مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1249. حَدِيثُ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 27180
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الْجَارُ أَحَقُّ بِصَقَبِهِ، أَوْ سَقَبِهِ" .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑوسی شفعہ کا زیادہ حق رکھتا ہے۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27180]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6977
حدیث نمبر: 27181
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا، فَأَتَتْهُ إِبِلٌ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ:" أَعْطُوهُ"، فَقَالُوا: لَا نَجِدُ لَهُ إِلَّا رَبَاعِيًا خِيَارًا؟ قَالَ: " أَعْطُوهُ، فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً" .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ قرض پر لیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے کے لئے آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: ”اس کے اونٹ جتنی عمر کا ایک اونٹ تلاش کرکے لے آؤ۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے تلاش کیا لیکن مطلوبہ عمر کا اونٹ نہ مل سکا، ہر اونٹ اس سے بڑا عمر کا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے بڑی عمر کا اونٹ ہی دے دو، تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو اداء قرض میں سب سے بہترین ہو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27181]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1600
حدیث نمبر: 27182
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ , حَدَّثَنِا الْحَكَمُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَقَالَ: أَلَا تَصْحَبُنِي تُصِيبُ؟ قَالَ: قُلْتُ: حَتَّى أَذْكُرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ له، فَقَالَ: " إِنَّا آلُ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ، وَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ" .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ارقم رضی اللہ عنہ یا ان کے صاحبزادے میرے پاس سے گزرے، انہیں زکوٰۃ کی وصولی کے لئے مقرر کیا گیا تھا، انہوں نے مجھے اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس کے متعلق پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابورافع! محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر زکوٰۃ حرام ہے اور کسی قوم کا آزاد کردہ غلام ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27182]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27183
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ , وَأَبُو النَّضْرِ قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: لَمَّا وَلَدَتْ فَاطِمَةُ حَسَنًا، قَالَتْ: أَلَا أَعُقُّ عَنِ ابْنِي بِدَمٍ؟ قَالَ: " لَا، وَلَكِنْ احْلِقِي رَأْسَهُ، وَتَصَدَّقِي بِوَزْنِ شَعْرِهِ مِنْ فِضَّةٍ عَلَى الْمَسَاكِينِ وَالْأَوْفَاضِ" , وَكَانَ الْأَوْفَاضُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجِينَ فِي الْمَسْجِدِ , أَوْ فِي الصُّفَّةِ، وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ:" مِنَ الْوَرِقِ عَلَى الْأَوْفَاضِ , يَعْنِي أَهْلَ الصُّفَّةِ , أَوْ عَلَى الْمَسَاكِينِ" , فَفَعَلْتُ ذَلِكَ، قَالَتْ: فَلَمَّا وَلَدْتُ حُسَيْنًا , فَعَلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی تو ان کی والدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دو مینڈھوں سے ان کا عقیقہ کرنا چاہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی اس کا عقیقہ نہ کرو بلکہ اس کے سر کے بال منڈوا کر اس کے وزن کے برابر چاندی اللہ کے راستے میں صدقہ کر دو، پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش پر بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا (اور عقیقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کیا)۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27183]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن محمد وشريك، لكنه توبع
حدیث نمبر: 27184
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَشَعْرُهُ مَعْقُوصٌ" .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو بال گوندھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27184]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وقد اختلف فى تعيين الرجل المبهم، واختلف فى إسناده على مخول
حدیث نمبر: 27185
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو , أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ , أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ , أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ فِي بَعْثٍ مَرَّةً، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبْ فَأْتِنِي بِمَيْمُونَةَ"، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , إِنِّي فِي الْبَعْثِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلًم:" أَلَسْتَ تُحِبًّ مَا أُحِبُّ؟" , قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" اذْهَبْ، فَأْتِنِي بِهَا" , فَذَهَبْتُ، فَجِئْتُهُ بِهَا .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کسی لشکر میں شامل تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جا کر میرے پاس میمونہ کو بلا کر لاؤ“، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں لشکر میں شامل ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اپنی بات دہرائی، میں نے اپنا عذر دوبارہ بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس چیز کو پسند نہیں کرتے جسے میں پسند کرتا ہوں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور انہیں میرے پاس بلا کر لاؤ، چنانچہ میں جا کر انہیں بلا لایا۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27185]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح إن صح سماع الحسن بن على من جده أبى رافع
حدیث نمبر: 27186
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ" .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی پیدائش ہوئی تو میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کے کان میں اذان دی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27186]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
حدیث نمبر: 27187
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمَّتِهِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ، فَاغْتَسَلَ عِنْدَ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُسْلًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَوْ اغْتَسَلْتَ غُسْلًا وَاحِدًا؟ فَقَالَ: " هَذَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ" .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی دن میں اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے گئے اور ہر ایک سے فراغت کے بعد غسل فرماتے رہے، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر آپ ایک ہی مرتبہ غسل فرما لیتے (تو کوئی حرج تھا؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ طریقہ زیادہ پاکیزہ عمدہ اور طہارت والا ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27187]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وقد تفرد به عبدالرحمن بن أبى رافع و عمته سلمي، وهما ممن لا يحتمل تفردهما، بل خالفا حديث أنس الصحيح
حدیث نمبر: 27188
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الرِّجَالِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ أَقْتُلَ الْكِلَابَ"، فَخَرَجْتُ أَقْتُلُهَا لَا أَرَى كَلْبًا إِلَّا قَتَلْتُهُ، فَإِذَا كَلْبٌ يَدُورُ بِبَيْتٍ، فَذَهَبْتُ لِأَقْتُلَهُ , فَنَادَانِي إِنْسَانٌ مِنْ جَوْفِ الْبَيْتِ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، مَا تُرِيدُ أَنْ تَصْنَعَ؟ قَالَ: قُلْتُ: أُرِيدُ أَنْ أَقْتُلَ هَذَا الْكَلْبَ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ مُضَيَّعَةٌ، وَإِنَّ هَذَا الْكَلْبَ يَطْرُدُ عَنِّي السَّبُعَ، وَيُؤْذِنُنِي بِالْجَائِي، فَأْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاذْكُرْ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَأَمَرَنِي بِقَتْلِهِ" .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابورافع! مدینہ میں جتنے کتے پائے جاتے ہیں ان سب کو مار ڈالو“، وہ کہتے ہیں کہ میں نے انصار کی کچھ خواتین کے جنت البقیع میں کچھ درخت دیکھے، ان خواتین کے پاس بھی کتے تھے، وہ کہنے لگیں: اے ابورافع! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے مردوں کو جہاد کے لئے بھیج دیا، اللہ کے بعد اب ہماری حفاظت یہ کتے ہی کرتے ہیں اور واللہ کسی کو ہمارے پاس آنے کی ہمت نہیں ہوتی، حتیٰ کہ ہم میں سے کوئی عورت اٹھتی ہے تو یہ کتے اس کے اور لوگوں کے درمیان آڑ بن جاتے ہیں، اس لئے آپ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کر دو، چنانچہ انہوں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کر دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابورافع! تم انہیں قتل کر دو، خواتین کی حفاظت اللہ خود کرے گا۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27188]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح إن ثبت سماع سالم بن عبدالله من أبى رافع
حدیث نمبر: 27189
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ قَالَ مِثْلَ مَا يَقُولُ، فَإِذَا قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مؤذن کی آواز سنتے تو وہی جملے دہراتے جو وہ کہہ رہا ہوتا تھا، لیکن جب وہ «حي على الصلوة» اور «حي على الفلاح» پر پہنچتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم «لا حول ولا قوة الا بالله» کہتے تھے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27189]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك وعاصم بن عبيد الله، و على بن الحسين لم يدرك أبا رافع