🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. باب السهو
سجدہ سہو کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 241
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَنَا الْمَاجِشُونُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: ثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فِي الثَّلاثِ وَالأَرْبَعِ فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً حَتَّى يَكُونَ الشَّكُّ فِي الزِّيَادَةِ ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعْنَ لَهُ وَإِنْ كَانَ أَرْبَعًا فَهُمَا تُرْغِمَانِ الشَّيْطَانَ" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کو نماز میں شک ہو جائے کہ تین (رکعتیں) ہوئی ہیں یا چار تو وہ کھڑا ہو کر ایک رکعت اور پڑھ لے، تا کہ شک والی رکعت اضافی ہو جائے، پھر سلام سے پہلے دو سجدہ سہو کر لے، اگر اس نے پانچ رکعت پڑھ لی ہیں، تو یہ سجدے انہیں جفت بنا دیں گے اور اگر چار ہی پڑھی ہیں، تو شیطان کو ذلیل کر دیں گے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 241]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 571»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 242
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالا: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ، فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَسَبَّحْنَا بِهِ فَمَضَى فِي صَلاتِهِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ" ، الْحَدِيثُ لِلدَّارِمِيِّ.
سیدنا عبد اللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی، تو دو رکعت کے بعد کھڑے ہو گئے (تشہد نہ بیٹھے) ہم نے «سبحان الله» کہا، مگر آپ نے نماز جاری رکھی، پھر دو سجدے (سہو) کر کے سلام پھیر دیا۔ یہ الفاظ احمد بن سعید دارمی کے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 242]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1225، صحيح مسلم: 570»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 243
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ الْهِلالِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتِي الْعَشِيِّ، إِمَّا الظُّهْرَ، وَإِمَّا الْعَصْرَ، أَظُنُّ أَنَّهَا الْعَصْرُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَجَلَسَ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ كَالْمُغْضَبِ، فَذَهَبَ سَرَعَانُ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ: قَصُرَتِ الصَّلاةُ قَصُرَتِ الصَّلاةُ، فَتَقَدَّمَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَصُرَتِ الصَّلاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ: أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَكَبَّرَ وَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زوال آفتاب کے بعد والی نمازوں میں سے کوئی ایک ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی، میرا خیال ہے کہ عصر کی نماز تھی، دو رکعتیں پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا، پھر غصے سے آگے بڑھے اور کھجور کے تنے کے پاس بیٹھ گئے، جلدی جانے والے لوگ یہ کہتے کہتے چلے گئے کہ نماز کم ہو گئی ہے، نماز کم ہو گئی ہے، ذوالیدین رضی اللہ عنہ آ گے بڑھ کر پوچھنے لگے: اللہ کے رسول! نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ فرمایا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں! راوی کہتے ہیں: آپ نے (مزید) دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا، پھر تکبیر کہہ کرسجدہ کیا، پھر تکبیر کہ کر سر اٹھایا، پھر تکبیر کہ کرسجدہ کیا، پھر تکبیر کہ کر سر اٹھایا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 243]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1228، صحيح مسلم: 573»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 244
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: ثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَادَ فِي الصَّلاةِ أَوْ نَقَصَ، قَالَ مَنْصُورٌ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّاسِي: ذَلِكَ عَلْقَمَةُ أَوْ عَلْقَمَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ فَأَخْبَرَنَاهُ بِالَّذِي صَنَعَ، فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: " إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ لَنَبَّأْتُكُمْ وَلَكِنِّي بَشَرٌ أَذَكَرُ كَمَا تَذْكُرُونَ وَأَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي وَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي صَلاتِهِ فَلْيَنْظُرْ أَقْرَبَ ذَلِكَ إِلَى الصَّوَابِ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ وَيَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ" .
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، تو اس میں کمی یا بیشی کر دی، ابراہیم کہتے ہیں: یہ شبہ علقمہ کو ہوا یا علقمہ نے عبد اللہ بن مسعود سے نقل کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کرنے کے بعد ہماری طرف منہ کیا تو ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز کے متعلق کوئی نیا حکم آ گیا ہے؟ فرمایا: کیا ہوا؟، ہم نے بتایا، تو آپ نے پاؤں موڑا اور قبلہ رخ ہو کر دو سجدے کیے، پھر ہماری طرف رخ انور کر کے فرمایا: اگر نماز کے متعلق کوئی نیا حکم نازل ہوتا، تو میں آپ کو آگاہ کر دیتا لیکن میں بھی انسان ہوں، آپ کی طرح یاد بھی رکھتا ہوں اور بھول بھی جاتا ہوں، جب میں بھول جاؤں، تو یاد کروا دیا کریں۔ جسے بھی نماز میں شک ہو جائے تو وہ زیادہ صحیح کا تعین کرے، پھر اس کے مطابق نماز مکمل کر کے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کر لے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 244]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1226، 401، صحيح مسلم: 572»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 245
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: ثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى صَلاةَ الْعَصْرِ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ فَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ، فَصَلَّى رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کی تین رکعات پڑھا کر سلام پھیر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا، تو ایک رکعت مزید پڑھائی، پھر سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیر دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 245]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 574»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 246
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: صَلَّى بِهِمْ عَلْقَمَةُ خَمْسًا، قَالَ: فَقَالُوا: يَا أَبَا شِبْلٍ زِدْتَ فِي الصَّلاةِ، قَالَ: فَقَالَ: لَمْ أَفْعَلْ، قَالَ: قَالُوا: بَلَى، قَالَ: قَالَ إِبْرَاهِيم: فَقُلْتُ: بَلَى مِنْ جَانِبِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَقَالَ وَأَنْتَ أَعْوَرُ تَقُولُ ذَلِكَ، قَالَ: فَانْفَتَلَ وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ حَدَّثَهُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى بِهِمْ خَمْسًا، قَالَ: فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، وَقَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ" ، إِبْرَاهِيمُ هَذَا هُوَ ابْنُ سُوَيْدٍ النَّخَعِيُّ وَلَيْسَ بِإِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ.
ابراہیم بن سوید رحمہ اللہ کہتے ہیں: علقمہ رحمہ اللہ نے انہیں پانچ رکعات نماز پڑھا دی، لوگوں نے کہا: اے ابو شبل! آپ نے نماز میں اضافہ کر دیا ہے، انہوں نے کہا: میں نے تو اضافہ نہیں کیا، لوگوں نے کہا: آپ نے اضافہ کیا ہے، ابراہیم کہتے ہیں: میں نے بھی مسجد کی ایک طرف سے کہا: جی ہاں! (آپ نے اضافہ کیا ہے) علقمہ رحمہ اللہ کہنے لگے: اوکانے! تو بھی یہی بات کہتا ہے؟ چنانچہ انہوں نے مڑ کر دو سجدے کیے۔ پھر انہیں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پانچ رکعتیں پڑھا دی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے، پھر فرمایا: میں بھی انسان ہوں، جس طرح آپ بھولتے ہیں، میں بھی بھول جاتا ہوں۔ اس سے ابراہیم بن سوید نخعی مراد ہیں نہ کہ ابراہیم بن یزید نخعی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 246]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 572»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 247
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنِي الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَنِي أَشْعَثُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِهِمْ فَسَهَى فِي صَلاتِهِ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ سَلَّمَ" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی۔ نماز میں بھول گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدے کیے، پھر تشہد پڑھی اور سلام پھیر دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 247]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: سنن أبي داود: 1039، سنن الترمذي: 395، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب صحیح، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1062) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (2670، 2672) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/323) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، ”ثم تشہد“ کے الفاظ محمد بن سیرین رحمہ اللہ کے شاگردوں میں سے صرف اشعث بن عبد الملک حرانی رحمہ اللہ نے بیان کیے ہیں اور وہ ثقہ ہیں، لہذا یہ زیادت محفوظ ہے، باقی رہا محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا یہ کہنا: «لَمْ أَسْمَعْ فِي التَّشَهُّدِ وَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَتَشَهَّدَ» ”میں نے تشہد کے بارے میں کچھ نہیں سنا، تشہد بیٹھنا ہی مجھے محبوب ہے۔“ (سنن أبي داود: 1040) تو یہ اس روایت کے لیے موجبِ ضعف نہیں، یہ انسی بعد ما حدث کے قبیل سے ہے، لہذا امام ابن منذر رحمہ اللہ (الاوسط: 3/317) امام بیہقی رحمہ اللہ (السنن الکبری: 2/355) اور حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (التمہید: 10/209) وغیرہ کا ”ثم تشہد“ کے الفاظ کو خطا اور غیر ثابت کہنا صحیح نہیں۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں