🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

950. حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21508
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ مَوْلَى بَنِي لَيْثٍ يُحَدِّثُنَا فِي مَجْلِسِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ جَالِسٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ فِي صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ، فَإِذَا صَرَفَ وَجْهَهُ، انْصَرَفَ عَنْهُ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اس وقت مسلسل اپنے بندے پر دوران نماز متوجہ رہتا ہے جب تک وہ دائیں بائیں نہ دیکھے لیکن جب وہ اپنا چہرہ پھیر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنا چہرہ پھیر لیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21508]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21509
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ ، وَأَبِي الْمُثَنَّى ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ ، قَالَ: بَايَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا، وأَوْثَقَنِي سَبْعًا، وَأَشْهَدَ عَلَيَّ تِسْعًا، أَنْ لَا أَخَافَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ"، قَالَ أَبُو الْمُثَنَّى: قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " هَلْ لَكَ إِلَى بَيْعَةٍ، وَلَكَ الْجَنَّةُ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، وَبَسَطْتُ يَدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَشْتَرِطُ عَلَيَّ:" أَنْ لَا تَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" وَلَا سَوْطَكَ إِنْ يَسْقُطَ مِنْكَ، حَتَّى تَنْزِلَ إِلَيْهِ فَتَأْخُذَهُ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ چیزوں کی مجھ سے بیعت لی سات چیزوں کا مجھ سے میثاق لیا ہے اور نو چیزوں پر اللہ کو گواہ بنایا ہے کہ میں اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کروں گا ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا کیا تم میری بیعت کرتے ہو؟ جس کے بدلے میں تمہیں جنت مل جائے میں نے اثبات میں جواب دے کر ہاتھ پھیلا دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط لگاتے ہوئے فرمایا کہ تم کسی سے کچھ نہیں مانگو گے میں نے اثبات میں جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا کوڑا گرجائے تو وہ بھی کسی سے نہ مانگنا بلکہ خود سواری سے اتر کر اسے پکڑ لینا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21509]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أبى اليمان وأبي المثني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21510
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، يَرُدُّهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَعِشْرِينَ، قَالَ: " إِنَّا قَائِمُونَ اللَّيْلَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَقُومَ فَلْيَقُمْ وَهِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، فَصَلَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَاعَةً بَعْدَ الْعَتَمَةِ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ لَمْ يُصَلِّ شَيْئًا وَلَمْ يَقُمْ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ قَامَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ يَوْمَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ، فَقَالَ: إِنَّا قَائِمُونَ اللَّيْلَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يَعْنِي لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَقُمْ" فَصَلَّى بِالنَّاسِ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ سِتٍّ وَعِشْرِينَ لَمْ يَقُلْ شَيْئًا وَلَمْ يَقُمْ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ سِتٍّ وَعِشْرِينَ قَامَ فَقَالَ:" إِنَّا قَائِمُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يَعْنِي لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَقُومَ فَلْيَقُمْ"، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَتَجَلَّدْنَا لِلْقِيَامِ فَصَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى قُبَّتِهِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنْ كُنَّا لَقَدْ طَمِعْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَقُومَ بِنَا حَتَّى تُصْبِحَ، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّكَ إِذَا صَلَّيْتَ مَعَ إِمَامِكَ وَانْصَرَفْتَ إِذَا انْصَرَفَ، كُتِبَ لَكَ قُنُوتُ لَيْلَتِكَ" ..
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ماہ رمضان کے روزے رکھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا مہینہ ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا جب ٢٤ ویں شب ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ قیام فرمایا حتی کہ تہائی رات ختم ہونے کے قریب ہوگئی جب اگلی رات آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر قیام نہیں فرمایا اور ٢٦ ویں شب کو ہمارے ساتھ اتنا لمباقیام فرمایا کہ نصف رات ختم ہونے کے قریب ہوگئی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر رات کے باقی حصے میں بھی آپ ہمیں نوافل پڑھاتے رہتے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جب کوئی شخص امام کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور فراغت تک شامل رہتا ہے تو اسے ساری رات قیام میں ہی شمار کیا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21510]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، شريح بن عبيد لم يدرك أبا ذر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21511
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَجَدتُ هَذَا الحَدِيثُ فِي كِتَابُ أُبَي بخط يَده حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ ، عَنْ الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا، وَشَاتَانِ تَعْتَلِفَان، فَنَطَحَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، فَأَجْهَضَتْهَا، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " عَجِبْتُ لَهَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيُقَادَنَّ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو بکریوں کو آپس میں ایک دوسرے سے سینگوں کے ساتھ ٹکراتے ہوئے دیکھا کہ ان میں سے ایک نے دوسری کو عاجز کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا مجھے اس بکری پر تعجب ہو رہا ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن اس سے اس کا بدلہ لیا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21511]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21512
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا كَثِيرٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " كَلِمَاتٌ مَنْ ذَكَرَهُنَّ مِئَةَ مَرَّةٍ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ اللَّهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ لَوْ كَانَتْ خَطَايَاهُ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ لَمَحَتْهُنَّ" ، قَالَ أَبُو عَبْدُ الرَّحْمَنُ، قَالَ أَبِي لَمْ يَرْفَعْهُ.
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کچھ کلمات ایسے ہیں جنہیں اگر کوئی شخص ہر نماز کے بعد سو مرتبہ کہہ لے یعنی اللہ اکبر سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ اور لہ حول ولاقوۃ الاباللہ پھر اگر اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں تو یہ کلمات انہیں مٹا دیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21512]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة وجهالة أبى كثير، وحيي فيه كلام
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21513
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حُجَيْرَةَ الشَّيْخَ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي مَنْ ، سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ: نَاجَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمِّرْنِي، فَقَالَ: " إِنَّهَا أَمَانَةٌ، وَخِزْيٌ وَنَدَامَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے رات سے صبح تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سرگوشیوں میں گفتگو کی پھر عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کسی علاقے کا گورنر بنا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو ایک امانت ہے جو قیامت کے دن رسوائی اور ندامت کا سبب ہوگی سوائے اس شخص کے جو اسے اس کے حق کے ساتھ لے اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21513]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1825، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21514
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ أَبَا سَالِمٍ الْجَيْشَانِيَّ أَتَى أَبَا أُمَيَّةَ فِي مَنْزِلِهِ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ صَاحِبَهُ فَلْيَأْتِهِ فِي مَنْزِلِهِ فَلْيُخْبِرْهُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَدْ أَحْبَبْتُكَ فَجِئْتُكَ فِي مَنْزِلِكَ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی ساتھی سے محبت کرتا ہو تو اسے چاہئے کہ اس کے گھر جائے اور اسے بتائے کہ وہ اس سے اللہ کے لئے محبت کرتا ہے اور اے ابو ذر! میں اسی وجہ سے تمہارے گھر آیا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21514]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، يزيد بن أبى حبيب إن كان ثقة، لكنه قد كان يرسل، ولم يبين هنا عمن رواه، وابن لهيعة سيئ الحفظ، وقد تفرد فى هذا الحديث بقوله: فليأته إلى منزله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21515
حَدَّثَنَا عَبْد الله بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ لَاءَمَكُمْ مِنْ خَدَمِكُمْ فَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ، وَمَنْ لَا يُلَائِمُكُمْ مِنْ خَدَمِكُمْ، فَبِيعُوا وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللَّهِ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جس کا خادم اس کے موافق آجائے تو تم جو خود کھاتے ہو وہی اسے کھلاؤ اور جو خود پہنتے ہو وہی اسے بھی پہناؤ اور جو تمہارے موافق نہ آئے اسے بیچ دو اور اللہ کی مخلوق کو عذاب میں مبتلا نہ کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21515]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره بهذه السياقة، وهذا الإسناد منقطع، مورق العجلي لم يسمع من أبى ذر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21516
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ هُوَ ابْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ، وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ، أَطَّتْ السَّمَاءُ وَحَقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ، مَا فِيهَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ سَاجِدٌ، لَوْ عَلِمْتُمْ مَا أَعْلَمُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَلَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشَاتِ، وَلَخَرَجْتُمْ عَلَى أَوْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ"، قَالَ: فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي شَجَرَةٌ تُعْضَدُ .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے، آسمان چرچرانے لگے اور ان کا حق بھی ہے کہ وہ چرچرائیں کیونکہ آسمان میں چار انگل کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں ہے جس پر کوئی فرشتہ سجدہ ریز نہ ہو اگر تمہیں وہ باتیں معلوم ہوتیں جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہوسکتے اور پہاڑوں کی طرف نکل جاتے تاکہ اللہ کی پناہ میں آجاؤ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کاش! میں کوئی درخت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21516]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، مورق لم يسمع من أبى ذر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21517
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ الْمَدَنِيُّ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ مَوْلَى غُفْرَةَ ، عَنِ ابْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَوْصَانِي حِبِّي بِخَمْسٍ أَرْحَمُ الْمَسَاكِينَ وَأُجَالِسُهُمْ، وَأَنْظُرُ إِلَى مَنْ هُوَ تَحْتِي، وَلَا أَنْظُرُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي، وَأَنْ أَصِلَ الرَّحِمَ وَإِنْ أَدْبَرَتْ، وَأَنْ أَقُولَ بِالْحَقِّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا، وَأَنْ أَقُولَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"، يَقُولُ مَوْلَى غُفْرَةَ لَا أَعْلَمُ بَقِيَ فِينَا مِنَ الْخَمْسِ إِلَّا هَذِهِ قَوْلُنَا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنَ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى، وقَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ چیزوں کا حکم دیا ہے انہوں نے مجھے حکم دیا ہے مساکین سے محبت کرنے اور ان سے قریب رہنے کا اپنے سے نیچے والے کو دیکھنے اور اوپر والے کو نہ دیکھنے کا، صلہ رحمی کرنے کا گو کہ کوئی اسے توڑ ہی دے کسی سے کچھ نہ مانگنے کا، حق بات کہنے کا خواہ وہ تلخ ہی ہو، اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے کا اور لاحول ولاقوۃ الا باللہ کی کثرت کا کیونکہ یہ کلمات عرش کے نیچے ایک خزانے سے آئے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21517]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عمر مولي غفرة ضعيف كثير الارسال
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں