مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1049. حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23310
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَرْفَعُ إِلَى عُثْمَانَ الْأَحَادِيثَ مِنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ" ، يَعْنِي نَمَّامًا.
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغل خور جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23310]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6056، م:105
حدیث نمبر: 23311
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعِدِ بنِ عُبيْدَةَ ، عَنْ صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا مَرَّ بآيَةِ خَوْفٍ تَعَوَّذَ، وَإِذَا مَرَّ بآيَةِ رَحْمَةٍ سَأَلَ، قَالَ: وَكَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ قال: " سُبحَانَ رَبيَ الْعَظِيمِ"، وَإِذَا سَجَدَ قَالَ:" سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم اپنے رکوع میں " سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں " سبحان ربی الاعلیٰ کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23311]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 772، وهذا إسناد متقطع، بين سعد بن عبيدة وصلة بن زفر المستورد بن الأحنف
حدیث نمبر: 23312
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا رَزِينٌ الْجُهَنِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبو الرُّقَادِ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ مَوْلَايَ وَأَنَا غُلَامٌ، فَدُفِعْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ وَهُوَ يَقُولُ: " إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَتَكَلَّمُ بالْكَلِمَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَصِيرُ مُنَافِقًا، وَإِنِّي لَأَسْمَعُهَا مِنْ أَحَدِكُمْ فِي الْمَقْعَدِ الْوَاحِدِ أَرْبعَ مَرَّاتٍ، لَتَأْمُرُنَّ بالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَلَتَحَاضُّنَّ عَلَى الْخَيْرِ، أَوْ لَيُسْحِتَنَّكُمْ اللَّهُ جَمِيعًا بعَذَاب، أَوْ لَيُؤَمِّرَنَّ عَلَيْكُمْ شِرَارَكُمْ، ثُمَّ يَدْعُو خِيَارُكُمْ، فَلَا يُسْتَجَاب لَكُمْ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں بعض اوقات انسان کوئی جملہ بولتا تھا اور اس کی وجہ سے منافق ہوجاتا تھا اور اب ایک ایک مجلس میں اس طرح کے دسیوں کلمات میں روزانہ سنتا ہوں۔ تم لوگ امر بالمعروف کرتے رہو اور نہی عن المنکر کرتے رہو ورنہ اللہ تم پر ایسا عذاب مسلط کر دے گا کہ تم اللہ سے دعائیں کرو گے لیکن تمہاری دعائیں قبول نہ ہوں گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23312]
حکم دارالسلام: أثر حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الرقاد العبسي
حدیث نمبر: 23313
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ حصين ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ يَشُوصُ فَاهُ بالسِّوَاكِ" .
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23313]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1136، م: 255
حدیث نمبر: 23314
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ أَبي غَنِيَّةَ , حَدَّثَنَا أَبي ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَشْرَبوا فِي الذَّهَب وَلَا فِي الْفِضَّةِ، وَلَا تَلْبسُوا الْحَرِيرَ وَالدِّيباجَ، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَهِيَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم و دیبا پہننے سے اور سونے چاندی کے برتن استعمال کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں ہمارے لئے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23314]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5632، م: 2067
حدیث نمبر: 23315
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَدِيِّ بنِ ثَابتٍ ، عَنْ زَيْدِ بنِ وَهْب ، عَنْ ثَابتِ ابنِ وَدِيعَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بنِي فَزَارَةَ أَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بضِباب قَدْ احْتَرَشَهَا، قَالَ: فَجَعَلَ يُقَلِّب ضَبا مِنْهَا بيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: " أُمَّةٌ مُسِخَتْ"، قَالَ: وَأَكْبرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ:" مَا أَدْرِي مَا فَعَلَتْ"، قَالَ:" وَمَا أَدْرِي لَعَلَّ هَذَا مِنْهَا" ، وقَالَ شُعْبةُ: وسَمِعْتُهُ، وقَالَ حُصَيْنٌ : عَنْ زَيْدِ بنِ وَهْب ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: وَذَكَرَ شَيْئًا نَحْوًا مِنْ هَذَا، قَالَ: فَلَمْ يَأْمُرْ بهِ، وَلَمْ يَنْهَ أَحَدًا.
حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی چند عدد گوہ شکار کر کے لایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک گوہ کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور فرمایا کہ ایک امت کی شکلیں مسخ کردی تھیں مجھے معلوم نہیں کہ شاید یہ وہی ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23315]
حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان
حدیث نمبر: 23316
حَدَّثَنَا أَبو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَمْرُو بنُ صُلَيْعٍ حَتَّى أَتَيْنَا حُذَيْفَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ مُضَرَ لَا تَدَعُ لِلَّهِ فِي الْأَرْضِ عَبدًا صَالِحًا إِلَّا أفَتَنَتْهُ وَأَهْلَكَتْهُ، حَتَّى يُدْرِكَهَا اللَّهُ بجُنُودٍ مِنْ عِبادِهِ، فَيُذِلَّهَا حَتَّى لَا تَمْنَعَ ذَنَب تَلْعَةٍ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قبیلہ مضر زمین پر اللہ کا کوئی نیک بندہ ایسا نہیں چھوڑے گا جسے وہ فتنے میں نہ ڈال دے اور اسے ہلاک نہ کر دے حتی کہ اللہ اس پر اپنا ایک لشکر مسلط کر دے گا جو اسے ذلیل کر دے گا اور اسے کسی ٹیلے کا دامن بھی نہ بچاسکے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23316]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23317
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بيْنَ حَوْضِي كَمَا بيْنَ أَيْلَةَ وَمُضَرَ، آنِيَتُهُ أَكْثَرُ، أَوْ قَالَ: مِثْلُ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ، مَاؤُهُ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَشَدُّ بيَاضًا مِنَ اللَّبنِ، وَأَبرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَطْيَب مِنَ الْمِسْكِ، مَنْ شَرِب مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بعْدَهُ" ..
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوض کی مسافت اتنی ہے جتنی ایلہ اور مضر کے درمیان ہے اس کے برتن آسمانوں کے ستاروں سے بھی زیادہ ہوں گے اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں دودھ سے زیادہ سفید برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ مہک والا ہوگا جو شخص ایک مرتبہ اس کا پانی پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23317]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23318
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: مَا بيْنَ طَرَفَيْ حَوْضِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كأَيْلَةَ وَمُضَرَ، فَذَكَرَهُ، وَكَذَا قَالَ يُونُسُ ، كَمَا قَالَ عَفَّانُ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23318]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23319
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبي نَضْرَةَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمَّارٍ : أَرَأَيْتُمْ صَنِيعَكُمْ هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ عَلِيٍّ، رَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ، أَمْ شَيْئًا عَهِدَ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَلَكِنَّ حُذَيْفَةَ أَخْبرَنِي , عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي أَصْحَابي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا، مِنْهُمْ ثَمَانِيَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ" .
قیس بن عبادہ (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے ابوالیقظان! یہ بتائیے کہ جس مسئلے میں آپ لوگ پڑچکے ہیں وہ آپ کی اپنی رائے ہے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی وصیت ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خصوصیت کے ساتھ ایسی کوئی وصیت نہیں فرمائی جو عام لوگوں کو نہ کی ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا میری امت میں بارہ منافق ہوں گے ان میں سے آٹھ لوگ وہ ہوں گے جو جنت میں داخل ہوں گے اور نہ اس کی مہک پائیں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23319]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2779