🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب سترة المصلي:
باب: نمازی کا سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا استحباب، اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنا، اور گزرنے والے کا حکم اور گزرنے والے کو روکنا، نمازی کے آگے لیٹنے کا جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کا حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 503 ترقیم شاملہ: -- 1122
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ ، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ إِلَى الْبَطْحَاءِ، فَتَوَضَّأَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ "، قَالَ شُعْبَةُ: وَزَادَ فِيهِ عَوْنٌ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي جُحَيْفَةَ، وَكَانَ يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: سخت گرمی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء کی طرف نکلے، وضو کر کے اس عالم میں ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے سامنے نیزہ تھا۔ شعبہ نے کہا: عون نے اپنے والد ابوجحیفہ سے (روایت کرتے ہوئے) یہ اضافہ کیا کہ نیزے کی دوسری طرف سے عورتیں اور گدھے گزر رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1122]
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء کی طرف نکلے اور وضو کر کے ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے سامنے نیزہ تھا، شعبہ نے کہا، عون نے اپنے باپ ابو جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ اضافہ کیا کہ نیزہ کے پار سے عورتیں اور گدھے گزر رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1122]
ترقیم فوادعبدالباقی: 503
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥وهب بن وهب السوائي، أبو جحيفةصحابي
👤←👥الحكم بن عتيبة الكندي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عمر
Newالحكم بن عتيبة الكندي ← وهب بن وهب السوائي
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← الحكم بن عتيبة الكندي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← محمد بن بشار العبدي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3566
أخرج فضل وضوء رسول الله فوقع الناس عليه يأخذون منه أخرج العنزة وخرج رسول الله كأني أنظر إلى وبيص ساقيه فركز العنزة صلى الظهر ركعتين والعصر ركعتين يمر بين يديه الحمار والمرأة
صحيح مسلم
1122
صلى الظهر ركعتين والعصر ركعتين وبين يديه عنزة
صحيح مسلم
1119
عليه حلة حمراء كأني أنظر إلى بياض ساقيه فتوضأ وأذن بلال قال فجعلت أتتبع فاه ها هنا وها هنا يقول يمينا وشمالا يقول حي على الصلاة حي على الفلاح ركزت له عنزة فتقدم فصلى الظهر ركعتين يمر بين يديه الحمار والكلب لا يمنع ثم صلى العصر ركعتين ثم لم يزل يصلي رك
سنن النسائى الصغرى
471
توضأ وصلى الظهر ركعتين والعصر ركعتين وبين يديه عنزة
المعجم الصغير للطبراني
452
حججنا مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حجة الوداع فما زلنا نصلي ركعتين حتى رجعنا
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1122 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1122
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سفر میں دونوں نمازیں اکٹھی پڑھی جا سکتی ہیں۔
(جمع بھی تقدیم ہے)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1122]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 471
سفر میں ظہر کی نماز کا بیان۔
حکم بن عتیبہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر میں نکلے (ابن مثنی کی روایت میں ہے: بطحاء کی طرف نکلے) تو آپ نے وضو کیا، اور ظہر کی نماز دو رکعت پڑھی، اور عصر کی دو رکعت پڑھی، اور آپ کے سامنے نیزہ (بطور سترہ) تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 471]
471 ۔ اردو حاشیہ: آپ کے آگے عنزہ (چھوٹا نیزہ) سترے کے طور پر گاڑا گیا تھا، لہٰذا کھلی یا بند جگہ میں سترہ ضروری ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 471]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1119
حضرت عون بن ابی جحیفہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابطح مقام پر سرخ چمڑے کے ایک خیمہ میں تھے تو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی لے کر نکلے، کسی کو پانی مل گیا اور کسی پر دوسرے نے چھڑک دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ جوڑا پہنے ہوئے نکلے، گویا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیوں کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان کہی، اور میں ان کے منہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1119]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
نَائِل:
اخذ کرنا،
لینا،
نَالَ،
يَنَالُ سے،
نَاضِح:
چھڑکنا یعنی بعض تو براہ راست پانی لے رہے تھے اور بعض پر پانی لینے والے چھڑک رہے تھے۔
(2)
حُلَّة حَمرَاء:
حلہ جوڑا،
ایک باندھنے کے لیے تہبند اور دوسری اوڑھنے کی چادر۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ وضو میں استعمال ہونے والا پانی پلید نہیں ہے اس لیے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضوء پر جھپٹتے تھے اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسالہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا تبرک حاصل کرنا اس بات کی دلیل نہیں بن سکتا کہ بزرگوں کے آثار سے تبرک حاصل کرنا جائز ہے کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور بڑی شخصیت کے لیے نہیں کیا خلفائے راشدین سے افضل اور برتر کونسا بزرگ ہو سکتا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ان کے آثار سے تبرک حاصل نہیں کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات کا کیا حکم ہے؟ اب اس پر بحث کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ پاک تھے یا پلید تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دور کا مسئلہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب دہن اور وضو کے پانی پر تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین جھپٹتے تھے بول وبراز خون کے سلسلہ میں تو یہ واقعہ پیش نہیں آیا تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1119]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3566
3566. حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیاگیا جبکہ آپ ابطح نامی وادی میں ایک خیمے کے اندر تشریف فر تھے۔ دوپہر کے وقت حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ باہر آئے اور نماز کے لے اذان کہی۔ پھر اندر چلے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو سے بچاپانی لے کر برآمد ہوئے تو لوگ اس پانی پر ٹوٹ پڑے اور اس پانی کو حاصل کرنے لگے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ پھر اندرگئے اورایک نیزہ باہر نکال لائے۔ اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی باہر تشریف لائےگویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیوں کی چمک کو اب بھی دیکھ رہا ہوں۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ن نیزہ گاڑدیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اورعصر کی دو، دورکعتیں پڑھائیں اورآپ کے آگے سے گدھے اور عورتیں گزر رہی تھیں۔ (جس سے نماز میں کوئی خلل نہ پڑا۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:3566]
حدیث حاشیہ:
برچھی سترہ کے طورپر آپ کے آگے گاڑدی گئی تھی۔
ترجمہ باب اس سے نکلا کہ آپ کی پنڈلیاں نہایت خوبصورت اور چمکدار تھیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3566]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3566
3566. حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیاگیا جبکہ آپ ابطح نامی وادی میں ایک خیمے کے اندر تشریف فر تھے۔ دوپہر کے وقت حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ باہر آئے اور نماز کے لے اذان کہی۔ پھر اندر چلے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو سے بچاپانی لے کر برآمد ہوئے تو لوگ اس پانی پر ٹوٹ پڑے اور اس پانی کو حاصل کرنے لگے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ پھر اندرگئے اورایک نیزہ باہر نکال لائے۔ اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی باہر تشریف لائےگویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیوں کی چمک کو اب بھی دیکھ رہا ہوں۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ن نیزہ گاڑدیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اورعصر کی دو، دورکعتیں پڑھائیں اورآپ کے آگے سے گدھے اور عورتیں گزر رہی تھیں۔ (جس سے نماز میں کوئی خلل نہ پڑا۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:3566]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسرتی پنڈلیوں کاذکر ہے کہ وہ سفید اور چمک دار تھیں۔
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیاں زیادہ بھاری بھرکم اور پُرگوشت نہ تھیں بلکہ ہلکی ہلکی سونتی ہوئی تھیں۔
(المصنف لابن أبي شیبة: 513/11)
حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوارتھے،میں نے قریب ہوکر آپ کی پنڈلی کا مشاہدہ کیا جو سفید رنگت اور لطافت میں خوشئہ کھجور کے اندرونی گودے کی طرح تھی۔
(دلائل النبوة: 207/1)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3566]

Sahih Muslim Hadith 1122 in Urdu