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے کر کاٹ لیا، اس نے جو اپنے ہاتھ کو کھینچا تو اس کا دانت ٹوٹ کر گرگیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دعوی باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا تو کیا وہ اپنے ہاتھ کو تمہارے منہ میں ہی رہنے دیتا تاکہ تم اسے سانڈ کی طرح چباتے رہتے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17953]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2973، م: 1647، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17954
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ يَعْلَى ، عَنْ يَعْلَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ فِي الَّذِي يُعَضُّ أَحَدُهُمَا.

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2973، م: 1674
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17955
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ الْبَلْخِيُّ أَبُو حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ بَعْضِ بَنِي يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَبِعًا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ بِبُرْدٍ لَهُ نَجْرَانِيٍّ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نجران کی چادر سے صفا مروہ کے درمیان اضطباع کرتے ہوئے (حالت احرام میں دائیں کندھے سے کپڑا ہٹائے ہوئے) دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17955]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عمر بن هارون متروك الحديث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17956
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ مُضْطَبِعٌ بِبُرْدٍ لَهُ حَضْرَمِيٍّ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نجران کی چادر سے صفا مروہ کے درمیان اضطباع کرتے ہوئے (حالت احرام میں دائیں کندھے سے کپڑا ہٹائے ہوئے) دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17956]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، إسناد منقطع، ابن جريج لم يسمعه من ابن يعلى، وقد دلسه عنه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17957
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ طَلْحَةَ أَبُو نَصْرٍ الْحَضْرَمِيُّ أَوْ الْخُشَنِيُّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنِي فِي سَرَايَا، فَبَعَثَنِي ذَاتَ يَوْمٍ فِي سَرِيَّةٍ، وَكَانَ رَجُلٌ يَرْكَبُ بَغْلًا، فَقُلْتُ لَهُ: أَرْحِلْ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ بَعَثَنِي فِي سَرِيَّةٍ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِخَارِجٍ مَعَكَ. قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَ: حَتَّى تَجْعَلَ لِي ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ، قُلْتُ: الْآنَ حَيْثُ وَدَّعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَنَا بِرَاجِعٍ إِلَيْهِ، أَرْحِلْ وَلَكَ ثَلَاثَةُ دَنَانِيرَ. فَلَمَّا رَجَعْتُ مِنْ غَزَاتِي ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَيْسَ لَهُ مِنْ غَزَاتِهِ هَذِهِ، وَمِنْ دُنْيَاهُ، وَمِنْ آخِرَتِهِ، إِلَّا ثَلَاثَةُ الدَّنَانِيرِ" .
حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سرایا میں بھیجتے رہتے تھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک سریہ پر روانہ فرمایا: ایک شخص میری سواری پر سوار ہوتا تھا، میں نے اسے ساتھ چلنے کے لئے کہا، اس نے کہا کہ میں تمہارے ساتھ نہیں جاسکتا، میں نے پوچھا کیوں؟ تو اس نے کہا کہ پہلے مجھے تین دینار دینے کا وعدہ کرو، میں نے کہا کہ اب تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہو کر آگیا ہوں اس لئے اب ان کے پاس واپس نہیں جاسکتا، تم چلو، تمہیں تین دینار مل جائیں گے، جب میں جہاد سے واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے اس غزوے اور دنیا و آخرت میں تین دیناروں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17957]

حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، خالد بن دريك لم يسمع من يعلى ابن أمية، وما وقع تصريح بالسماع فإنه لا يصح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں