یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب تحريم الكلام في الصلاة ونسخ ما كان من إباحته:
باب: نماز میں باتیں کرنا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 540 ترقیم شاملہ: -- 1208
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّاد.
عبدالوارث بن سعید نے کہا: ہمیں کثیر بن شنظیر نے حدیث سنائی، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کی غرض سے بھیجا (آگے حماد بن زید کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی)۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1208]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1208]
ترقیم فوادعبدالباقی: 540
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد عطاء بن أبي رباح القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن | |
👤←👥كثير بن شنظير المازني، أبو قرة كثير بن شنظير المازني ← عطاء بن أبي رباح القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عبد الوارث بن سعيد العنبري، أبو عبيدة عبد الوارث بن سعيد العنبري ← كثير بن شنظير المازني | ثقة ثبت | |
👤←👥المعلى بن منصور الرازي، أبو يعلى المعلى بن منصور الرازي ← عبد الوارث بن سعيد العنبري | ثقة سني فقيه حافظ | |
👤←👥محمد بن حاتم السمين، أبو عبد الله محمد بن حاتم السمين ← المعلى بن منصور الرازي | صدوق ربما وهم وكان فاضلا |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1208 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1208
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ:
﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُواْ لَهُ وَأَنصِتُواْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾ کا تعلق نماز سے نہیں ہے کیونکہ اگر اس آیت کا تعلق نماز سے ہوتا تو جو آیت امام کے پیچھے قرآءت سے روکتی ہے اس نے بات چیت سے کیوں نہ روکا؟ اور اس آیت کے نزول کے باوجود صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نماز میں گفتگو کیوں کرتے رہے؟ (2)
﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ﴾ سورہ اعراف کی آیت ہے اور باتفاق مکی آیت ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین مدینہ میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گفتگو کر لیتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں سلام کا جواب بھی دے دیتے تھے جنگِ بنو مصطلق جو 5یا 6 ہجری میں ہوئی ہے اس سے کچھ پہلے کلام منسوخ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب بھی زبان سے دینا بند کر دیا اس سے ثابت ہوا اس آیت کا تعلق نماز کی قرآءت سے نہیں ہے وگرنہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین مدینہ منورہ میں نماز میں گفتگو نہ کرتے اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کا جواب بول کر دیتے۔
فوائد ومسائل:
(1)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ:
﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُواْ لَهُ وَأَنصِتُواْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾ کا تعلق نماز سے نہیں ہے کیونکہ اگر اس آیت کا تعلق نماز سے ہوتا تو جو آیت امام کے پیچھے قرآءت سے روکتی ہے اس نے بات چیت سے کیوں نہ روکا؟ اور اس آیت کے نزول کے باوجود صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نماز میں گفتگو کیوں کرتے رہے؟ (2)
﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ﴾ سورہ اعراف کی آیت ہے اور باتفاق مکی آیت ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین مدینہ میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گفتگو کر لیتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں سلام کا جواب بھی دے دیتے تھے جنگِ بنو مصطلق جو 5یا 6 ہجری میں ہوئی ہے اس سے کچھ پہلے کلام منسوخ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب بھی زبان سے دینا بند کر دیا اس سے ثابت ہوا اس آیت کا تعلق نماز کی قرآءت سے نہیں ہے وگرنہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین مدینہ منورہ میں نماز میں گفتگو نہ کرتے اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کا جواب بول کر دیتے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1208]
Sahih Muslim Hadith 1208 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري