Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند عمر بن عبد العزيز سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:


1. بَابُ السُّؤَالِ وَالْوَضْحِ فِي حَقِّ الْمُفْلِسِ فِي الْمَالِ الْمَوْجُودِ
باب مفلس کے پاس موجود سامان کے حق دار ہونے سے متعلق سوال اور اس کی وضاحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 45
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، قَالَ: سُئِلَ سُفْيَانُ عَنْ رَجُلٍ ابْتَاعَ مَتَاعًا، فَأَفْلَسَ وَهُوَ بِعَيْنِهِ فَلَمْ يَنْقُدْهُ، أَوْ نَقَدَ طَائِفَةً مِنَ الثَّمَنِ، هَلْ يَأْخُذُ مَتَاعَهُ؟ فَحَدَّثَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ ابْتَاعَ سِلْعَةً ثُمَّ أَفْلَسَ صَاحِبُهَا فَوَجَدَهَا، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا دُونَ الْغُرَمَاءِ" .
ہمیں حدیث بیان کی محمد بن عبداللہ بن عمار موصلی نے، انہوں نے کہا، ہمیں حدیث بیان کی زید بن ابو زرقاء نے، انہوں نے کہا: سفیان رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا، ایک آدمی نے سامان خریدا اور مفلس ہو گیا اور وہ اس کے پاس بعینہ ہے اس نے اس کی قیمت ادا نہیں کی جبکہ کچھ لوگوں نے قیمت ادا کر دی کیا اس کا مال قرض خواہ لے لے گا؟ تو انہوں نے حدیث بیان کی یحیٰی بن سعید سے، انہوں نے ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے، انہوں نے عمر بن عبد العزیز سے، انہوں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے سامان خریدا، پھر مفلس ہو گیا، اور قرض خواہ نے اپنے مال کو مفلس کے پاس موجود پایا تو وہ اس کا دوسروں سے زیادہ حق دار ہے۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أبي بكر بن عبدالرحمن/حدیث: 45]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، الاستقراض، رقم: 2402، مسلم، المسافاة، رقم: 1550»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں