صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلاَةِ عَقِبَهُ:
باب: وضو کی اور اس کے بعد نماز پڑھنے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 227 ترقیم شاملہ: -- 540
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ لآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، وَهُوَ بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ عِنْدَ الْعَصْرِ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَالَ: " وَاللَّهِ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا، لَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمْ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ، فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، فَيُصَلِّي صَلَاةً، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي تَلِيهَا "،
جریر نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حمران سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ مسجد کے آنگن میں تھے اور عصر کے وقت ان کے پاس مؤذن آیا تو انہوں نے وضو کے لیے پانی منگایا، وضو کیا، پھر فرمایا: ’اللہ کی قسم! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں، اگر کتاب اللہ کی ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہیں نہ سناتا۔‘ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”جو مسلمان وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز پڑھے تو اس کے وہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جو اس نماز اور اگلی نماز کے درمیان ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 540]
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حمران رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مسجد کے صحن میں سنا، عصر کے وقت ان کے پاس مؤذن آیا، تو انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا، پھر کہا: اللہ کی قسم! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں۔ اگر کتاب اللہ کی ایک آیت (علم چھپانے کی وعید کے بارے میں) نہ ہوتی، تو میں تمہیں نہ سناتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی مسلمان آدمی اچھی طرح وضو نہیں کرتا کہ اس سے کوئی نماز پڑھے، مگر اللہ تعالیٰ اس کی اس نماز اور اس سے پیوستہ (بعد والی) نماز کے درمیان کے گناہ (صغیرہ) معاف کر دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 540]
ترقیم فوادعبدالباقی: 227
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الوضوء، باب: الوضوء ثلاثا ثلاثا برقم (160) مطولا والنسائي في ((المجتبي)) في الوضوء، باب: ثواب من توضا كما امر 1/ 91 انظر ((التحفة)) برقم (9793)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 227 ترقیم شاملہ: -- 541
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ: فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، ثُمَّ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ.
ہشام سے (جریر کے بجائے) ابواسامہ، وکیع اور سفیان کی سندوں سے بھی یہ روایت بیان کی گئی۔ ان میں ابواسامہ کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں: ”اچھی طرح وضو کرے اور فرض نماز ادا کرے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 541]
ابو امامہ رحمہ اللہ، وکیع رحمہ اللہ اور سفیان رحمہ اللہ نے ہشام رحمہ اللہ کی مذکورہ بالا سند سے حدیث سنائی۔ ابو اسامہ رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے: ”تو اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر فرض نماز پڑھتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 541]
ترقیم فوادعبدالباقی: 227
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (539)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 227 ترقیم شاملہ: -- 542
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَلَكِنْ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ، عَنْ حُمْرَانَ ، أَنَّهُ قَالَ: " فَلَمَّا تَوَضَّأَ عُثْمَانُ ، قَالَ: وَاللَّهِ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا، وَاللَّهِ لَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ، فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، ثُمَّ يُصَلِّي الصَّلَاةَ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي تَلِيهَا "، قَالَ عُرْوَةُ الآيَةُ: إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى إِلَى قَوْلِهِ اللَّاعِنُونَ سورة البقرة آية 159.
ابن شہاب نے کہا: لیکن عروہ، حمران کی جانب سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: پھر جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کر لیا تو فرمایا: ’اللہ کی قسم! میں تمہیں ایک حدیث ضرور سناؤں گا، اللہ کی قسم! اگر کتاب اللہ کی ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہیں وہ حدیث نہ سناتا۔‘ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”جو آدمی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز پڑھے تو اس کے وہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جو اس نماز اور اگلی نماز کے درمیان ہوں۔“ عروہ نے کہا: وہ آیت (جس کی طرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اشارہ کیا): ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ﴾ سے لے کر ﴿اللَّاعِنُونَ﴾ تک ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 542]
حمران رحمہ اللہ نے کہا: جب عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کیا، تو کہا: اللہ کی قسم! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ کی کتاب میں ایک آیت نہ ہوتی، تو میں تمہیں وہ حدیث نہ سناتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب کوئی آدمی وضو کرتا ہے اور وہ اپنے وضو کو اچھی طرح کرتا ہے، پھر نماز پڑھتا ہے، تو اسے اس نماز اور اس کے بعد والی نماز کے درمیانی گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ عروہ رحمہ اللہ نے کہا: وہ آیت یہ ہے: ”جو لوگ ان دلائل اور ہدایات کو چھپاتے ہیں، جو ہم نے اتارے ہیں۔“ سے لے کر «اللَّاعِنُونَ» ”لعنت کرنے والوں“ تک۔ (البقرة: 159) [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 542]
ترقیم فوادعبدالباقی: 227
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم {539)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 228 ترقیم شاملہ: -- 543
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، قَالَ عَبد، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ فَدَعَا بِطَهُورٍ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ، فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا، وَخُشُوعَهَا، وَرُكُوعَهَا، إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ، مَا لَمْ يُؤْتِ كَبِيرَةً، وَذَلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ ".
اسحاق بن سعید نے عمرو بن سعید بن عاص سے، انہوں نے اپنے والد (سعید بن عمرو) سے اور انہوں نے اپنے والد (عمرو بن سعید) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، انہوں نے وضو کا پانی منگایا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی مسلمان نہیں جس کی فرض نماز کا وقت ہو جائے، پھر وہ اس کے لیے اچھی طرح وضو کرے، اچھی طرح خشوع سے اسے ادا کرے اور احسن انداز سے رکوع کرے، مگر وہ نماز اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو گی جب تک وہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کرے، اور یہ بات ہمیشہ کے لیے ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 543]
اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص رحمہ اللہ نے اپنے باپ سے روایت سنائی: کہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، انہوں نے پانی طلب کیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس مسلمان انسان نے فرض نماز کا وقت پایا، پھر اس نے اس کے لیے اچھی طرح وضو کر کے اچھی طرح خشوع سے رکوع کیا (نماز پڑھی)، تو یہ نماز پچھلے تمام گناہوں کا کفارہ ہو گی، جب تک وہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب نہیں کرتا اور یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 543]
ترقیم فوادعبدالباقی: 228
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (9833)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 229 ترقیم شاملہ: -- 544
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: " أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَاسًا يَتَحَدَّثُونَ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ لَا أَدْرِي مَا هِيَ، إِلَّا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ: مَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَكَانَتْ صَلَاتُهُ، وَمَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ نَافِلَةً "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَةَ: أَتَيْتُ عُثْمَانَ فَتَوَضَّأَ.
ابن عبدہ کی روایت میں ہے: میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے وضو کیا۔ قتیبہ بن سعید اور احمد بن عبدہ ضبی نے کہا: ہمیں عبدالعزیز دراوردی نے زید بن اسلم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حمران سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس وضو کا پانی لایا تو انہوں نے وضو کیا، پھر کہا: کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بیان کرتے ہیں جن کی حقیقت میں نہیں جانتا، مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، پھر فرمایا: ”جس نے اس طریقے سے وضو کیا، اس کے گزشتہ گناہ معاف ہو گئے اور اس کی نماز اور مسجد کی طرف جانا زائد (ثواب کا باعث) ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 544]
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مولیٰ حمران رحمہ اللہ سے روایت سنائی: کہ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس پانی لایا، تو انہوں نے وضو کیا، پھر کہا: کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں بیان کرتے ہیں، جن کی حقیقت کو میں نہیں جانتا، مگر میں نے رسول اللہ کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے وضو کی طرح وضو کیا، پھر فرمایا: ”جس نے اس طرح وضو کیا، اس کے گزشتہ گناہ معاف ہو جائیں گے، اور اس کی نماز اور مسجد کی طرف جانا نفل (زائد ثواب کا باعث) ہو گا۔“ ابن عبدہ رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو انہوں نے وضو کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 544]
ترقیم فوادعبدالباقی: 229
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (9791)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 230 ترقیم شاملہ: -- 545
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، وَأَبُو بَكْرِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي أَنَسٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ، فَقَالَ: " أَلَا أُرِيكُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا "، وَزَادَ قُتَيْبَةُ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ أَبُو النَّضْرِ: عَنْ أَبِي أَنَسٍ، قَالَ: وَعِنْدَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا: (اس حدیث کے الفاظ قتیبہ اور ابوبکر کے ہیں) ہمیں وکیع نے سفیان کے حوالے سے ابونضر سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوانس سے روایت کی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے المقاعد کے پاس وضو کیا، پھر کہا: ’کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو (کر کے) نہ دکھاؤں؟‘ پھر ہر عضو کو تین تین بار دھویا۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: سفیان نے کہا: ابونضر نے ابوانس سے روایت بیان کرتے ہوئے کہا: ان (عثمان رضی اللہ عنہ) کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کئی لوگ موجود تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 545]
ابو انس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مقاعد (بیٹھنے کی جگہ) کے پاس وضو کرنے کا ارادہ کیا، تو کہا: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ کا وضو نہ بتاؤں؟“ پھر ہر عضو کو تین تین بار دھویا۔ اور قتیبہ رحمہ اللہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے: عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کافی ساتھی موجود تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 545]
ترقیم فوادعبدالباقی: 230
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم {9835)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 231 ترقیم شاملہ: -- 546
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ ، قَالَ: كُنْتُ أَضَعُ لِعُثْمَانَ طَهُورَهُ فَمَا أَتَى عَلَيْهِ يَوْمٌ، إِلَّا وَهُوَ يُفِيضُ عَلَيْهِ نُطْفَةً، وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عِنْدَ انْصِرَافِنَا مِنْ صَلَاتِنَا هَذِهِ، قَالَ مِسْعَرٌ: أُرَاهَا الْعَصْرَ، فَقَالَ: مَا أَدْرِي أُحَدِّثُكُمْ بِشَيْءٍ، أَوْ أَسْكُتُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ كَانَ خَيْرًا فَحَدِّثْنَا، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ، فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَطَهَّرُ، فَيُتِمُّ الطُّهُورَ الَّذِي كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَيُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَاتٍ لِمَا بَيْنَهَا ".
مسعر نے ابوصخرہ جامع بن شداد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حمران بن ابان سے سنا، انہوں نے کہا: میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے غسل اور وضو کے لیے پانی رکھا کرتا تھا اور کوئی دن ایسا نہ آتا کہ وہ تھوڑا سا (پانی) اپنے اوپر نہ بہا لیتے (ہلکا سا غسل نہ کر لیتے)۔ ایک دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز سے (مسعر کا قول ہے: میرا خیال ہے کہ عصر کی نماز مراد ہے) سلام پھیرنے کے بعد ہم سے گفتگو فرمائی، آپ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ ایک بات تم سے کہہ دوں یا خاموش رہوں؟“ ہم نے عرض کی: ’اے اللہ کے رسول! اگر بھلائی کی بات ہے تو ہمیں بتا دیجیے، اگر کچھ اور ہے تو اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور جو وضو اللہ نے اس کے لیے فرض قرار دیا ہے اسے مکمل طریقے سے کرتا ہے، پھر یہ پانچوں نمازیں ادا کرتا ہے تو یقیناً یہ نمازیں ان گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی جو ان نمازوں کے درمیان کے اوقات میں سرزد ہوئے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 546]
حمران بن ابان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں عثمان رضی اللہ عنہ کے وضو کے لیے پانی رکھا کرتا تھا، وہ ہر دن کچھ پانی سے غسل فرماتے تھے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس نماز سے (مسعر رحمہ اللہ نے کہا: میرا خیال ہے عصر مراد ہے) سلام پھیرنے کے بعد کہا: ”میں نہیں جانتا تم سے کچھ بیان کروں یا چپ رہوں؟“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر بہتری و بھلائی کی بات ہے، تو ہمیں بتا دیں! اور اگر کچھ اور ہے، تو اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان وضو کرتا ہے اور جو وضو اللہ نے اس کے لیے فرض قرار دیا ہے، اس کو پوری طرح (مکمل طور پر) کرتا ہے، پھر یہ پانچوں نمازیں ادا کرتا ہے، تو یہ نمازیں ان گناہوں کے لیے کفارہ بن جائیں گی جو ان نمازوں کے درمیان سرزد ہوئے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 546]
ترقیم فوادعبدالباقی: 231
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه النسائي في ((المجتبي)) 91/1 في الطهارة، باب: ثواب من توضا كما أمر وابن ماجه في ((سننه)) في الطهارة وسننها، باب: ما جاء في الوضوء علی ما امر الله تعالی برقم (459) انظر ((التحفة)) برقم (9789)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 231 ترقیم شاملہ: -- 547
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا جَمِيعًا، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ ، يُحَدِّثُ أَبَا بُرْدَةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فِي إِمَارَةِ بِشْرٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى، فَالصَّلَوَاتُ الْمَكْتُوبَاتُ، كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ "، هَذَا حَدِيثُ ابْنِ مُعَاذٍ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ غُنْدَرٍ فِي إِمَارَةِ بِشْرٍ، وَلَا ذِكْرُ الْمَكْتُوبَاتِ.
عبیداللہ بن معاذ نے اپنے والد سے اور محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے محمد بن جعفر (غندر) سے روایت کی، ان دونوں (معاذ بن معاذ اور محمد بن جعفر) نے کہا: ہمیں شعبہ نے جامع بن شداد سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ میں نے حمران بن ابان سے سنا، وہ بشر بن مروان کے دورِ امارت میں اس مسجد میں حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ کو بتا رہے تھے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس طرح وضو کو مکمل کیا جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے تو (اس کی) فرض نمازیں ان گناہوں کے لیے کفارہ ہوں گی جو ان کے درمیان سرزد ہوئے۔“ یہ عبیداللہ بن معاذ کی روایت ہے، غندر کی حدیث میں بشر بن مروان کے دورِ حکومت اور فرض نمازوں کا ذکر نہیں ہے। [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 547]
جامع بن شداد رحمہ اللہ سے روایت ہے، کہ میں نے حمران بن ابان رحمہ اللہ سے اس مسجد میں ابو بردہ رحمہ اللہ کو بشر کے دور حکومت میں بتاتے ہوئے سنا، کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے وضو کو اس طرح پورا کیا جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے، تو فرض نمازیں ان گناہوں کے لیے کفارہ بنیں گی جو ان کے درمیان ہوئے۔“ یہ ابن معاذ رحمہ اللہ کی روایت ہے، غندر رحمہ اللہ کی حدیث میں بشر کی امارت اور فرض نمازوں کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 547]
ترقیم فوادعبدالباقی: 231
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (545)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 232 ترقیم شاملہ: -- 548
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: " تَوَضَّأَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يَوْمًا، وُضُوءًا حَسَنًا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ، لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، غُفِرَ لَهُ مَا خَلَا مِنْ ذَنْبِهِ ".
بکیر بن عبداللہ (مخرمہ کے والد) نے حمران (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مولیٰ) سے روایت کی کہ ایک دن حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بہت اچھی طرح وضو کیا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے بہت اچھی طرح وضو کیا، پھر فرمایا: ”جس نے اس طرح وضو کیا، پھر مسجد کی طرف نکلا، نماز ہی نے اسے (جانے کے لیے) کھڑا کیا تو اس کے گزرے ہوئے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 548]
حمران رحمہ اللہ (مولیٰ عثمان) سے روایت ہے، کہ ایک دن حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بہت اچھی طرح وضو کیا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے بہت اچھی طرح وضو کیا پھر فرمایا: ”جس نے اس طرح وضو کیا، پھر مسجد کو محض نماز کے ارادے سے گیا، تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 548]
ترقیم فوادعبدالباقی: 232
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم {9787)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 232 ترقیم شاملہ: -- 549
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ الْحُكَيْمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَاهُ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمَا، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ، فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ، فَصَلَّاهَا مَعَ النَّاسِ، أَوْ مَعَ الْجَمَاعَةِ، أَوْ فِي الْمَسْجِدِ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ ".
معاذ بن عبدالرحمن نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مولیٰ حمران سے اور انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے نماز کے لیے وضو کیا اور وضو کی تکمیل کی، پھر فرض نماز کے لیے چل کر گیا اور لوگوں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ یا مسجد میں نماز ادا کی، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 549]
حمران رحمہ اللہ مولیٰ عثمان بن عفان، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے نماز کے لیے کامل وضو کیا، پھر فرض نماز کے لیے چل کر گیا اور لوگوں کے ساتھ یا باجماعت نماز ادا کی یا مسجد میں نماز پڑھی، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 549]
ترقیم فوادعبدالباقی: 232
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الرقاق، باب: قول الله تعالی ﴿ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۖ وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ ، إِنَّ الشَّيْطَانَ .. الآية ﴾ برقم (6433) والنسائي في ((المجتبى)) 1/ 111- 112 في الامامة، باب: حد ادراك الجماعة - انظر ((التحفة)) برقم (9797)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة