المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
94. باب ما جاء في هدايا المشركين
مشرکین کے تحفوں کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 1109
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ حَتَّى قَدِمَ تَبُوكَ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَلِكُ أَيْلَةَ، فَأَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، فَكَسَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدًا وَكَتَبَ لَهُمْ بِبَحْرِهِمْ" .
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے سال ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ (جنگ کے لیے) نکلے حتیٰ کہ آپ تبوک پہنچ گئے۔ پھر ایلہ کا بادشاہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے آپ کو ایک سفید خچر تحفہ دیا۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اسے ایک چادر پہننے کے لیے دی اور لکھوا دیا کہ وہ اپنی قوم کے حاکم کی حیثیت سے باقی رہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1109]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1481، صحیح مسلم: 1392»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 1110
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالَ: أنا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً، أَوْ قَالَ هَدِيَّةً، فَقَالَ لَهُ: أَسْلَمْتَ؟ قَالَ: لا، قَالَ: إِنِّي " نَهَيْتُ عَنْ زَبَدِ الْمُشْرِكِينَ" .
سیدنا عیاض بن حمار مجاشعی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ایک اونٹنی تحفہ کی۔ آپ نے ان سے پوچھا: آپ مسلمان ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں! فرمایا: (قبل از اسلام) مجھے مشرکین کے ہدیے (تحائف) قبول کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1110]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: مسند الطيالسي: 1083، سنن أبي داود: 3057، سنن الترمذي: 1577، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے، قتادہ مدلس ہیں لیکن شواہد کی وجہ سے روایت درست ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
حسن