🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1176. حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26621
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ لَهُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ يُفَارِقَنِي" , قَالَ: فَأَتَى عُمَرَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: فَأَتَاهَا عُمَرُ، فَقَالَ: أُذَكِّرُكِ اللَّهَ، أَمِنْهُمْ أَنَا؟ قَالَتْ: اللَّهُمَّ لَا، وَلَنْ أُبْلِيَ أَحَدًا بَعْدَكَ.
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعض ساتھی ایسے بھی ہوں گے کہ میری ان سے جدائی ہونے کے بعد وہ مجھے دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں گے، حضرت عبدالرحمن بن عوف جب باہر نکلے تو راستے میں حضرت عمر سے ملاقات ہوگئی انہوں نے حضرت عمر کو یہ بات بتائی حضرت عمر خود حضرت ام سلمہ کے پاس پہنچے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا اللہ کی قسم کھا کر بتائیے کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن آپ کے بعد میں کسی کے متعلق یہ بات نہیں کہہ سکتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26621]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26622
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , وَرَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ , " أَنَّهَا قَرَّبَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا، فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اسی دوران حضرت بلال آگئے اور نبی علیہ السلا پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26622]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26623
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , وَالْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ أُسَبِّعْ لَكِ، أُسَبِّعْ لِنِسَائِي" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26623]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1460، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالحميد بن عبدالله والقاسم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26624
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , وَعَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ، فَيَصُومُ" , قَالَ ابْنُ بَكْرٍ: زَوْجَتَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26624]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26625
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مَمْلَكٍ , أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ يُسَبِّحُ، ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا مَا شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ، فَيَرْقُدُ مِثْلَ مَا يُصَلِّي، ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ مِنْ نَوْمَتِهِ تِلْكَ، فَيُصَلِّي مِثْلَ مَا نَامَ، وَصَلَاتُهُ تِلْكَ الْآخِرَةُ تَكُونُ إِلَى الصُّبْحِ" .
یعلی بن مملک کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز اور قرأت کے متعلق حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء اور اس کے بعد نوافل پڑھ کر سو جاتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جتنی دیرسوتے تھے اتنی دیر نماز پڑھتے تھے اور جتنی دیر نماز پڑھتے تھے اتنی دیرسوتے تھے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا اختتام صبح کے وقت ہوتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26625]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة يعلى بن مملك
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26626
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَجَبَةَ خَصْمٍ عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَعْلَمَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِيَ لَهُ بِمَا أَسْمَعُ مِنْهُ، فَأَظُنُّهُ صَادِقًا، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ، فَإِنَّهَا قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ، فَلْيَأْخُذْهَا، أَوْ لِيَدَعْهَا" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو، ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی نسبت اپنی دلیل ایسی فصاحت و بلاغت کے ساتھ پیش کردے کہ میں اس کی دلیل کی روشنی میں اس کے حق میں فیصلہ کر دوں (اس لئے یاد رکھو) میں جس شخص کی بات تسلیم کر کے اس کے بھائی کے کسی حق کا اس کے لئے فیصلہ کرتا ہوں تو سمجھ لو کہ میں اس کے لئے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر اسے دے رہا ہوں، اب اس کی مرضی ہے کہ لے لے یا چھوڑ دے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26626]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1713
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26627
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَمِعَ خُصُومَةً بِبَابِ حُجْرَتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ" , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26627]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1713
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26628
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً أَهْدَتْ لَهَا رِجْلَ شَاةٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِهَا، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ تَقْبَلَهَا" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے انہیں بکری کی ایک ران ہدیہ کے طور پر بھیجی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسے قبول کرلینے کی اجازت دی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26628]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26629
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي نَبْهَانُ مُكَاتَبُ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَ: إِنِّي لَأَقُودُ بِهَا بِالْبَيْدَاءِ أَو قَالَ: بِالْأَبْوَاءِ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا كَانَ عِنْدَ الْمُكَاتَبِ مَا يُؤَدِّي، فَاحْتَجِبِي مِنْهُ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم خواتین میں سے کسی کا کوئی غلام مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا بدل کتابت ہو کہ وہ اسے اپنے مالک کے حوالے کر کے خود آزادی حاصل کرسکے، تو اس عورت کو اپنے اس غلام سے پردہ کرنا چاہئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26629]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة نبهان، وقد تفرد بهذا الحديث، ومما يدل على ضعف هذا الحديث عمل السيدة عائشة بخلافه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26630
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَدْرَكَهُ الصُّبْحُ جُنُبًا، فَلَا صَوْمَ لَهُ" , قَالَ: فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبِي، فَدَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ , فَسَأَلْنَاهُمَا عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَتَانَا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ، ثُمَّ يَصُومُ" ، فَلَقِينَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَحَدَّثَهُ أَبِي، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ أَبِي هُرَيْرَةَ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَهُنَّ أَعْلَمُ.
ابوبکر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جس شخص کی صبح وجوب غسل کی حالت میں ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، کچھ عرصہ بعد میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ام سلمہ اور حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے بتایا کہ نبی علیہ لسلام اختیاری طور پر وجوب غسل کی حالت میں صبح کرلیتے اور روزہ رکھ لیتے پھر ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ملے تو میرے والد صاحب نے ان سے یہ حدیث بیان کی ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور وہ کہنے لگے کہ مجھے یہ حدیث فضل بن عباس نے بتائی تھی، البتہ ازواج مطہرات اسے زیادہ جانتی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26630]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں