مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
22. الإمام إذا جلس على المنبر يسلم
جب امام منبر پر بیٹھے تو سلام کرے
ترقیم عوامۃ: 5238 ترقیم الشثری: -- 5301
٥٣٠١ - حدثنا ابو بكر قال حدثنا (١) ابو اسامة قال حدثنا مجالد عن الشعبي قال: كان رسول الله ﷺ إذا صعد المنبر يوم الجمعة استقبل الناس بوجهه فقال:"السلام عليكم"، ويحمد الله ويثني عليه ويقرا سورة ثم يجلس ثم يقوم فيخطب ثم ينزل وكان ابو بكر وعمر يفعلانه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (خطبنا)، وفي [جـ، ك]: (نا).
(٢) مرسل ضعيف؛ مجالد ضعيف، والشعبي ليس من الصحابة.
عامر شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جمعہ کے دن منبر پر تشریف لاتے تو لوگوں کی طرف رخِ انور کرتے اور فرماتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو“، پھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتے اور ایک سورت تلاوت فرماتے، پھر تھوڑی دیر کے لیے تشریف فرما ہوتے، پھر دوبارہ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے اور اس کے بعد منبر سے نیچے تشریف لاتے، اور سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5301]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5301، ترقيم محمد عوامة 5238)
ترقیم عوامۃ: 5239 ترقیم الشثری: -- 5302
٥٣٠٢ - حدثنا غسان بن مضر عن سعيد بن يزيد عن ابي نضرة قال: كان عثمان قد كبر فإذا سعد المنبر (سلم) (١) فاطال قدر ما يقرا إنسان ام الكتاب (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب] سقط: (سلم).
(٢) صحيح.
حدثنا حدثنا غسان بن مضر، عن سعيد بن يزيد، عن ابي نضرة، قال:" كان عثمان قد كبر، فإذا صعد المنبر سلم، فاطال قدر ما يقرا إنسان ام الكتاب"
سیدنا ابونضرہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کافی عمر رسیدہ ہو گئے تھے، پس جب وہ منبر پر تشریف لاتے تو ”سلام“ کرتے، پھر اتنی دیر تک قیام فرماتے جتنی دیر میں کوئی انسان ام الکتاب (سورہ فاتحہ) پڑھ لے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5302]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5302، ترقيم محمد عوامة 5239)
ترقیم عوامۃ: 5240 ترقیم الشثری: -- 5303
٥٣٠٣ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عمرو بن مهاجر ان عمر بن عبد العريز كان إذا استوى على المنبر سلم على الناس وردوا عليه.
حدثنا إسماعيل بن عياش، عن عمرو بن مهاجر:" ان عمر بن عبد العزيز كان إذا استوى على المنبر سلم على الناس وردوا عليه"
عمرو بن مہاجر سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ جب منبر پر (خطبہ دینے کے لیے) سیدھے کھڑے ہو جاتے تو حاضرین کو «سلام» کرتے تھے اور لوگ ان کے سلام کا جواب دیتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5303]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5303، ترقيم محمد عوامة 5240)