مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1049. حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23330
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ ابنِ أَبي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِب وَالْعِشَاءَ، ثُمَّ تَبعْتُهُ وَهُوَ يُرِيدُ يَدْخُلُ بعْضَ حُجَرِهِ، فَقَامَ وَأَنَا خَلْفَهُ، كَأَنَّهُ يُكَلِّمُ أَحَدًا، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" مَنْ هَذَا؟"، قُلْتُ: حُذَيْفَةُ، قَالَ:" أَتَدْرِي مَنْ كَانَ مَعِي؟"، قُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَإِنَّ جِبرِيلَ جَاءَ يُبشِّرُنِي أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَباب أَهْلِ الْجَنَّةِ"، قَالَ: فَقَالَ حُذَيْفَةُ: فَاسْتَغْفِرْ لِي وَلِأُمِّي، قَالَ:" غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا حُذَيْفَةُ، وَلِأُمِّكَ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے ہمراہ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی پھر ان کے پیچھے ہولیا راستے میں کوئی آدمی مل گیا جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باتیں کرنے لگے جب وہ چلا گیا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آواز سن لی اور پوچھا کون ہے؟ میں نے عرض کیا حذیفہ ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے؟ میں نے سارا واقعہ بتایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تمہیں اور تمہاری والدہ کو معاف فرمائے۔ پھر فرمایا کہ کیا تم نے اس شخص کو کبھی زمین پر دیکھا تھا جو ابھی کچھ دیر پہلے مجھے ملا تھا؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ایک فرشتہ تھا جو آج رات سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا تھا، اس نے پروردگار سے اس بات کی اجازت لی تھی کہ مجھے سلام کرنے کے لئے حاضر ہو اور یہ خوشخبری دے کہ حسن اور حسین جو انان جنت کے سردار ہیں اور فاطمہ خواتین جنت کی سردار ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23330]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، لا يعرف سماع الشعبي من حذيفة
حدیث نمبر: 23331
حَدَّثَنَا أَبو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ، قَالُوا: هَذَا مُبلِّغُ الْأُمَرَاءِ، قَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ قَتَّاتٌ الْجَنَّةَ" .
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغلخور جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23331]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
حدیث نمبر: 23332
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بنِ بهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُتِيتُ بالْبرَاقِ وَهُوَ دَابةٌ أَبيَضُ طَوِيلٌ، يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ، فَلَمْ نُزَايِلْ ظَهْرَهُ أَنَا وَجِبرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام حَتَّى أَتَيْتُ بيْتَ الْمَقْدِسِ، فَفُتِحَتْ لَنَا أَبوَاب السَّمَاءِ وَرَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ" . قَالَ حُذَيْفَةُ بنُ الْيَمَانِ: وَلَمْ يُصَلِّ فِي بيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ زِرٌّ: فَقُلْتُ لَهُ: بلَى، قَدْ صَلَّى، قَالَ حُذَيْفَةُ: مَا اسْمُكَ يَا أَصْلَعُ؟ فَإِنِّي أَعْرِفُ وَجْهَكَ، وَلَا أَعْرِفُ اسْمَكَ؟ فَقُلْتُ: أَنَا زِرُّ بنُ حُبيْشٍ، قَالَ: وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهُ قَدْ صَلَّى؟ قَالَ: فَقُلْتُ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ سورة الإسراء آية 1، فقَالَ: َهَلْ تَجِدُهُ صَلَّى؟ لَوْ صَلَّى لَصَلَّيْتُمْ فِيهِ كَمَا تُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، قَالَ زِرٌّ: وَرَبطَ الدَّابةَ بالْحَلَقَةِ الَّتِي يَرْبطُ بهَا الْأَنْبيَاءُ عَلَيْهِمْ السَّلَام، فقَالَ حُذَيْفَةُ: أَو َكَانَ يَخَافُ أَنْ تَذْهَب مِنْهُ وَقَدْ آتَاهُ اللَّهُ بهَا؟..
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ شب معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ذکر کرنے لگے کہ پھر ہم وہاں سے چل کر بیت المقدس پہنچے لیکن بیت المقدس میں داخل نہیں ہوئے " میں نے کہا کہ اس رات تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس میں داخل بھی ہوئے تھے اور وہاں پر نماز پھی پڑھی تھی یہ سن کر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے گنجے! تمہارا کیا نام ہے؟ میں تمہیں چہرے سے پہچاتا ہوں لیکن نام یاد نہیں ہے میں نے عرض کیا کہ میرا نام زر بن حبیش ہے انہوں نے فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اس رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز پڑھی تھی؟ میں نے کہا کہ قرآن بتاتا ہے انہوں نے فرمایا کہ قرآن سے بات کرنے والا کامیاب ہوتا ہے تم وہ آیت پڑھ کر سناؤ اب جو میں نے " سبحان الذی اسری بعبدہ " پڑھی تو اس میں یہ کہیں نہ ملا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات بیت المقدس میں نماز بھی پڑھی تھی، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے ارے گنجے! کیا تمہیں اس میں نماز پڑھنے کا ذکر ملتا ہے؟ میں نے کہا نہیں انہوں نے فرمایا بخدا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات بیت المقدس میں نماز نہیں پڑھی تھی اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس میں نماز پڑھ لیتے تو تم پر بھی وہاں نماز پڑھنا فرض ہوجاتا جیسے بیت اللہ میں ہوا بخدا! وہ دونوں براق سے جدا نہیں ہوئے تاآنکہ ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے۔پھر ان دونوں نے جنت اور جہنم کو دیکھا اور آخرت کے سارے وعدہ دیکھے پھر وہ دونوں اسی طرح واپس آگئے جیسے گئے تھے پھر وہ ہنسنے لگے یہاں تک کہ ان کے دندان مبارک میں نے دیکھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے براق کو باندھ دیا تھا تاکہ وہ بھاگ نہ جائے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو سارا عالم غیب و شہود ان کے تابع کردیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23332]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23333
حَدَّثَنَا حَسَنُ بنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بنُ بهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُتِيتُ بالْبرَاقِ"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ يَعْنِي هَذَا الْحَدِيثَ: وَرَأَيَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، وقَالَ عَفَّانُ : وَفُتِحَتْ لَهُمَا أَبوَاب السَّمَاءِ، وَرَأَى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23333]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23334
حَدَّثَنَا يَعْقُوب ، حَدَّثَنَا أَبي ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بنُ زِيَادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ كَعْب الْقُرَظِيِّ ، قَالَ: قَالَ فَتًى مِنَّا مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ لِحُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ: يَا أَبا عَبدِ اللَّهِ، رَأَيْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَحِبتُمُوهُ؟ قَالَ: نَعَمْ يَا ابنَ أَخِي، قَالَ: فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ؟ قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ كُنَّا نَجْهَدُ، قَالَ: وَاللَّهِ لَوْ أَدْرَكْنَاهُ مَا تَرَكْنَاهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ، وَلَجَعَلْنَاهُ عَلَى أَعْنَاقِنَا، قَالَ: فَقَالَ حُذَيْفَةُ : يَا ابنَ أَخِي، وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالْخَنْدَقِ، وَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ هَوِيًّا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: " مَنْ رَجُلٌ يَقُومُ فَيَنْظُرَ لَنَا مَا فَعَلَ الْقَوْمُ يَشْتَرِطُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَرْجِعُ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ"، فَمَا قَامَ رَجُلٌ، ثُمَّ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَقَالَ:" مَنْ رَجُلٌ يَقُومُ فَيَنْظُرَ لَنَا مَا فَعَلَ الْقَوْمُ، ثُمَّ يَرْجِعُ يَشْرِطُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجْعَةَ، أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَكُونَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ"، فَمَا قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ مَعَ شِدَّةِ الْخَوْفِ وَشِدَّةِ الْجُوعِ وَشِدَّةِ الْبرْدِ، فَلَمَّا لَمْ يَقُمْ أَحَدٌ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَكُنْ لِي بدٌّ مِنَ الْقِيَامِ حِينَ دَعَانِي، فَقَالَ:" يَا حُذَيْفَةُ، فَاذْهَب فَادْخُلْ فِي الْقَوْمِ، فَانْظُرْ مَا يَفْعَلُونَ، وَلَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنَا"، قَالَ: فَذَهَبتُ فَدَخَلْتُ فِي الْقَوْمِ، وَالرِّيحُ وَجُنُودُ اللَّهِ تَفْعَلُ مَا تَفْعَلُ، لَا تَقِرُّ لَهُمْ قِدْرٌ وَلَا نَارٌ وَلَا بنَاءٌ، فَقَامَ أَبو سُفْيَانَ بنُ حَرْب، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، لِيَنْظُرْ امْرُؤٌ مَنْ جَلِيسُهُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: فَأَخَذْتُ بيَدِ الرَّجُلِ الَّذِي إِلَى جَنْبي، فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا فُلَانُ بنُ فُلَانٍ، ثُمَّ قَالَ أَبو سُفْيَانَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، إِنَّكُمْ وَاللَّهِ مَا أَصْبحْتُمْ بدَارِ مُقَامٍ، لَقَدْ هَلَكَ الْكُرَاعُ، وَأَخْلَفَتْنَا بنُو قُرَيْظَةَ، بلَغَنَا مِنْهُمْ الَّذِي نَكْرَهُ، وَلَقِينَا مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ مَا تَرَوْنَ، وَاللَّهِ مَا تَطْمَئِنُّ لَنَا قِدْرٌ، وَلَا تَقُومُ لَنَا نَارٌ، وَلَا يَسْتَمْسِكُ لَنَا بنَاءٌ، فَارْتَحِلُوا فَإِنِّي مُرْتَحِلٌ، ثُمَّ قَامَ إِلَى جَمَلِهِ وَهُوَ مَعْقُولٌ فَجَلَسَ عَلَيْهِ، ثُمَّ ضَرَبهُ فَوَثَب عَلَى ثَلَاثٍ، فَمَا أَطْلَقَ عِقَالَهُ إِلَّا وَهُوَ قَائِمٌ، وَلَوْلَا عَهْدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي"، وَلَوْ شِئْتُ لَقَتَلْتُهُ بسَهْمٍ، قَالَ حُذَيْفَةُ: ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي مِرْطٍ لِبعْضِ نِسَائِهِ مُرَحَّلٍ، فَلَمَّا رَآنِي أَدْخَلَنِي إِلَى رَحْلِهِ، وَطَرَحَ عَلَيَّ طَرَفَ الْمِرْطِ، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ وَإِنَّهُ لَفِيهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَخْبرْتُهُ الْخَبرَ، وَسَمِعَتْ غَطَفَانُ بمَا فَعَلَتْ قُرَيْشٌ، وَانْشَمَرُوا إِلَى بلَادِهِمْ .
محمد بن کعب قرظی (رح) سے مروی ہے کہ ہم اہل کوفہ میں سے ایک نوجوان نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے ابو عبداللہ! کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اور شرف صحبت حاصل کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں بھتیجے! سائل نے پوچھا کہ آپ لوگ کیا کرتے تھے؟ فرمایا ہم اپنے آپ کو مشقت میں ڈال دیتے تھے سائل نے کہا بخدا! اگر ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پالیتے تو انہیں زمین پر نہ چلنے دیتے بلکہ اپنی گردنوں پر بٹھا لیتے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھتیجے! بخدا! ہم نے غزوہ خندق کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ دیکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی تاریکی میں عشاء کی نماز پڑھائی اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کون آدمی جا کر دشمنوں کے حالات کا جائزہ لے کر آئے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وعدہ کیا کہ اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا لیکن کوئی کھڑا نہ ہوا رات کا کچھ حصہ گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ نماز پڑھائی پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر وہی اعلان کیا اور اس مرتبہ فرمایا کہ وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا پھر بھی شدت خوف بھوک اور سردی کی شدت سے کوئی بھی کھڑا نہ ہوا۔ جب کوئی بھی کھڑا نہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اس وقت میرے لئے کھڑے ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ رضی اللہ عنہ تم جاؤ اور دیکھو کہ دشمن کے کیا حالات ہیں اور واپس ہمارے پاس آنے تک کوئی نیا کام نہ کرنا چناچہ میں چلا گیا اور دشمن کے لشکر میں گھس گیا جہاں ہوائیں اور اللہ کے لشکر اپنے کام کر رہے تھے اور ان کی کوئی ہنڈیا آگ اور خیمہ ٹھہر نہیں پا رہا تھا یہ دیکھ کر ابو سفیان بن حرب کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے گروہ قریش ہر آدمی دیکھ لے کہ اس کے ساتھ کون بیٹھا ہے؟ (کہیں کوئی جاسوس نہ ہو) اس پر میں نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک آدمی کا ہاتھ پکڑا اور اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس نے بتایا میں فلاں بن فلاں ہوں پھر ابو سفیان کہنے لگا اے گروہ قریش بخدا! اس جگہ تمہارے لئے مزید ٹھہرنا اب ممکن نہیں رہا مویشی ہلاک ہو رہے ہیں بنوقریظہ نے بھی ہم سے وعدہ خلافی کی ہے اور ہمیں ان کی طرف سے ناپسندیدہ حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس ہوا سے جو حالات پیدا ہوگئے ہیں وہ تم دیکھ ہی رہے ہو کہ کوئی ہانڈی ٹھہر نہیں پا رہی آگ جل نہیں رہی اور خیمے اپنے جگہ کھڑے نہیں رہے پا رہے اس لئے میری رائے تو یہ ہے کہ تم لوگ واپس روانہ ہوجاؤ اور میں تو واپس جا رہا ہو، یہ کہہ کر اپنے گھوڑے کی طرف چل پڑا جو رسی سے باندھا گیا تھا اور اس پر سوار ہو کر ایڑ لگا دی وہ تین مرتبہ اچھلا لیکن جب اس نے رسی چھوڑی تو وہ کھڑا ہوگیا اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت نہ کی ہوتی کہ کوئی نیا کام نہ کرنا جب تک میرے پاس واپس نہ آجاؤ پھر میں چاہتا تو اپنا تیر مار کر اسے قتل کرسکتا تھا، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس روانہ ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنی کسی زوجہ محترمہ کی بالوں سے بنی ہوئی چادر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے مجھے دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خیمے میں ہی بلا لیا اور چادر کا ایک کونا مجھ پر ڈال دیا پھر رکوع اور سجدہ کیا جب کہ میں خیمے ہی میں رہا جب سلام پھیر چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری بات بتادی اور بنو غطفان کو جب پتہ چلا کہ قریش نے کیا کیا ہے تو وہ اپنے علاقے میں ہی واپس لوٹ گئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23334]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لو لا إرساله، محمد بن كعب لم يدرك حذيفة
حدیث نمبر: 23335
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، قَالَ: كُنْتُ فِي جِنَازَةِ حُذَيْفَةَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: سَمِعْتُ هَذَا يَقُولُ: يَعْنِي حُذَيْفَةَ ، يَقُولُ: مَا بي بأْسٌ فيِمَّا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلَئِنْ اقْتَتَلْتُمْ لَأَنْظُرَنَّ أَقْصَى بيْتٍ فِي دَارِي فَلَأَدْخُلَنَّهُ، فَلَئِنْ دُخِلَ عَلَيَّ لَأَقُولَنَّ: هَا، بؤْ بإِثْمِي وَإِثْمِكَ، أَوْ ذَنْبي وَذَنْبكَ" .
ربعی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے چار پائی پر لیٹے ہوئے اس شخص سے سنا ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے مجھے اس میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا کہ اگر تم لوگ لڑنے لگو گے تو میں اپنے گھر میں داخل ہوجاؤں گا اگر کوئی میرے گھر میں بھی آگیا تو میں اسے کہہ دوں گا کہ آؤ اور میرا اور اپنا گناہ لے کر لوٹ جاؤ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23335]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن حذيفة
حدیث نمبر: 23336
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا ابنُ هُبيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ ، يَقُولُ: أَخْبرَنِي سَعِيدٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بنَ الْيَمَانِ ، يَقُولُ: غَاب عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَنْ يَخْرُجَ، فَلَمَّا خَرَجَ سَجَدَ سَجْدَةً، فَظَنَنَّا أَنَّ نَفْسَهُ قَدْ قُبضَتْ فِيهَا، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ، قَالَ: " إِنَّ رَبي تَبارَكَ وَتَعَالَى اسْتَشَارَنِي فِي أُمَّتِي مَاذَا أَفْعَلُ بهِمْ؟ فَقُلْتُ: مَا شِئْتَ أَيْ رَب هُمْ خَلْقُكَ وَعِبادُكَ، فَاسْتَشَارَنِي الثَّانِيَةَ، فَقُلْتُ لَهُ كَذَلِكَ، فَقَالَ: لَا أُحْزِنُكَ فِي أُمَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ، وَبشَّرَنِي أَنَّ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبعُونَ أَلْفًا، مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبعُونَ أَلْفًا، لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَاب، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ: ادْعُ تُجَب، وَسَلْ تُعْطَ، فَقُلْتُ لِرَسُولِهِ: أَوَمُعْطِيَّ رَبي سُؤْلِي؟ فَقَالَ: مَا أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ إِلَّا لِيُعْطِيَكَ، وَلَقَدْ أَعْطَانِي رَبي عَزَّ وَجَلَّ وَلَا فَخْرَ، وَغَفَرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبي وَمَا تَأَخَّرَ، وَأَنَا أَمْشِي حَيًّا صَحِيحًا، وَأَعْطَانِي أَنْ لَا تَجُوعَ أُمَّتِي وَلَا تُغْلَب، وَأَعْطَانِي الْكَوْثَرَ، فَهُوَ نَهْرٌ مِنَ الْجَنَّةِ يَسِيلُ فِي حَوْضِي، وَأَعْطَانِي الْعِزَّ وَالنَّصْرَ وَالرُّعْب يَسْعَى بيْنَ يَدَيْ أُمَّتِي شَهْرًا، وَأَعْطَانِي أَنِّي أَوَّلُ الْأَنْبيَاءِ أَدْخُلُ الْجَنَّةَ، وَطَيَّب لِي وَلِأُمَّتِي الْغَنِيمَةَ، وَأَحَلَّ لَنَا كَثِيرًا مِمَّا شَدَّدَ عَلَى مَنْ قَبلَنَا، وَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْنَا مِنْ حَرَجٍ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں ہی رہے باہر تشریف نہیں لائے اور ہم یہ سمجھنے لگے کہ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نہیں آئیں گے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے تو اتنا طویل سجدہ کیا کہ ہمیں اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح ہی پرواز نہ کرگئی ہو جب سر اٹھایا تو فرمانے لگے کہ میرے رب نے میری امت کے متعلق مجھ سے مشورہ کیا کہ میں ان کے ساتھ کیا سلوک کروں؟ میں نے عرض کیا کہ پروردگار! آپ جو چاہیں وہ آپ کی مخلوق اور آپ کے بندے ہیں پھر دوبارہ مشورہ کیا اور اس نے مجھے بشارت دی کہ میرے ساتھ امت میں سب سے پہلے ستر ہزار افراد جنت میں داخل ہوں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار مزید ہوں گے جن کا کوئی حساب کتاب نہ ہوگا۔ پھر میرے پروردگار نے میرے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ دعاء کیجئے آپ کی دعاء قبول کی جائے گی سوال کیجئے آپ کو عطا کیا جائے گا میں نے قاصد سے پوچھا کہ کیا میرا پروردگار میری درخواست پر مجھے عطا کرے گا؟ قاصد نے جواب دیا کہ اس نے مجھے آپ کے پاس دینے کے ارادے ہی سے بھیجا ہے پھر میرے پروردگار نے مجھے عطاء فرمایا اور میں اس پر فخر نہیں کرتا اس نے میرے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے جبکہ میں زندہ سلامت چل رہا ہوں اس نے میری یہ درخواست قبول کرلی کہ میری امت قحط سالی سے ہلاک نہ ہوگی اور ان پر کوئی غالب نہ آئے گا نیز اس نے مجھے حوض کوثر عطا فرمایا جو کہ جنت کی ایک نہر ہے اور میرے حوض میں آکر گرتی ہے نیز اس نے مجھے عزت، مدد اور رعب عطا فرمایا جو میری امت سے آگے ایک ماہ کی مسافت پر دوڑتا ہے نیز اس نے مجھے یہ سعادت عطا فرمائی کہ جنت میں داخل ہونے والا سب سے پہلا نبی میں ہوں گا میرے اور میری امت کے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا اور بہت سے وہ سخت احکام جو ہم سے پہلے لوگوں پر تھے انہیں ہم پر حلال کردیا اور ہم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23336]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن لهيعة ضعيف، وسعيد الراوي عن حذيفة لم نتبينه
حدیث نمبر: 23337
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنِ ابنِ مَسْعُودٍ ، وَحُصَيْنٌ , عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ أَنْظُرُكُمْ، لَيُرْفَعُ لِي رِجَالٌ مِنْكُمْ حَتَّى إِذَا عَرَفْتُهُمْ، اخْتُلِجُوا دُونِي، فَأَقُولُ: رَب أَصْحَابي أَصْحَابي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بعْدَكَ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوض کوثر پر کچھ آدمی ایسے بھی آئیں گے کہ میں دیکھوں گا جب وہ میرے سامنے پیش ہوں گے انہیں میرے سامنے سے اچک لیا جائے گا میں عرض کروں گا پروردگار! میرے ساتھی ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23337]
حکم دارالسلام: هذا الحديث له سنادان: الاول: اسناده صحيح، والاسناد الثاني: جعله حصين من حديث حذيفة، والمحفوظ انه من حديث ابن مسعود
حدیث نمبر: 23338
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ أَنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنَا أَعْلَمُ بمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنْهُ، إِنَّ مَعَهُ نَارًا تُحْرِقُ، وَقَالَ حُسَيْنٌ مَرَّةً: تَحْرُقُ، وَنَهْرَ مَاءٍ بارِدٍ، فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ فَلَا يَهْلَكَنَّ بهِ، لِيُغْمِضَنَّ عَيْنَيْهِ وَلْيَقَعْ فِي الَّتِي يَرَاهَا نَارًا، فَإِنَّهَا نَهْرُ مَاءٍ بارِدٍ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں یہ بات دجال سے بھی زیادہ جانتا ہوں کہ اس کے ساتھ کیا ہوگا اس کے ساتھ بہتی ہوئی دو نہریں ہوں گی جن میں سے ایک دیکھنے میں سفید پانی کی ہوگی اور دوسری دیکھنے میں بھڑکتی ہوگی اگر تم میں سے کوئی شخص اس دور کو پائے تو اس نہر میں داخل ہوجائے جو اسے آگ نظر آرہی ہو اس میں غوطہ زنی کرے پھر سر جھکا کر اس کا پانی پی لے کیونکہ وہ ٹھنڈا پانی ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23338]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3450، م: 2934
حدیث نمبر: 23339
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابنَ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ ، عَنْ رِبعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي لَقِيتُ بعْضَ أَهْلِ الْكِتَاب، فَقَالَ: نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ! فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ كُنْتُ أَكْرَهُهَا مِنْكُمْ، فَقُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ شَاءَ مُحَمَّدٌ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ بعض اہل کتاب سے میری ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ تم ایک بہترین قوم ہوتے اگر تم یوں نہ کہتے کہ جو اللہ نے چاہا اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ جملہ پہلے کہتے تھے جس سے تمہیں روکتے ہوئے مجھے حیاء مانع ہوجاتی تھی اب یہ کہا کرو کہ جو اللہ نے چاہا پھر جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23339]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد غير محفوظ، والمحفوظ: عبدالملك، عن ربعي عن الطفيل بن سخبرة أخي عائشة