🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. من كان يخطب قائما
جو حضرات کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 5220 ترقیم الشثری: -- 5284
٥٢٨٤ - حدثنا ابو بكر قال ثنا ابو الاحوص عن سماك عن جابر بن سمرة (قال) (١) : كانت لرسول الله ﷺ خطبتان يجلس بينهما يقرا القرآن ويذكر الناس (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (قالت).
(٢) حسن؛ سماك صدوق، أخرجه مسلم (٨٦٢) وأحمد (٢٠٨١٣).

حدثنا ابو بكر، قال: ثنا ابو الاحوص ، عن سماك ، عن جابر بن سمرة ، قال: " كانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم خطبتان يجلس بينهما يقرا القرآن، ويذكر الناس"
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جمعہ کے روز) دو خطبے ارشاد فرماتے تھے، جن کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم (تھوڑی دیر کے لیے) نشست فرماتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (ان خطبات میں) قرآن مجید کی تلاوت فرماتے اور لوگوں کو نصیحت فرماتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5284]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5284، ترقيم محمد عوامة 5220)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 5221 ترقیم الشثری: -- 5285
٥٢٨٥ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن ابيه قال: كان رسول الله ﷺ يخطب قائما ثم يجلس ثم يقوم يخطب خطبتين (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل.
حدثنا حاتم بن إسماعيل ، عن جعفر ، عن ابيه ، قال:" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب قائما ثم يجلس، ثم يقوم , يخطب خطبتين"
جعفر بن محمد اپنے والد (سیدنا محمد الباقر) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جمعہ کا) خطبہ کھڑے ہو کر ارشاد فرماتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (دونوں خطبوں کے درمیان) تھوڑی دیر کے لیے بیٹھتے، پھر دوبارہ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک ہی نماز میں) دو خطبے دیا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5285]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5285، ترقيم محمد عوامة 5221)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 5222 ترقیم الشثری: -- 5286
٥٢٨٦ - حدثنا جرير عن ليث عن طاوس قال: لم يكن ابو بكر ولا عمر يقعدون على المنبر يوم الجمعة واول من قعد معاوية (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع ضعيف؛ ليث ضعيف، وطاوس لم يدرك أبا بكر.
حدثنا جرير، عن ليث، عن طاوس، قال: " لم يكن ابو بكر، ولا عمر يقعدون على المنبر يوم الجمعة، واول من قعد معاوية"
سیدنا طاوس رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما جمعہ کے دن منبر پر (خطبہ کے دوران) نہیں بیٹھتے تھے اور سب سے پہلے جس نے (منبر پر) بیٹھ کر خطبہ دیا وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5286]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5286، ترقيم محمد عوامة 5222)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 5223 ترقیم الشثری: -- 5287
٥٢٨٧ - حدثنا علي بن مسهر (عن) (١) ليث عن طاوس قال: خطب رسول الله ﷺ قائما وابو بكر (قائما) (٢) (وعمر قائما) (٣) وعثمان قائما، واول من جلس على المنبر معاوية بن ابي سفيان (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ن]: (بن).
(٢) في [جـ، ك] زيادة: (وإن).
(٣) زيادة: من [د، هـ] (وعمر قائمًا).
(٤) مرسل ضعيف؛ طاوس تابعي، وليث ضعيف.

حدثنا علي بن مسهر، عن ليث، عن طاوس، قال: " خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم قائما، وابو بكر قائما، وعمر قائما، وعثمان قائما، واول من جلس على المنبر معاوية بن ابي سفيان"
طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی کھڑے ہو کر، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی کھڑے ہو کر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اور سب سے پہلے وہ شخص جنہوں نے منبر پر بیٹھ کر خطبہ دیا وہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5287]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5287، ترقيم محمد عوامة 5223)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 5224 ترقیم الشثری: -- 5288
٥٢٨٨ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن الحسن عن (ابي) (١) إسحاق قال: رايت عليا يخطب على المنبر فلم يجلس حتى فرغ (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط: من [أ، جـ، ك، هـ].
(٢) صحيح.

حدثنا حدثنا حميد بن عبد الرحمن، عن الحسن، عن إسحاق، قال:" رايت عليا يخطب على المنبر فلم يجلس حتى فرغ"
ابواسحاق سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، پس آپ اس وقت تک نہیں بیٹھے جب تک کہ (اپنے خطبے سے) فارغ نہیں ہو گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5288]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5288، ترقيم محمد عوامة 5224)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 5225 ترقیم الشثری: -- 5289
٥٢٨٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن عمرو بن مرة عن ابي عبيدة عن كعب بن عجرة قال: دخل المسجد وعبد الرحمن بن ام (١) الحكم يخطب قاعدا فقال: انظروا إلى هذا (الحدث) (٢) يخطب قاعدا قال الله تعالى: ﴿وإذا راوا تجارة او لهوا ⦗١٠٩⦘ انفضوا إليها وتركوك قائما﴾ (٣) [الجمعة: ١١] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك] زيادة: (مكتوم).
(٢) في [د، هـ]: (الحديث)، وفي [ن]: (الخبيث).
(٣) صحيح، أخرجه مسلم (٨٦٤).

حدثنا غندر، عن شعبة، عن منصور، عن عمرو بن مرة، عن ابي عبيدة، عن كعب بن عجرة، قال:" دخل المسجد وعبد الرحمن ابن ام الحكم يخطب قاعدا، فقال: انظروا إلى هذا الحدث يخطب قاعدا، قال الله تعالى: وإذا راوا تجارة او لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما سورة الجمعة آية 11"
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے جبکہ عبدالرحمن بن ام حکم بیٹھ کر خطبہ دے رہے تھے، تو انہوں نے (ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے) کہا: اس نوجوان کو دیکھو جو بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا﴾ اور جب وہ لوگ کوئی تجارت یا کھیل تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو (منبر پر) کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ [سورة الجمعة: 11] [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5289]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5289، ترقيم محمد عوامة 5225)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 5226 ترقیم الشثری: -- 5290
٥٢٩٠ - [حدثنا ابن فضيل عن الاعمش عن إبراهيم عن علقمة (قال) (١) : ساله رجل: اكان النبي ﵊ يخطب قائما او قاعدا قاله: الست تقرا ﴿وتركوك قائما﴾ (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك] زيادة (قال).
(٢) في [هـ]: (تكرر الخبر).

حدثنا ابن فضيل، عن الاعمش، عن إبراهيم، عن علقمة قال:" ساله رجل اكان النبي عليه الصلاة والسلام يخطب قائما او قاعدا؟، قال: الست تقرا: وتركوك قائما سورة الجمعة آية 11"
علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک شخص نے دریافت کیا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے یا بیٹھ کر؟ تو انہوں نے جواب دیا: کیا تم نے (اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان) نہیں پڑھا: ﴿وَتَرَكُوكَ قَائِمًا﴾ اور انہوں نے آپ کو (منبر پر) کھڑا ہی چھوڑ دیا۔ [سورة الجمعة: 11] [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5290]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5290، ترقيم محمد عوامة 5226)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 5227 ترقیم الشثری: -- 5291
٥٢٩١ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن سالم عن جابر قال: اقبلت عير بتجارة يوما (الجمعة) (١) ورسول الله ﷺ يخطب فانصرف الناس ينظرون وبقي رسول الله (في) (٢) اثنى عشر رجلا فنزلت هذه الآية: ﴿وإذا راوا تجارة او لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما﴾ (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ك]: (جمعة).
(٢) في [أ]: (و).
(٣) صحيح، أخرجه البخاري (٢٠٦٤) ومسلم (٨٦٣).

حدثنا ابن إدريس ، عن حصين ، عن سالم ، عن جابر ، قال: " اقبلت عير بتجارة يوم الجمعة، ورسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب، فانصرف الناس ينظرون وبقي رسول الله في اثني عشر رجلا، فنزلت هذه الآية: وإذا راوا تجارة او لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما سورة الجمعة آية 11"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن تجارت کا ایک قافلہ آیا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، پس لوگ (اسے) دیکھنے کے لیے (مسجد سے) چلے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صرف بارہ آدمی باقی رہ گئے، تب یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی: ﴿وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا﴾ اور جب انہوں نے کوئی تجارت یا کھیل تماشا دیکھا تو وہ اس کی طرف لپک گئے اور آپ کو (منبر پر) کھڑا ہی چھوڑ دیا۔ [سورة الجمعة: 11] [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5291]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5291، ترقيم محمد عوامة 5227)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 5228 ترقیم الشثری: -- 5292
٥٢٩٢ - حدثنا جرير عن ليث عن طاوس قاله: الجلوس على المنبر يوم الجمعة بدعة.
حدثنا جرير، عن ليث، عن طاوس، قال: " الجلوس على المنبر يوم الجمعة بدعة"
طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: جمعہ کے دن منبر پر بیٹھنا بدعت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5292]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5292، ترقيم محمد عوامة 5228)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 5229 ترقیم الشثری: -- 5293
٥٢٩٣ - حدثنا احمد بن عبد الله عن زائدة عن عبد الملك بن عمير قال: كان المغيرة يخطب في الجمعة قائما ولم يكن له إلا مؤذن واحد (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حدثنا حدثنا احمد بن عبد الله، عن زائدة، عن عبد الملك بن عمير، قال:" كان المغيرة يخطب في الجمعة قائما، ولم يكن له إلا مؤذن واحد"
عبدالملک بن عمیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ جمعہ کا خطبہ کھڑے ہو کر ارشاد فرماتے تھے اور ان کا صرف ایک ہی مؤذن تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5293]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5293، ترقيم محمد عوامة 5229)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں