مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
782. وَمِنْ حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 19152
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَامَ يَخْطُبُ يَوْمَ تُوُفِّيَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَقَالَ: عَلَيْكُمْ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالْوَقَارِ وَالسَّكِينَةِ حَتَّى يَأْتِيَكُمْ أَمِيرٌ، فَإِنَّمَا يَأْتِيكُمْ الْآنَ، ثُمّ قَالَ: اشْفَعُوا لِأَمِيرِكُم، فَإِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ الْعَفْوَ، وَقَالَ: أَمَّا بَعْدُ , فَإِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أُبَايِعُكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَشْتَرِطُ عَلَى: " النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ" فَبَايَعْتُهُ عَلَى هَذَا، وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ إِنِّي لَكُمْ لَنَاصِحٌ جَمِيعًا. ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَنَزَلَ .
زیاد بن علاقہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس دن حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم اللہ سے ڈرتے رہو اور جب تک تمہارا دوسرا امیر نہیں آجاتا اس وقت تک وقار اور سکون کو لازم پکڑو کیونکہ تمہارا امیرآتاہی ہوگا پھر فرمایا اپنے امیر کے سامنے سفارش کردیا کرو کیونکہ وہ درگذر کرنے کو پسند کرتا ہے اور امابعد " کہہ کر فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے ہر مسلمان کی خیرخواہی کی شرط رکھی میں نے اس شرط پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرلی اس مسجد کے رب کی قسم! میں تم سب کا خیرخواہ ہوں، پھر وہ استغفار پڑھتے ہوئے نیچے اترآئے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19152]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 58، م: 56
حدیث نمبر: 19153
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اشْتَرِطْ عَلَيَّ، فَقَالَ: " تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُصَلِّي الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَنْصَحُ لِلْمُسْلِمِ، وَتَبْرَأُ مِنَ الْكَافِرِ" .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبول اسلام کے وقت میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کوئی شرط ہو تو وہ مجھے بتادیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ فرض نماز پڑھو، فرض زکوٰۃ ادا کرو ہر مسلمان کی خیرخواہی کرو اور کافر سے بیزاری ظاہر کرو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19153]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 58، م: 56، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى وائل
حدیث نمبر: 19154
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ طَارِقٍ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِنِسَاءٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ" .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کے پاس سے گذرے تو انہیں سلام کیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19154]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، جابر الجعفي ضعيف، وقد اختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 19155
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ أَوْ شِبْلٍ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: الْمُغِيرَةُ بْنُ شُبَيْلٍ، يَعْنِي ابْنَ عَوْفٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ" .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو غلام بھی اپنے آقا کے پاس سے بھاگ جائے کسی پر اس کی ذمہ داری باقی نہیں رہتی ختم ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19155]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، المغيرة بن شبيل لا يدري هل سمع من جرير أم لا؟ لكنه توبع، ثم إنه قد اختلف فيه على حبيب بن ابي ثابت
حدیث نمبر: 19156
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً، كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ" ..
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اسلام میں کوئی اچھاطریقہ رائج کرے تو اسے اس عمل کا اور اس پر بعد میں عمل کرنے والوں کا ثواب بھی ملے گا اور ان کے اجروثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور جو شخص اسلام میں کوئی براطریقہ رائج کرے، اسے اس کا گناہ بھی ہوگا اور اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی ہوگا اور ان گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19156]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1017
حدیث نمبر: 19157
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَوْنَ بْنَ أَبِي جَحْفَةَ ، سمعت الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ الْبَجَلِيِّ ، عَن أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدْرِ النَّهَارِ، فَذَكَرَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ يُصَلِّي، وَقَالَ: كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ.
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1017
حدیث نمبر: 19158
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ، فَدَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ الْإِسْلَامَ وَهُوَ فِي مَسِيرِهِ، فَدَخَلَ خُفُّ بَعِيرِهِ فِي جُحْرِ يَرْبُوعٍ، فَوَقَصَهُ بَعِيرُهُ، فَمَاتَ، فَأَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا" قَالَهَا حَمَّادٌ ثَلَاثًا" اللَّحْدُ لَنَا، وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا" ..
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور اسلام کے حلقے میں داخل ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے احکام اسلام سکھاتے تھے ایک مرتبہ وہ سفر پر جارہا تھا کہ اس کے اونٹ کا کھر کسی جنگلی چوہے کے بل میں داخل ہوگیا اس کے اونٹ نے اسے زور سے نیچے پھینکا اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہوگیا نبی کریم کی خدمت میں اس کا جنازہ لایا گیا تو فرمایا کہ اس نے عمل تو تھوڑا کیا لیکن اجر بہت پایا (حمادنے یہ جملہ تین مرتبہ ذکر کیا) لحد ہمارے لئے ہے اور صندوقی قبر دوسروں کے لئے ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19158]
حکم دارالسلام: حديث حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحجاج
حدیث نمبر: 19159
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الْبَجَلِيُّ ، عَنْ زَاذَانَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام: حديث حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحجاج
حدیث نمبر: 19160
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، قَالَ: قَالَ جَرِيرٌ :" سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفَجْأَةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي" .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نامحرم پر اچانک نظرپڑجانے کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نگاہیں پھیرلیا کروں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19160]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2159
حدیث نمبر: 19161
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أُبَايِعُكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَقَبَضَ يَدَهُ، وَقَالَ:" النُّصْحُ لِكُلِّ مُسْلِمٍ" ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ مَنْ لَمْ يَرْحَمْ النَّاسَ لَمْ يَرْحَمْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبول اسلام کے وقت میں نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! میں اسلام پر بیعت کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ کر فرمایا ہر مسلمان کی خیرخواہی کرو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس پر بھی رحم نہیں کرتا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19161]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 58، م: 56، وهذا إسناد اختلف فيه على سماك بن حرب