صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
47. باب سُتْرَةِ الْمُصَلِّي:
باب: نمازی کا سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا استحباب، اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنا، اور گزرنے والے کا حکم اور گزرنے والے کو روکنا، نمازی کے آگے لیٹنے کا جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کا حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 503 ترقیم شاملہ: -- 1121
حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ كِلَاهُمَا، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَعُمَرَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَفِي حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ: فَلَمَّا كَانَ بِالْهَاجِرَةِ، خَرَجَ بِلَالٌ، فَنَادَى بِالصَّلَاةِ.
ابوعمیس اور مالک بن مغول دونوں نے اپنی اپنی سند سے عون بن ابی جحیفہ سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سفیان اور عمر بن ابی زائدہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ہے۔ ان (چاروں سفیان، عمر، ابوعمیس اور مالک) میں بعض دوسروں سے زائد الفاظ بیان کرتے ہیں۔ مالک بن مغول کی حدیث میں ہے: جب دوپہر کا وقت ہوا تو بلال نکلے اور نماز کے لیے اذان دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1121]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے روایت بیان کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے زیادہ بیان کرتا ہے، مالک بن مغول کی حدیث میں ہے جب تم میں سے کوئی دوپہر کا وقت ہوا، بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نکل کر نماز کے لیے اذان دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1121]
ترقیم فوادعبدالباقی: 503
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 503 ترقیم شاملہ: -- 1122
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ ، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ إِلَى الْبَطْحَاءِ، فَتَوَضَّأَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ "، قَالَ شُعْبَةُ: وَزَادَ فِيهِ عَوْنٌ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي جُحَيْفَةَ، وَكَانَ يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: سخت گرمی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء کی طرف نکلے، وضو کر کے اس عالم میں ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے سامنے نیزہ تھا۔ شعبہ نے کہا: عون نے اپنے والد ابوجحیفہ سے (روایت کرتے ہوئے) یہ اضافہ کیا کہ نیزے کی دوسری طرف سے عورتیں اور گدھے گزر رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1122]
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء کی طرف نکلے اور وضو کر کے ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے سامنے نیزہ تھا، شعبہ نے کہا، عون نے اپنے باپ ابو جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ اضافہ کیا کہ نیزہ کے پار سے عورتیں اور گدھے گزر رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1122]
ترقیم فوادعبدالباقی: 503
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 503 ترقیم شاملہ: -- 1123
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِالإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا مِثْلَهُ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ الْحَكَمِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ.
(عبدالرحمان) بن مہدی نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) شعبہ نے ہمیں (حکم اور عون کی) دونوں سندوں کے ساتھ سابقہ حدیث کی مانند حدیث بیان کی اور انہوں (ابن مہدی) نے حکم کی حدیث میں یہ اضافہ کیا: تو لوگ آپ کے وضو کے بچے ہوئے پانی میں سے (پانی) لینے لگے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1123]
امام صاحب اپنے اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں جس میں یہ اضافہ کیا ہے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بچے باقی ماندہ پانی کو حاصل کر رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1123]
ترقیم فوادعبدالباقی: 503
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 504 ترقیم شاملہ: -- 1124
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيِ الصَّفِّ، فَنَزَلْتُ، فَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ، وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ ".
مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں گدھی پر سوار ہو کر آیا، ان دنوں میں بلوغت کے قریب تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، میں صف کے سامنے سے گزرا اور اتر کر گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور صف میں داخل ہو گیا تو مجھے کسی نے اس پر نہیں ٹوکا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1124]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں گدھی پر سوار آگے بڑھا جبکہ میں بلوغت کے قریب تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے تو میں صف کے آگے سے گزرا پھر میں گدھی سے اترا صف میں شریک ہو گیا اور گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اس پر مجھے کسی نے اعتراض نہ کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1124]
ترقیم فوادعبدالباقی: 504
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 504 ترقیم شاملہ: -- 1125
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ: " أَنَّهُ أَقْبَلَ يَسِيرُ عَلَى حِمَارٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَائِمٌ يُصَلِّي بِمِنًى فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، يُصَلِّي بِالنَّاسِ، قَالَ: فَسَارَ الْحِمَارُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ، ثُمَّ نَزَلَ عَنْهُ، فَصَفَّ مَعَ النَّاسِ "،
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، انہوں نے کہا: گدھا صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزرا، پھر وہ اس سے اتر کر لوگوں کے ساتھ صف میں مل گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1125]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ وہ گدھی پر سوار ہو کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع کے موقعہ پر منی میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، گدھی صف کے کچھ حصہ کے آگے سے گزری، پھر وہ اس سے اتر کر لوگوں کے ساتھ صف میں مل گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1125]
ترقیم فوادعبدالباقی: 504
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 504 ترقیم شاملہ: -- 1126
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ: وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِعَرَفَةَ.
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ روایت بیان کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں نماز پڑھا رہے تھے۔ (ابن عباس اپنی سواری پر حج کر رہے تھے۔ یہ واقعہ ان کے ساتھ غالباً منیٰ اور عرفہ دونوں مقامات پر پیش آیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہر جگہ سترے کا اہتمام کیا جاتا تھا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1126]
امام صاحب اپنے تین اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں جس میں یہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں نماز پڑھا رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1126]
ترقیم فوادعبدالباقی: 504
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 504 ترقیم شاملہ: -- 1127
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ: مِنًى، وَلَا عَرَفَةَ، وَقَالَ: فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَوْ يَوْمَ الْفَتْحِ.
معمر نے بھی زہری سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ہے اور اس میں منیٰ یا عرفہ کا تذکرہ کرنے کے بجائے حجۃ الوداع یا فتح مکہ کے دن کا ذکر کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1127]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں منیٰ یا عرفہ کا تذکرہ نہیں کیا اور کہا حجتہ الوداع یا فتح مکہ کے موقع پر۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1127]
ترقیم فوادعبدالباقی: 504
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة