المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
7. صفة صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم
رسول اللہ ﷺ کی نماز کا طریقہ
حدیث نمبر: 207
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: ثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَعَوَّذْ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ثُمَّ لَيَدَعُ لِنَفْسِهِ بِمَا بَدَا لَهُ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی تشہد بیٹھے، تو چار چیزوں سے پناہ مانگے، جہنم کے عذاب، قبر کے عذاب، زندگی اور موت کے فتنے اور مسیح دجال کے شر سے، پھر اپنے لیے جو چاہے، دعا مانگے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 207]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1377، صحیح مسلم: 588»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 208
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: لأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ " قَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ ثُمَّ رَكَعَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحَذَاءِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَوَضَعَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ قَبَضَ ثِنْتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ، فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو" ، ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَنٍ فِيهِ بَرْدٌ، فَرَأَيْتُ النَّاسَ وَعَلَيْهِمْ جُلُّ الثِّيَابِ تُحَرِّكُ أَيْدِيَهُمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ.
سیدنا ابو وائل رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے ہیں؟ پھر میں نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کانوں کے برابر اٹھائے، پھر دائیں ہتھیلی کو بائیں ہتھیلی کی پشت، کلائی اور کلائی کے جوڑ پر رکھا، پھر رکوع کیا، تو اسی طرح ہاتھوں کو اٹھایا، پھر سجدے میں گئے، تو ہاتھ کانوں کے برابر رکھے، پھر جب بیٹھے، تو بائیں پاؤں کو بچھایا اور بائیں ہتھیلی کو بائیں ران اور گھٹنے پر رکھا اور دائیں کہنی کا کنارہ دائیں ران سے اٹھا کر رکھا، پھر اپنی دو انگلیوں کو بند کر کے حلقہ بنایا، پھر انگلی کو اٹھایا، دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے حرکت دے رہے تھے اور دُعا پڑھ رہے تھے۔ پھر سردی کے موسم میں آنا ہوا، تو لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے کپڑے کی بڑی بڑی چادریں لی ہوئی ہیں اور نیچے سے ان کے ہاتھ (رفع الیدین کے لیے) حرکت کر رہے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 208]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 4/318، سنن أبي داود: 727، سنن النسائي: 889، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (480، 714) امام ابن حبان رحمہ اللہ (1860) اور علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (زاد المعاد: 1/231) نے صحیح کہا ہے، حافظ نووی رحمہ اللہ (المجموع: 3/312) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 209
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ: السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، وَعَنْ يَسَارِهِ: السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ مِنْ هَاهُنَا وَبَيَاضُ خَدِّهِ مِنْ هَاهُنَا" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «السلام عليكم ورحمة الله» کہہ کر دائیں طرف سلام پھیرتے پھر «السلام عليكم ورحمته الله» کہ کر بائیں طرف سلام پھیرتے حتی کہ دونوں طرف سے رخساروں کی سفیدی نظر آتی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 209]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: مسند الإمام أحمد: 1/408، 409، سنن أبي داود: 996، سنن النسائي: 1323-1326، سنن الترمذي: 295، سنن ابن ماجه: 914، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (728) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (1990) اور حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (البدر المنیر: 4/471) نے صحیح کہا ہے۔ سفیان ثوری کی متابعت ہوتی ہے، ابو اسحاق نے مسند احمد (1/408) میں سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح