المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
7. صفة صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم
رسول اللہ ﷺ کی نماز کا طریقہ
حدیث نمبر: 197
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، ح وَثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالا: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِنْ صَلاةِ الصُّبْحِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز میں دوسرے رکوع سے سر اٹھایا تو یہ دُعا پڑھی: ”اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ربیعہ اور مکہ کے کمزور مسلمانوں کو نجات دلا اور قبیلہ مضر پر اپنی گرفت سخت کر دے اور ان کو یوسف (علیہ السلام) کے دور جیسی قحط سالی میں مبتلا کر دے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 197]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 804، صحیح مسلم: 675»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 198
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّدُوسِيُّ وَلَقَبُهُ عَارِمٌ وَكَانَ بَعِيدًا مِنَ الْعَرَّامَةِ ثِقَةً صَدُوقًا مُسْلِمًا، قَالَ: ثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ الأَحْوَلُ ، قَالَ: ثَنَا هِلالٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ، إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ" ، قَالَ: أَرْسَلَ يَدْعُوهُمْ إِلَى الإِسْلامِ فَقَتَلُوهُمْ، قَالَ عِكْرِمَةُ: هَذَا مِفْتَاحُ الْقُنُوتِ.
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینہ بھر پانچوں نمازوں کے بعد مسلسل قنوت (نازلہ) کیا، جب آخری رکعت کے رکوع سے اٹھ کر «سمع الله لمن حمده» کہتے تو قبیلہ بنو سلیم (رعل، ذکوان) کے خلاف بد دعا کرتے اور مقتدی آمین کہتے، راوی کہتے ہیں: آپ نے انہیں اسلام کی دعوت دینے کے لیے (مبلغ) بھیجے تھے، جنہیں انہوں نے قتل کر دیا۔ عکرمہ کہتے ہیں قنوت (نازلہ) کی ابتدا یہیں سے ہوئی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 198]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن وللحديث شواهد: مسند الإمام أحمد: 1/301، 302، سنن أبي داود: 1443، اس حدیث کے بارے میں امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وَهَذَا خَبَرٌ صَحِيحٌ عِنْدَنَا سَنَدُهُ“ (تهذيب الآثار: 1/318- مسند ابن عباس)، نیز اسے امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (618) اور علامہ ابن القیم رحمہ اللہ (زاد المعاد: 1/271) نے صحیح کہا ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ (1/225) نے امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، حافظ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ أَوْ صَحِيحٍ“ (خلاصة الاحكام: 1/461، المجموع شرح المهذب: 3/502) حافظ منذری رحمہ اللہ (البدر المنیر لابن الملقن: 3/628)، حافظ حازمی رحمہ اللہ (الاعتبار، ص: 85) اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (نتائج الافکار: 2/130) نے اسے حسن کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: حسن وللحديث شواهد
حدیث نمبر: 199
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ، وَنَهَى أَنْ يَكُفَّ شَعْرًا أَوْ ثَوْبًا يَدَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَجَبْهَتِهِ وَأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات (اعضا) دو ہاتھ، دو گھٹنے، دونوں پاؤں کی انگلیوں کے کنارے اور پیشانی پر سجدہ کرنے کا حکم دیا ہے، نیز بالوں اور کپڑوں کو سمیٹنے سے منع کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 199]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 809، صحیح مسلم: 490»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 200
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: ثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَالَّذِي أَكْرَمَهُ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي بِنَا لَيْلَةً صَلاةَ الْمَغْرِبِ وَإِنَّ جَبِينَهُ وَأَرْنَبَتَهُ لَفِي الْمَاءِ وَالطِّينِ" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس ذات کی قسم، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت دی اور آپ پر کتاب نازل کی! میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے اور آپ کی پیشانی اور ناک کی کونپل پانی اور مٹی (کیچڑ) میں تھی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 200]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2040، مسند الحمیدی: 756، مسند الإمام أحمد: 3/24»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 201
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: ثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ فَلْيَرْفَعْهُمَا، فَإِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی سجدہ کرے، تو اپنے ہاتھوں کو بھی رکھے اور جب (سر) اٹھائے، تو ہاتھ بھی اٹھائے، کیوں کہ چہرے کی طرح دونوں ہاتھ بھی سجدہ کرتے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 201]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 2/6، سنن أبي داود: 892، سنن النسائي: 1093، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (630) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (1/226، 227) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، یہ روایت موطا امام مالک (1/163) میں بسند صحیح موقوفاً بھی ثابت ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 202
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قُلْتُ: لأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَلَمَّا افْتَتَحَ الصَّلاةَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَرَأَيْتُ إِبْهَامَيْهِ قَرِيبًا مِنَ أُذُنَيْهِ"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ:" فَسَجَدَ فَوَضَعَ رَأْسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى مثل مِقْدَارِهِمَا حِينَ افْتَتَحَ الصَّلاةَ" .
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو ضرور دیکھوں گا، بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز شروع کی تو تکبیر کہہ کر دونوں ہاتھ اٹھائے، میں نے آپ کے انگوٹھوں کو کانوں کے قریب دیکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوری حدیث بیان کی۔ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، تو اپنا سر دونوں ہاتھوں کے درمیان اتنے ہی فاصلے پر رکھا، جتنا کہ افتتاحی تکبیر (تحریمہ) کے دوران تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 202]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: سنن النسائي: 1102، سنن ابن ماجه: 912، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (691) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (1945) نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 203
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، قَالا: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ: وَقَالَ مَرَّةً: فَأَرَادَ أَنْ يَنْكُصَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ امْكُثْ فَمَكَثَ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، " إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةَ يَرَاهَا الرَّجُلُ أَوْ تُرَى لَهُ" . ثُمَّ قَالَ: " أَلا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ" ، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ: وَقَالَ مَرَّةً: فَعَسَى، الْحَدِيثُ لابْنِ الْمُقْرِئِ.
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بیماری کے دوران) پردہ ہٹایا، تو لوگ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں بنائے کھڑے تھے، ابن مقریٔ کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکنے کا اشارہ کیا، تو وہ رُک گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! نبوت کی خوشخبریوں میں سے اب صرف نیک خواب ہی باقی رہ گئے ہیں، جو آدمی خود دیکھتا ہے یا اس کے متعلق کسی کو دکھایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا: مجھے حالت رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، چنانچہ رکوع میں اپنے رب کی عظمت بیان کریں اور سجدے میں دعا کرنے کی کوشش کریں، کیوں کہ اس کا قبول ہونا بعید نہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 203]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 479»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 204
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: ثَنَا الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَصْرِيُّ ، قَالَ: ثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: ثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَنَا فِي مَسْجِدِنَا فَصَلَّى بِنَا، فَقَالَ: أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، قَالَ:" كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ جَلَسَ وَاعْتَمَدَ عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ قَامَ" .
ابو قلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں آ کر کہنے لگے: میں تمھیں دکھانا چاہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھا کرتے تھے؟ چنانچہ بیان کرنے لگے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے، تو بیٹھ جاتے، پھر زمین کا سہارا لے کر اٹھتے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 204]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 824، صحیح مسلم: 391، مختصراً»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 205
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: ثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْنَا: السَّلامُ عَلَى جِبْرِيلَ السَّلامُ عَلَى مِيكَائِيلَ السَّلامُ عَلَى إِسْرَافِيلَ السَّلامُ عَلَى فُلانٍ وَفُلانٍ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلامُ، فَإِذَا جَلَسْتُمْ فِي الصَّلاةِ، فَقُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمُوهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مَا شَاءَ" .
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے، تو (تشہد میں) کہتے: جبرئیل پر سلام ہو، میکائیل پر سلام ہو، اسرافیل پر سلام ہو اور فلاں فلاں پر سلام ہو، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: اللہ تعالیٰ تو خود ہی سلام ہے، چنانچہ جب آپ نماز میں (تشہد) بیٹھیں، تو یوں کہیں: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ» جب آپ یہ کلمات کہہ لیں تو زمین و آسمان اور ان دونوں کے درمیان موجود ہر نیک آدمی کو اس کا سلام پہنچ جائے گا۔ پھر کہیں: «أَشْهَدُ أَن لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» پھر جو (دعا) چاہیں، مانگیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 205]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 831، صحیح مسلم: 402»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 206
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: ثَنِي الْحَكَمُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَلا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً أَوْ أَلا أُحَدِّثُكَ؟ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَرَفْنَا أَوْ قَدْ عَلِمْنَا السَّلامَ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ الصَّلاةُ؟ قَالَ: قُولُوا: " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .
ابن ابی لیلٰی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے تو کہنے لگے: کیا میں تجھے تحفہ نہ دوں؟ یا یوں کہا: کیا میں آپ کو حدیث نہ بیان کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، تو ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے، ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟، فرمایا: یوں کہیں: اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر رحمت نازل کر، جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آل ابراہیم (علیہ السلام) پر رحمت نازل کی ہے، بے شک تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر برکت نازل فرما، جس طرح تو نے آل ابراہیم پر برکت نازل کی، بے شک تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 206]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6357، صحیح مسلم: 406»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح