🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

0. باب الوجوه التي يخرج فيها مال الفيء
مالِ فئی (بغیر جنگ کے حاصل مال) کے مصارف کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1111
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ، فَسَأَلَ: هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، دِينَارَانِ، قَالَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ، قَالَ: فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ، قَالَ: " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، مَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالا فَلِوَرَثَتِهِ" .
سیدنا جابر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ جس کے ذمہ قرض ہوتا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اس کا جنازہ نہیں پڑھایا کرتے تھے۔ ایک میت لائی گئی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اس کے ذمہ قرض ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! دو دینار ہیں۔ آپ نے فرمایا: اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لیں۔ ابو قتادہ رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! وہ دینار میرے ذمہ ہوئے۔ تو آپ نے اس کا جنازہ پڑھا دیا۔ جب الله تعالیٰ نے اپنے رسول صلی الله علیہ وسلم پر خوشحالی کی تو آپ نے فرمایا: میں مسلمانوں کا ان کی ذات سے بھی زیادہ مستحق ہوں، جو (مسلمان) قرض چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہے اور جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1111]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف والحديث صحيح: مصنف عبدالرزاق: 1162، مسند الإمام أحمد: 3/296، سنن أبي داود: 3343، سنن النسائی: 1964، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (3064) نے صحیح کہا ہے۔ امام زہری مدلس ہیں لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف والحديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1112
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: ثنا صَفْوَانُ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَهُ شَيْءٌ قَسَمَهُ مِنْ يَوْمِهِ، فَأَعْطَى الآهِلَ حَظَّيْنِ، وَأَعْطَى الْعَزَبَ حَظًّا وَاحِدًا" ، قَالَ: فَدُعِيتُ وَكُنْتُ أُدْعَى قَبْلَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فَدُعِيتُ فَأَعْطَانِي حَظَّيْنِ، وَكَانَ لِي أَهْلٌ، ثُمَّ دُعِيَ بَعْدُ عَمَّارٌ فَأَعْطَاهُ حَظًّا وَاحِدًا.
سیدنا عوف بن مالک رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس اگر کوئی چیز (مال) آتی تو آپ اسی دن ہی اسے تقسیم کر دیتے، شادی شدہ کو دو حصے دیتے اور کنوارے کو ایک حصہ دیتے۔ عوف کہتے ہیں: مجھے عمار بن یاسر رضی الله عنہ سے پہلے بلایا جاتا تھا، میری بیوی بھی تھی، چنانچہ مجھے بلایا گیا تو آپ نے مجھے دو حصے دیے، پھر بعد میں عمار رضی الله عنہ کو بلایا گیا تو آپ نے انہیں ایک حصہ دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1112]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 6/25-29، سنن أبي داود: 2953»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: ثنا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَبْدُ الْمُطَّلِبِ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ اجْتَمَعَ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالا: وَاللَّهِ لَوْ بَعَثْنَا هَذَيْنِ الْغُلامَيْنِ لِي، وَلِلْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّرَهُمَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، قَالَ: فَكَلَّمْنَاهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْنَاكَ لِتُؤَمِّرَنَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ، فَقَالَ: " أَلا إِنَّ الصَّدَقَةَ لا تَنْبَغِي لِمُحَمَّدٍ، وَلا لآلِ مُحَمَّدٍ، إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ" ادْعُ لِي مَحْمِيَةَ بْنَ الْجُزْءِ، وَكَانَ عَلَى الْعُشُورِ وَأَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ فَأَتَيَاهُ، فَقَالَ لِمَحْمِيَةَ: أَنْكِحْ هَذَا الْغُلامَ ابْنَتَكَ لِلْفَضْلِ فَأَنْكَحَهُ، وَقَالَ لأَبِي سُفْيَانَ: أَنْكِحْ هَذَا الْغُلامَ ابْنَتَكَ، فَأَنْكَحَهُ، ثُمَّ قَالَ لِمَحْمِيَةَ: أَصْدِقْ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ .
سیدنا عبد المطلب بن ربیعہ بن الحارث بن عبد المطلب رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ ربیعہ بن الحارث اور عباس بن عبد المطلب اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے: الله کی قسم! اگر ہم ان دونوں لڑکوں یعنی مجھے (عبد المطلب بن ربیعہ) اور فضل بن عباس کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس بھیجیں تو آپ ان کو صدقات (کی وصولی) پر مقرر کر دیں۔ انہوں نے ساری حدیث بیان کی۔ کہتے ہیں: ہم نے آپ صلی الله علیہ وسلم سے عرض کی: الله کے رسول! ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں کہ آپ ہمیں صدقات (وصول کرنے) پر مقرر کر دیں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: یہ (صدقات) لوگوں کی میل کچیل ہیں، چنانچہ محمد صلی الله علیہ وسلم اور آپ کی آل کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں۔ محمية بن جزء (عشر لینے پر مقرر تھے) کو اور ابو سفیان بن الحارث کو میرے پاس بلائیں۔ وہ دونوں آگئے تو آپ نے محمية سے فرمایا: اس لڑکے یعنی فضل کی شادی اپنی بیٹی سے کر دیں۔ تو انہوں نے اس کی شادی کر دی۔ ابو سفیان سے فرمایا: اس لڑکے کی شادی اپنی بیٹی سے کر دیں۔ تو انہوں نے بھی اس کی شادی کر دی۔ پھر آپ نے محمية سے کہا: ان کا مہر خمس سے ادا کر دیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1113]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1072»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1114
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ نَافِعٍ ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَاجًّا جَاءَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: حَاجَتُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، فَقَالَ لَهُ: حَاجَتِي عَطَاءُ الْمُحَرَّرِينَ، فَإِنِّي" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ مَا جَاءَهُ شَيْءٌ بَدَأَ بِالْمُحَرَّرِينَ" .
اسلم رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی الله عنہ جب حج کے دوران مدینہ آئے تو سیدنا عبد الله بن عمر رضی الله عنہما ان کے پاس آئے۔ سیدنا معاویہ رضی الله عنہ نے ان سے پوچھا: ابو عبد الرحمن! کیا کام ہے؟ انہوں نے کہا: میرا کام یہ ہے کہ محررین (آزاد کردہ غلام) کا حصہ دیجیے، کیوں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا ہے جب بھی آپ کے پاس کوئی چیز آتی تو آپ محررین سے ابتدا کرتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1114]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: سنن أبي داود: 2951، شرح مشكل الآثار للطحاوي: 4274، السنن الكبرى للبيهقي: 6/349۔ ہشام بن سعد راوی جمہور محدثین کے نزدیک حسن الحدیث ہیں۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں