🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب
باب (متفرق احکام)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 733
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ مَوْلَى عَزَّةَ، يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ، فَقَالَ: كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا؟ فَقَالَ: طَلَّقَ عَبْدُ اللَّهِ امْرَأَتَهُ حَائِضًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيُرْجِعْهَا، فَرَدَّهَا عَلَيَّ، وَقَالَ: إِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ يُمْسِكْ" قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: وَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ سورة الطلاق آية 1 مِنْ قَبْلِ عِدَّتِهِنَّ .
ابو زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عروہ کے آزاد کردہ غلام عبدالرحمن بن ایمن سے سنا، جب کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھ رہے تھے اور ابو زبیر رحمہ اللہ سن رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا: اس شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دے؟ انہوں (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے کہا: عبداللہ بن عمر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ان سے رجوع کریں۔ آپ نے بیوی کو میرے پاس لوٹا دیا اور فرمایا: جب وہ پاک ہو جائے، تو طلاق دینا یا رکھ لینا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ﴾ (اے نبی! جب آپ اپنی عورتوں کو طلاق دیں، تو انہیں عدت (طہر) کے آغاز میں ہی طلاق دیں)۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 733]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1471»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 734
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ: ثني عُقْبَةُ ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ: ثنا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي، وَحَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ وَالْحَدِيثُ لَهُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى، فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا إِنْ شَاءَ قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا أَوْ يُمْسِكْهَا، فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں حکم دیں کہ ان سے رجوع کر لیں حتی کہ وہ پاک ہو جائیں، پھر انہیں دوبارہ حیض آئے، جب وہ پاک ہو جائے، تو چاہیں، تو انہیں رکھ لیں اور چاہیں، تو جماع کرنے سے پہلے طلاق دے دیں، یہی وہ عدت ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 734]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5332، صحيح مسلم: 1471»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 735
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أنا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا حَتَّى تَطْهُرَ" ، فَقُلْتُ لابْنِ عُمَرَ: اعْتَدَّتْ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ؟ قَالَ: فَمَهْ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے) کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں حکم دیں کہ ان سے رجوع کر لیں حتی کہ وہ پاک ہو جائیں۔ انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ نے اس طلاق کو شمار کیا تھا (یا نہیں)؟ تو انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 735]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5252، صحيح مسلم: 1471»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 736
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالا: ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، قَالَ: ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فِي الْحَيْضِ، وَقَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ:" وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يُطَلِّقُهَا وَهِيَ طَاهِرٌ أَوْ حَامِلٌ" ، قَالَ يُوسُفُ: فَسَأَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں حکم دیں کہ وہ ان سے رجوع کریں، پھر جب وہ پاک ہو جائیں یا حاملہ ہو جائیں، تو طلاق دیں۔ یوسف نے ذکر کی جگہ پوچھنے کا لفظ بولا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 736]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 4908، صحيح مسلم: 1471»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 737
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ نَافِعٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلانِيَّ، فَذَكَرَ فِي قِصَّةِ اللِّعَانِ، قَالَ: فَطَلَّقَهَا ثَلاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانَتْ تِلْكَ سُنَّةُ الْمُتَلاعِنَيْنِ.
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ عویمر عجلانی کے لعان کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں۔ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ لعان کا یہی طریقہ ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 737]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5308، صحيح مسلم: 1492»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 738
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفِ بْنِ سُفْيَانَ الطَّائِيُّ ، قَالَ: ثنا دُحَيْمٌ ، قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ ، قَالَ: ثنا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ : أَيَّ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ ابْنَةَ الْجَوْنِ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَنَا مِنْهَا، فَقَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُذْتِ بِعَظِيمٍ الْحَقِي بِأَهْلِكِ" ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: الْحَقِي بِأَهْلِكِ تَطْلِيقَةٌ.
اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے زہری رحمہ اللہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ کون سی بیوی ہے جس نے آپ سے پناہ مانگی تھی؟ تو انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بیان کیا کہ جون کی بیٹی جب (نکاح کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلوت گاہ میں آئی اور آپ اس کے قریب ہوئے، تو اس نے کہا: میں آپ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ نے بڑی عظیم الشان ذات کی پناہ طلب کی ہے، آپ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جائیں۔ زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: اپنے گھر چلی جائیں، کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 738]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5254»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 739
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: ثنا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي، فَقَالَ: " إِنِّي مُخْبِرُكِ خَبَرًا وَلا عَلَيْكِ أَنْ لا تَعْجَلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَالَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا حَتَّى بَلَغَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 28 - 29 فَقُلْتُ: فِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ؟ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ، قَالَتْ: ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مثل مَا فَعَلْتُ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو اختیار کا حکم دیا، تو ابتدا مجھ سے کی اور فرمایا: میں آپ کو ایک خبر دینے لگا ہوں، مگر اس میں جلدی نہ کرنا، بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کر لینا۔ پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا﴾ (الأحزاب: 28-29) (اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیں، اگر آپ دنیاوی زندگی اور دنیاوی زینت چاہتی ہیں، تو آئیں میں آپ کو کچھ دے دلا دوں اور آپ کو اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں اور اگر آپ کی مراد اللہ اور اس کا رسول اور آخرت کا گھر ہے، تو آپ میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے بہت زبردست اجر رکھا ہے)۔ میں نے کہا: میں اپنے والدین سے کس بارے میں مشورہ کروں؟ میں تو اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو ہی پسند کرتی ہوں۔ فرماتی ہیں: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی بیویوں نے بھی وہی کیا، جو میں نے کیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 739]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 4786، صحيح مسلم: 1475»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 740
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى يَعْنِي الْقَطَّانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَكَانَ طَلاقًا .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تھا، تو کیا یہ طلاق ہوگئی؟ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 740]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5263، صحيح مسلم: 1477»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 741
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ فِي زَوْجِ بَرِيرَةَ ذَاكَ مُغِيثٌ عَبْدُ بَنِي فُلانٍ: " وَاللَّهِ لَكَأَنِّي أَرَاهُ الآنَ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے خاوند کے متعلق فرماتے ہیں: وہ مغیث تھا اور بنو فلاں کا غلام تھا، اللہ کی قسم! یوں لگتا ہے کہ میں اسے اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں (سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا) کے پیچھے پیچھے روتا پھرتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 741]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5281»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 742
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بریرہ کا خاوند غلام تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 742]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1504/13»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں