صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ إِثْمِ مَنْ أَشْرَكَ بِاللَّهِ وَعُقُوبَتِهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ:
باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ لقمان میں) فرمایا «إثم من أشرك بالله وعقوبته في الدنيا والآخرة» ۔
حدیث نمبر: Q6918
قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ}، {لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ}.
«إن الشرك لظلم عظيم» ”شرک بڑا گناہ ہے“ (اور سورۃ الزمر میں فرمایا) «لئن أشركت ليحبطن عملك ولتكونن من الخاسرين» ”اے پیغمبر! اگر تو بھی شرک کرے تو تیرے سارے نیک اعمال اکارت ہو جائیں گے اور تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب اسْتِتَابَةِ الْمُرْتَدِّينَ وَالْمُعَانِدِينَ وَقِتَالِهِمْ/حدیث: Q6918]
حدیث نمبر: 6918
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82، شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالُوا:" أَيُّنَا لَمْ يَلْبِسْ إِيمَانَهُ بِظُلْمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِذَاكَ، أَلَا تَسْمَعُونَ إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ: إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ جب (سورۃ الانعام کی) یہ آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» اتری ”جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ایمان کو گناہ سے آلود نہیں کیا (یعنی ظلم سے)“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو بہت گراں گزری وہ کہنے لگے بھلا ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے ایمان کے ساتھ کوئی ظلم (یعنی گناہ) نہ کیا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس آیت میں ظلم سے گناہ مراد نہیں ہے (بلکہ شرک مراد ہے) کیا تم نے لقمان علیہ السلام کا قول نہیں سنا «إن الشرك لظلم عظيم» ”شرک بڑا ظلم ہے“۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اسْتِتَابَةِ الْمُرْتَدِّينَ وَالْمُعَانِدِينَ وَقِتَالِهِمْ/حدیث: 6918]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جب یہ آیت ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾ [سورة الأنعام: 82] ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے کو ظلم سے ملوث نہ کیا۔“ نازل ہوئی تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام پر بہت گراں گزری، انہوں نے کہا: ”اللہ کے رسول! ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہ کیا ہو؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل یہ بات نہیں، کیا تم نے حضرت لقمان کی بات نہیں سنی، انہوں نے کہا تھا: ﴿إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة لقمان: 13] ”یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے۔“““ [صحيح البخاري/كِتَاب اسْتِتَابَةِ الْمُرْتَدِّينَ وَالْمُعَانِدِينَ وَقِتَالِهِمْ/حدیث: 6918]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6919
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ. ح حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ، ثَلَاثًا، أَوْ قَوْلُ الزُّورِ"، فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا، حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے، کہا ہم سے سعید بن ایاس جریری نے، (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے، کہا ہم کو سعید جریری نے خبر دی، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد (ابوبکرہ صحابی) سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بڑے سے بڑا گناہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے اور ماں باپ کو ستانا (ان کی نافرمانی کرنا) اور جھوٹی گواہی دینا، جھوٹی گواہی دینا، تین بار یہی فرمایا یا یوں فرمایا اور جھوٹ بولنا برابر باربار آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے آرزو کی کہ کاش آپ خاموش ہو جاتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اسْتِتَابَةِ الْمُرْتَدِّينَ وَالْمُعَانِدِينَ وَقِتَالِهِمْ/حدیث: 6919]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بڑا گناہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے، پھر والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا ہے اور جھوٹی گواہی دینا ہے۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دہرائی، یا فرمایا: ”جھوٹی بات کرنا ہے۔“ پھر بار بار یہی فرماتے رہے، حتیٰ کہ ہم نے آرزو کی: کاش! آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو جائیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اسْتِتَابَةِ الْمُرْتَدِّينَ وَالْمُعَانِدِينَ وَقِتَالِهِمْ/حدیث: 6919]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6920
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْكَبَائِرُ؟، قَالَ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟، قَالَ: ثُمَّ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟، قَالَ: الْيَمِينُ الْغَمُوسُ، قُلْتُ: وَمَا الْيَمِينُ الْغَمُوسُ؟، قَالَ: الَّذِي يَقْتَطِعُ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا كَاذِبٌ".
ہم سے محمد بن حسین بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ کوفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شیبان نحوی نے خبر دی، انہوں نے فراش بن یحییٰ سے، انہوں نے عامر شعبی سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ ایک گنوار (نام نامعلوم) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہنے لگا: یا رسول اللہ! بڑے بڑے گناہ کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔“ اس نے پوچھا پھر کون سا گناہ؟ آپ نے فرمایا ”ماں باپ کو ستانا۔“ پوچھا: پھر کون سا گناہ؟ آپ نے فرمایا ” «غموس".» قسم کھانا۔“ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! «غموس".» قسم کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جان بوجھ کر کسی مسلمان کا مال مار لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب اسْتِتَابَةِ الْمُرْتَدِّينَ وَالْمُعَانِدِينَ وَقِتَالِهِمْ/حدیث: 6920]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: ”اللہ کے رسول! بڑے بڑے گناہ کون سے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا شریک بنانا۔“ اس نے پوچھا: اس کے بعد کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”والدین کی نافرمانی کرنا۔“ اس نے دریافت کیا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جھوٹی قسم اٹھانا۔“ میں نے پوچھا: «الْيَمِينُ الْغَمُوسُ» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جان بوجھ کر اس کے ذریعے سے کسی کا مال ہتھیا لے، حالانکہ وہ اس (قسم) میں جھوٹا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب اسْتِتَابَةِ الْمُرْتَدِّينَ وَالْمُعَانِدِينَ وَقِتَالِهِمْ/حدیث: 6920]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6921
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟، قَالَ: مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ".
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے، انہوں نے منصور اور اعمش سے، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا ایک شخص (نام نامعلوم) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے جو گناہ (اسلام لانے سے پہلے) جاہلیت کے زمانہ میں کیے ہیں کیا ان کا مواخذہ ہم سے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اسلام کی حالت میں نیک اعمال کرتا رہا اس سے جاہلیت کے گناہوں کا مواخذہ نہ ہو گا (اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا) اور جو شخص مسلمان ہو کر بھی برے کام کرتا رہا اس سے دونوں زمانوں کے گناہوں کا مواخذہ ہو گا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب اسْتِتَابَةِ الْمُرْتَدِّينَ وَالْمُعَانِدِينَ وَقِتَالِهِمْ/حدیث: 6921]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی نے پوچھا: ”اللہ کے رسول! ہم نے جو گناہ زمانہ جاہلیت میں کیے ہیں، کیا ان کا مؤاخذہ بھی ہم سے ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اسلام کی حالت میں نیک اعمال کرتا رہا اس سے (جاہلیت کے گناہوں کا) مؤاخذہ نہیں ہو گا، اور جس نے (اسلام میں) برے اعمال کیے اس سے پہلے اور بعد والے دونوں گناہوں کے متعلق باز پرس ہو گی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب اسْتِتَابَةِ الْمُرْتَدِّينَ وَالْمُعَانِدِينَ وَقِتَالِهِمْ/حدیث: 6921]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة