المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
26. باب ما جاء في العتاقة
غلام آزاد کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 968
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ الْوَرَّاقُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَكِّيُّ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهُ إِرْبًا مِنَ النَّارِ، حَتَّى أَنَّهُ لَيُعْتِقُ بِالْيَدِ الْيَدَ وَبِالرِّجْلِ الرِّجْلَ وَالْفَرْجِ الْفَرْجَ" ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: يَا سَعِيدُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ عِنْدَ ذَلِكَ لِغُلامٍ لَهُ إِمْرَةِ غِلْمَانِهِ: ادْعُ لِي مُطَرِّفًا، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مؤمن غلام کو آزاد کیا، تو اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کر دیں گے، حتی کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ، ٹانگ کے بدلے ٹانگ اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ کو آزاد کر دیں گے۔ علی بن حسین رحمہ اللہ نے پوچھا: سعید! آپ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود یہ حدیث سنی ہے، تو انہوں نے کہا: جی ہاں! تب علی بن حسین رحمہ اللہ نے اپنے غلاموں کے امیر سے کہا: مطرف کو میرے پاس بلائیں، جب وہ آپ کے سامنے آیا، تو آپ نے فرمایا: جائیے، آپ اللہ کی خاطر آزاد ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 968]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2517، صحيح مسلم: 1509۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 969
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَنِي أَبِي ، أَنَّ أَبَا مُرَاوِحٍ الْغِفَارِيَّ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ، قَالَ: فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَغْلاهَا ثَمَنًا وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: تُعِينُ ضَائِعًا أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: تُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ" .
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ انہوں نے پوچھا: کون سا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟ فرمایا جو زیادہ قیمتی اور اپنے مالکوں کو زیادہ پیارا ہو۔ وہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: اگر میں ایسا (غلام آزاد) نہ کر سکوں تو؟ فرمایا: کسی ضائع ہونے والے کی مدد کر دیں، یا کسی بے ہنر کا کام کر دیں۔ انہوں نے کہا: اگر میں اس سے بھی عاجز آ جاؤں (یعنی یہ بھی نہ کر سکوں)؟ فرمایا: برائی سے باز رہیں، یہ ایسا صدقہ ہے، جو آپ خود اپنے اوپر ہی کریں گے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 969]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2818، صحيح مسلم: 84۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 970
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا عَبْدٍ كَانَ بَيْنَ شُرَكَاءَ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمْ نَصِيبَهُ، فَعَلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَ مَا بَقِيَ مِنْهُ إِذَا كَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ ذَلِكَ، وَإِلا عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس غلام میں کئی حصہ دار شامل ہوں، ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دے، اگر اس کے پاس غلام کی (باقی) قیمت کے برابر مال ہے، تو اس کا باقی حصہ آزاد کروانا بھی اسی کے ذمہ ہے، ورنہ (اگر مال نہ ہو تو) اس کی طرف سے جتنا آزاد ہو گیا، اتنا ہی آزاد ہوگا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 970]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2522، صحيح مسلم: 1501۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 971
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالا: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يُجْزِئُ وَلَدٌ وَالِدًا إِلا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹا باپ کا حق صرف اس صورت میں ہی ادا کر سکتا ہے کہ اسے غلام پائے، تو خرید کر آزاد کر دے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 971]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1510۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 972
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرَّمْلِيُّ ، قَالَ: ثنا ضَمْرَةُ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ عَتِيقٌ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی محرم رشتہ دار (جن سے نکاح کرنا حرام ہے اگر ان میں سے ایک عورت ہو) کا مالک بنا، تو وہ غلام آزاد ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 972]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: السنن الكبرى للنسائي: 4897، سنن ابن ماجه: 2525، السنن الكبرى للبيهقي: 10/289۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو منکر کہا ہے۔ سفیان بن سعید ثوری مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 973
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ" .
سیدنا سمرة بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی محرم رشتہ دار (جن سے نکاح کرنا حرام ہے) کا مالک بنا، تو وہ غلام آزاد ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 973]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 5/15-20، سنن أبي داود: 3949، السنن الكبرى للنسائي: 4898-4901، سنن الترمذي: 1365، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (2/214) نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ قتادہ کی متابعت موجود ہے، حسن بصری کی روایت سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی کتاب سے ہوئی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 974
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: ثنا جَرِيرٌ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلاثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: " هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ" وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا" وَكَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سَبِيَّةٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین باتیں سننے کے بعد میں بنو تمیم سے محبت کرتا رہوں گا۔ (1) میں نے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے: میری امت میں سے وہ (بنو تمیم) دجال کے مقابلے میں سب سے زیادہ سخت ہوں گے، (2) ان کے صدقات آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں۔ (3) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان (بنو تمیم) میں سے ایک لونڈی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کر دیں، کیوں کہ یہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 974]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2543، صحيح مسلم: 2525۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 975
حَدَّثَنَا يُوسُفُ ، قَالَ: ثنا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مثل ذَلِكَ.
یہ روایت ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 975]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2543، صحيح مسلم: 2525۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 976
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، قَالَ: ثنا حَمَّادٌ ، قَالَ: أنا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ ، قَالَ: ثنا سَفِينَةُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: " أَعْتَقَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ أَنْ أَخْدُمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَاشَ" .
سیدنا ابو عبد الرحمن سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے آزاد کیا اور مجھ پر یہ شرط عائد کر دی کہ میں زندگی بھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کروں گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 976]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 5/221، سنن أبي داود: 3932، سنن ابن ماجه: 2526، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (2/213-214) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 977
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أنا عِيسَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَرِيرَةَ وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا الْوَلاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالکوں نے ولاء کی شرط لگائی تھی، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بریرہ رضی اللہ عنہا (کو آزاد کرنے) کے متعلق پوچھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولاء کا حقدار آزاد کرنے والا ہی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 977]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2578، صحيح مسلم: 1504/12۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح