المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
7. صفة صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم
رسول اللہ ﷺ کی نماز کا طریقہ
حدیث نمبر: 187
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاةِ الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَكَانَ يُسْمِعُنَا أَحْيَانًا الآيَةَ، وَكَانَ يُطِيلُ فِي الأُولَى مَا لا يُطِيلُ فِي الثَّانِيَةِ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، قَالَ: وَكَذَلِكَ فِي صَلاةِ الْعَصْرِ، قَالَ: وَكَذَلِكَ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ" ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: وَرَوَاهُ مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، الأَوْزَاعِيِّ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ هَكَذَا، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: وَصَلاةِ الْفَجْرِ، حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحُمَيْدِيِّ عَنْهُ.
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں سورت فاتحہ اور مزید کوئی سورت پڑھا کرتے تھے، کبھی کبھار کوئی آیت ہمیں سنا بھی دیا کرتے تھے۔ پہلی رکعت جس قدر لمبی کرتے، دوسری اس قدر لمبی نہیں کرتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں (صرف) سورت فاتحہ پڑھا کرتے تھے۔ ابوقتادہ کہتے ہیں: نماز عصر اور فجر میں بھی آپ اسی طرح کیا کرتے تھے۔ ابومحمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے مگر اس میں نماز فجر کا ذکر نہیں ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 187]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 776، صحيح مسلم: 451»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: متفق عليه
حدیث نمبر: 188
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: فِي كُلِّ صَلاةٍ قِرَاءَةً، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَى عَنَّا أَخْفَيْنَا عَنْكُمْ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " لا صَلاةَ إِلا بِقِرَاءَةٍ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہر نماز میں قرآت ہے، جہاں آپ نے ہمیں سنایا، ہم نے بھی آپ کو سنا دیا اور جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخفی رکھا، ہم نے بھی مخفی رکھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: قرآت کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 188]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 772، صحيح مسلم: 396»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: متفق عليه
حدیث نمبر: 189
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا يُجْزِينِي عَنِ الْقُرْآنِ، فَقَالَ:" قُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ" ، قَالَ سُفْيَانُ: زَادَ يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ الرَّجُلُ: هَذَا لِرَبِّي، فَمَا لِي؟ قَالَ:" قُلِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي"، قَالَ الرَّجُلُ: أَرْبَعٌ لِرَبِّي وَأَرْبَعٌ لِي.
سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایسی چیز سکھا دیں، جو قرآن کی جگہ مجھے کفایت کر جائے، فرمایا: «سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ» کہیے۔ سفیان کہتے ہیں: ابو خالد واسطی کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ اس آدمی نے کہا: یہ کلمات تو میرے رب کے لیے ہیں، میرے لیے کیا ہے؟ فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت اور عافیت دے۔) پڑھیے۔ اس شخص نے کہا: چار کلمات میرے رب کے لیے ہیں اور چار ہی میرے لیے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 189]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 4/353، 356، سنن أبي داود: 832، سنن النسائي: 925، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (544)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (1808، 1809، 1810) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (2411) نے امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔ ابراہیم سکسکی راوی ”حسن الحدیث“ ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
حدیث نمبر: 190
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا، فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تُؤَمِّنُ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قاری (امام) آمین کہے، تو آپ بھی آمین کہیں، کیوں کہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں۔ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل گئی، اس کے پہلے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 190]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 780، صحیح مسلم: 410»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 191
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: ثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ " يُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ" وَيَقُولُ: إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ (نماز میں) جب بھی جھکتے یا اُٹھتے تو «الله اكبر» کہتے اور فرماتے: میری نماز آپ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہ ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 191]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 785، صحیح مسلم: 392»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 192
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنِّي لأُعَلِّمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: لِمَ، فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ أَكْثَرَنَا لَهُ تَبِعًا وَلا أَقْدَمَنَا أَوْ قَالَ: أَطْوَلَ لَهُ مِنَّا صُحْبَةً، قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَأَعْرِضْ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ حَتَّى يَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلا ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مِفْصَلِهِ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ يَعْتَدِلُ، وَلا يُصَوِّبُ وَلا يُقْنِعُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلا، قَالَ أَبُو عَاصِمٍ: أَظُنُّهُ قَالَ: حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الأَرْضِ مُجَافِيًا يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ ثُمَّ يَسْجُدُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيُثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى، فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا، وَكَانَ يَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ ثُمَّ يَعُودُ فَيَسْجُدُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَيُثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا مُعْتَدِلا حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الأُخْرَى مثل ذَلِكَ حَتَّى إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا فَعَلَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلاةِ ثُمَّ صَنَعَ فِي بَقِيَّةِ صَلاتِهِ مثل ذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الْقَعْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَجَلَسَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الأَيْسَرِ" ، قَالُوا: صَدَقْتَ، هَكَذَا كَانَ يَفْعَلُ۔
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سمیت دس صحابہ کی موجودگی میں کہا: رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو میں آپ سب سے زیادہ جانتا ہوں، انہوں نے کہا: وہ کیسے؟ اللہ کی قسم! نہ تو آپ ہم سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرنے والے تھے اور نہ ہی ہم سے زیادہ صحبت رکھنے والے تھے، سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے! انہوں نے کہا: اچھا پھر پیش کریں۔ سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے، تو کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے اور تکبیر کہتے حتی کہ ہر ہڈی اعتدال کے ساتھ اپنی اپنی جگہ آ جاتی، پھر قرآت کرتے، پھر تکبیر کہتے اور کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے، حتی کہ ہر ہڈی اپنے جوڑ پر واپس آ جاتی، پھر رکوع کرتے اور ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھ کر بالکل سیدھے ہو جاتے، نہ سر کو زیادہ جھکاتے، نہ اونچا کرتے، پھر سر اٹھاتے اور «سمع الله لمن حمده» کہتے، پھر ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتے اور سیدھے کھڑے ہو جاتے، ابو عاصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے خیال میں یوں کہا تھا: حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر واپس آ جاتی، پھر «الله اكبر» کہتے اور زمین کی طرف جھکتے، دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے دور رکھ کر سجدہ کرتے، پھر سر اٹھاتے اور بایاں پاؤں موڑ کر اس کے اوپر بیٹھتے۔ جب سجدہ کرتے تو دونوں پاؤں کی انگلیاں کھلی رکھتے، پھر دوبارہ سجدہ کرتے، پھر «الله اكبر» کہتے اور اپنا سر اٹھاتے اور بایاں پاؤں موڑ کر اس پر اتنی دیر سیدھے بیٹھتے کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آتی، پھر دوسری رکعت میں ایسے ہی کرتے، پھر جب دو رکعتوں سے اٹھتے، تو دونوں ہاتھ اسی طرح کندھوں کے برابر اٹھاتے، جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت اٹھاتے تھے، پھر باقی نماز اسی طرح ادا کرتے، حتی کہ جب آخری قعدہ، جس میں سلام پھیرا جاتا ہے، میں ہوتے، تو بائیں پاؤں کو (سرین کے نیچے سے دائیں طرف) نکال کر بائیں کو لہے پر بیٹھتے۔ ان سب نے کہا: آپ نے سچ کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی نماز پڑھتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 192]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 5/424، سنن أبي داود: 730، سنن الترمذي: 304، سنن ابن ماجه: 862، 1062، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (587)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (1865)، حافظ خطابی رحمہ اللہ (معالم السنن: 1/194)، حافظ نووی رحمہ اللہ (خلاصة الاحکام: 1/353) اور حافظ ابن قیم رحمہ اللہ (تہذیب السنن: 2/416) نے صحیح کہا ہے، علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (نخب الافکار: 4/150) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ امام محمد بن یحییٰ ذیلی ابو عبداللہ نیساپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جس نے یہ حدیث سن لی اور پھر وہ رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین نہ کرے، تو اس کی نماز ناقص ہے۔“ (صحیح ابن خزیمہ: 1/298، وسندہ صحیح)»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 193
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: وثَنَا بِهِ أَبُو عَاصِمٍ مَرَّةً أُخْرَى، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ: إِنِّي لأُعَلِّمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ يَحْيَى: وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سمیت دس صحابہ کی موجودگی میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو میں آپ سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ ابن یحیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: آگے انہوں نے ساری حدیث بیان کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 193]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: انظر الحديث السابق»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 194
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، قَالَ: ثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ: ثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَيْكَ ارْجِعْ فَصَلِّهِ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، قَالَ: فَرَجَعَ فَصَلَّى، قَالَ: فَجَعَلْنَا نَرْمُقُ صَلاتَهُ لا نَدْرِي مَا يَعِيبُ مِنْهَا، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَيْكَ ارْجِعْ فَصَلِّهِ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، وَذَكَرَ ذَلِكَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ وَإِمَّا ثَلاثًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا أَدْرِي مَا عِبْتَ عَلَيَّ مِنْ صَلاتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا لا تَتِمُّ صَلاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى، فَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، وَيَمْسَحُ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُكَبِّرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيُمَجِّدَهُ وَيَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا أَذِنَ اللَّهُ لَهُ فِيهِ وَتَيَسَّرَ ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْكَعُ فَيَضَعُ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، يَسْتَوِي قَائِمًا حَتَّى يَأْخُذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ وَيُقِيمُ صُلْبَهُ ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَسْجُدُ فَيُمَكِّنُ جَبْهَتَهُ، قَالَ هَمَّامٌ: وَرُبَّمَا قَالَ: فَيُمَكِّنُ وَجْهَهُ مِنَ الأَرْضِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَسْتَوِي قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدَتِهِ وَيُقِيمُ صُلْبَهُ، فَوَصْفُ الصَّلاةِ هَكَذَا حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ قَالَ: لا تَتِمُّ صَلاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ" .
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، اس نے نماز پڑھی، جب نماز پوری ہوئی، تو آپ کے پاس آیا اور آپ سمیت سب لوگوں کو سلام کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیا اور فرمایا: واپس جا کر نماز پڑھیں، کیوں کہ آپ نے نماز نہیں پڑھی۔ صحابی کہتے ہیں کہ اس نے واپس جا کر نماز پڑھی، تو ہم اس کی نماز کو دیکھنے لگے ہمیں نہیں پتہ تھا کہ اس کی نماز میں کیا نقص ہے؟ جب نماز پوری ہوئی، تو آپ کے پاس آیا اور آپ سمیت سب لوگوں کو سلام کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیا اور فرمایا: واپس جا کر دوبارہ نماز پڑھیں، کیوں کہ آپ نے نماز نہیں پڑھی۔ دو یا تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا، تو اس آدمی نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ آپ میری نماز میں کیا نقص پاتے ہیں؟ فرمایا: اس وقت تک کسی شخص کی نماز مکمل نہیں ہوتی، جب تک اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اچھی طرح وضو نہ کر لے، اسے چاہیے کہ اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوئے سر کا مسح کرے اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے، پھر تکبیر کہے، اللہ کی حمد و ثنا اور بزرگی بیان کرے، پھر جس قدر ہو سکے، اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق قرآن کی تلاوت کرے، پھر تکبیر کہہ کر رکوع کرے اور اپنی ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھے، یہاں تک کہ جوڑ اپنی جگہ پر پہنچ جائیں، پھر «سمع الله لمن حمده» کہہ کر سیدھا کھڑا ہو جائے، یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جائے اور کمر سیدھی ہو جائے، پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کرے، تو اپنی پیشانی اچھی طرح زمین پر لگائے (ہمام رحمہ اللہ کہتے ہیں. بعض اوقات پیشانی کی جگہ چہرے کا ذکر کیا ہے) یہاں تک کہ جوڑ اپنی جگہ پہنچ جائیں، پھر تکبیر کہہ کر سر اٹھائے اور اپنی سرین پر سیدھا بیٹھ جائے اور اپنی کمر کو سیدھا کر لے، آپ نے پوری نماز اسی طرح بیان کی، یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو گئے، پھر فرمایا: اس وقت تک کسی کی نماز پوری نہیں ہوتی، جب تک اس طرح نماز نہ پڑھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 194]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح وللحديث طرق كثيرة: مسند الإمام أحمد: 4/340، سنن أبي داود: 858، سنن النسائي: 1137، سنن ابن ماجه: 460، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ (302) نے حسن، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (545) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (1787) نے صحیح کہا ہے، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (1/241، 242) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ“ (نخب الافكار)»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح وللحديث طرق كثيرة
حدیث نمبر: 195
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ: ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُجْزِي صَلاةٌ لا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ" .
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی رکوع و سجود میں اپنی پشت سیدھی نہیں کرتا، اس کی نماز کفایت نہیں کرتی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 195]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 4/119، سنن أبي داود: 855، سنن النسائي: 1027، سنن الترمذي: 265، سنن ابن ماجه: 780، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ اور حافظ بغوی رحمہ اللہ (617) نے حسن صحیح، امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (1611)، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (591، 592) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (1892، 1893) نے صحیح کہا ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ (1/318) فرماتے ہیں: ”هَذَا إِسْنَادٌ ثَابِتٌ صَحِيحٌ“۔ امام بیہقی رحمہ اللہ (السنن الکبری: 2/88) نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے، حافظ ابونعیم اصبہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”صَحِيحٌ ثَابِتٌ“ (حلية الأولياء: 8/16) اعمش نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 196
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ، " فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ" ، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ثُمَّ أَمَرَنَا بِهَذَا يَعْنِي الإِمْسَاكَ بِالرُّكَبِ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ.
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی، تو تکبیر کہہ کر دونوں ہاتھ اٹھائے، جب رکوع میں گئے، تو ہتھیلیوں کو جوڑ کر گھٹنوں کے درمیان رکھا۔ علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب یہ بات سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو پہنچی، فرمایا: میرا بھائی سچ کہتا ہے، ہم ایسے ہی کیا کرتے تھے، پھر ہمیں گھٹنے پکڑنے اور اور دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کا حکم دیا گیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 196]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 1/378، سنن أبي داود: 747، سنن النسائي: 1031، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (595) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/181، 224) نے اسے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (فتح الباری: 2/274) نے اسے قوی قرار دیا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح