مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1049. حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23300
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي ابنُ عَمٍّ لِحُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَرَأَ السَّبعَ الطِّوَالَ فِي سَبعِ رَكَعَاتٍ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ ذِي الْمَلَكُوتِ وَالْجَبرُوتِ، وَالْكِبرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ"، وَكَانَ رُكُوعُهُ مِثْلَ قِيَامِهِ، وَسُجُودُهُ مِثْلَ رُكُوعِهِ ، فَانْصَرَفَ وَقَدْ كَادَتْ تَنْكَسِرُ رِجْلَايَ.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کو قیام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات رکعتوں میں سات طویل سورتیں پڑھ لیں اور رکوع سے سر اٹھا کر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے، پھر فرماتے " الحمد للہ ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمۃ " اور ان کا رکوع قیام کے برابر تھا اور سجدہ رکوع کے برابر ہے نماز سے جب فراغت ہوئی تو میری ٹانگیں ٹوٹنے کے قریب ہوگئی تھیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23300]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن عم حذيفة، وقد سلف بسند صحيح
حدیث نمبر: 23301
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابنَ أَبي عَمْرٍو ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْهَلِي ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بيَدِهِ لَتَأْمُرُنَّ بالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ أَنْ يَبعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابا مِنْ عِنْدِهِ، ثُمَّ لَتَدْعُنَّهُ فَلَا يَسْتَجِيب لَكُمْ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم لوگ امربالمعروف کرتے رہو اور نہی عن المنکر کرتے رہو ورنہ اللہ تم پر ایسا عذاب مسلط کر دے گا کہ تم اللہ سے دعائیں کرو گے لیکن تمہاری دعائیں قبول نہ ہوں گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23301]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 23302
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَخْبرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي عَمْرٌو ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْهَلِي ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتُلُوا إِمَامَكُمْ، وَتَجْتَلِدُوا بأَسْيَافِكُمْ، وَيَرِثُ دِيَارَكُمْ شِرَارُكُمْ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم اپنے امام کو قتل نہ کرو، دو تلواروں سے لڑنے نہ لگو اور تمہاری دنیا کے وارث تمہارے بدترین لوگ ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23302]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 23303
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْهَلِيُّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ أَسْعَدَ النَّاسِ بالدُّنْيَا لُكَعُ بنُ لُكَعٍ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دنیا میں سب سے زیادہ سعادت مند آدمی کمینہ بن کمینہ نہ ہوجائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23303]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 23304
حَدَّثَنَا وَهْب بنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبي ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَأَنَا لَفِتْنَةُ بعْضِكُمْ أَخْوَفُ عِنْدِي مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَلَنْ يَنْجُوَ أَحَدٌ مِمَّا قَبلَهَا إِلَّا نَجَا مِنْهَا، وَمَا صُنِعَتْ فِتْنَةٌ مُنْذُ كَانَتْ الدُّنْيَا صَغِيرَةٌ وَلَا كَبيرَةٌ، إِلَّا لِفِتْنَةِ الدَّجَّالِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دجال کا تذکرہ ہو رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نزدیک تمہارے حق میں دجال کے فتنے سے زیادہ آپس کے فتنے سے خطرہ ہے جو شخص دجال کے فتنے سے قبل اس فتنے سے بچ گیا تو وہ فتنہ دجال سے بھی بچ جائے گا اور جب سے دنیا بنی ہے ہر چھوٹا بڑا فتنہ دجال کے فتنے کے لئے ہی بنایا گیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23304]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23305
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ أَبو سَعِيدٍ الْأَحْوَلُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنِي إِبرَاهِيمُ مُنْذُ نَحْوِ سِتِّينَ سَنَةٍ، عَنْ هَمَّامِ بنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى حُذَيْفَةَ ، فَقِيلَ: إِنَّ هَذَا يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى الْأُمَرَاءِ! قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، أَوْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چغل خور جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23305]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6065، م: 105
حدیث نمبر: 23306
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ أَبي بكَيْرٍ , حَدَّثَنَا عُبيْدُ اللَّهِ بنُ إِيَادِ بنِ لَقِيطٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبي يَذْكُرُ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّاعَةِ، فَقَالَ: " عِلْمُهَا عِنْدَ رَبي، لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ، وَلَكِنْ أُخْبرُكُمْ بمَشَارِيطِهَا وَمَا يَكُونُ بيْنَ يَدَيْهَا، إِنَّ بيْنَ يَدَيْهَا فِتْنَةً وَهَرْجًا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْفِتْنَةُ قَدْ عَرَفْنَاهَا، فَالْهَرْجُ مَا هُوَ؟ قَالَ:" بلِسَانِ الْحَبشَةِ: الْقَتْلُ، وَيُلْقَى بيْنَ النَّاسِ التَّنَاكُرُ، فَلَا يَكَادُ أَحَدٌ أَنْ يَعْرِفَ أَحَدًا" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے متعلق پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا البتہ میں تمہیں اس کی کچھ علامات بتائے دیتا ہوں اور یہ کہ اس سے پہلے کیا ہوگا؟ قیامت سے پہلے فتنے ہوں گے اور " ہرج " ہوگا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! فتنہ کا معنی تو ہم سمجھ گئے ہرج سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل حبش کی زبان میں اس کا معنی قتل ہوتا ہے اور لوگوں میں اجنبیت پیدا ہوجائے گی اور کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23306]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، إياد بن لقيط لم يدرك حذيفة
حدیث نمبر: 23307
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبعِيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا فِي جِنَازَةِ حُذَيْفَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ صَاحِب هَذَا السَّرِيرِ يَقُولُ: مَا بي بأْسٌ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلَئِنْ اقْتَتَلْتُمْ لَأَدْخُلَنَّ بيْتِيَ، فَلَئِنْ دُخِلَ عَلَيَّ لَأَقُولَنَّ: هَا، بؤْ بإِثْمِي وَإِثْمِكَ" .
ربعی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے چارپائی پر لیٹے ہوئے اس شخص سے سنا ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے مجھے اس میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا کہ اگر تم لوگ لڑنے لگو گے تو میں اپنے گھر میں داخل ہوجاؤں گا اگر کوئی میرے گھر میں بھی آگیا تو میں اسے کہہ دوں گا کہ آؤ اور میرا اور اپنا گناہ لے کر لوٹ جاؤ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23307]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن حذيفة
حدیث نمبر: 23308
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ يَزِيدَ ، قَالَ: أَتَيْنَا حُذَيْفَةَ ، فَقُلْنَا: دُلَّنَا عَلَى أَقْرَب النَّاسِ برَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيًا، وَسَمْتًا، وَوَلَاءً، نَأْخُذْ عَنْهُ وَنَسْمَعْ مِنْهُ، فَقَالَ:" كَانَ من أَقْرَب النَّاسِ برَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيًا، وَسَمْتًا، وَدَلًّا، ابنُ أُمِّ عَبدٍ، حَتَّى يَتَوَارَى عَنِّي فِي بيْتِهِ، وَلَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَاب مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ أَنَّ ابنَ أُمِّ عَبدٍ مِنْ أَقْرَبهِمْ إِلَى اللَّهِ زُلْفَةً" .
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ ہمیں کسی ایسے آدمی کا پتہ بتائیے جو طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہوتا کہ ہم ان سے یہ طریقے اخذ کرسکیں اور ان کی باتیں سن سکیں انہوں نے فرمایا کہ طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے یہاں تک کہ وہ مجھ سے چھپ کر اپنے گھر میں بیٹھ گئے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محفوظ صحابہ جانتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23308]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح لكن الجملة الأخيرة: ولقد علم المحفوظون.....لم يسمعها ابو اسحاق من عبدالرحمن بن يزيد
حدیث نمبر: 23309
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا مَا تَرَكَ فِيهِ شَيْئًا يَكُونُ قَبلَ السَّاعَةِ إِلَّا قَدْ ذَكَرَهُ، حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ" ، إِنِّي لَأَرَى الشَّيْءَ فَأَذْكُرُهُ كَمَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ غَاب عَنْهُ، ثُمَّ رَآهُ فَعَرَفَهُ.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور قیامت تک پیش آنے والا کوئی واقعہ ایسا نہ چھوڑا جو اسی جگہ کھڑے کھڑے بیان نہ کردیا ہو جس نے اسے یاد رکھا سو یاد رکھا اور جو بھول گیا سو بھول گیا اور میں بہت سی ایسی چیزیں دیکھتا ہوں جو میں بھول چکا ہوتا ہوں لیکن پھر انہیں دیکھ کر پہچان لیتا ہوں جیسے کوئی آدمی غائب ہو اور دوسرا آدمی اسے دیکھ کر اسے اس کے چہرے سے ہی پہچان لیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23309]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2891