صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
31. باب أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ:
باب: پنجگانہ اوقات نماز کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 610 ترقیم شاملہ: -- 1379
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، " أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ : أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ، قَدْ نَزَلَ، فَصَلَّى إِمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " نَزَلَ جِبْرِيلُ، فَأَمَّنِي، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ".
لیث نے ابن شہاب سے روایت کی کہ ایک دن عمر بن عبدالعزیز نے عصر کی نماز میں کچھ تاخیر کر دی تو عروہ نے ان سے کہا: بات یوں ہے کہ جبریل نازل ہوئے اور امام بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھائی۔ تو عمر نے ان سے کہا: اے عروہ! جان لیں (سمجھ لیں) آپ کیا کہہ رہے ہیں! انہوں نے کہا: میں نے بشیر بن ابی مسعود سے سنا، وہ کہتے تھے: میں نے ابومسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ”جبریل اترے اور انہوں نے (نماز میں) میری امامت کی، میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی۔“ وہ اپنی انگلیوں سے پانچ نمازیں شمار کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1379]
امام ابن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے عصر کی نماز کچھ تاخیر سے پڑھی تو عروہ نے ان سے کہا: ”جبریل علیہ السلام نے نازل ہو کر، امام بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھائی۔“ تو عمر نے ان سے کہا: ”اے عروہ! سوچ سمجھ کر بات کرو۔“ تو انہوں نے کہا: ”میں نے بشیر بن ابی مسعود سے سنا، انہوں نے ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل اترے اور مجھے نماز پڑھائی، میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی۔“ وہ اپنی انگلیوں سے پانچ نمازیں شمار کرتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1379]
ترقیم فوادعبدالباقی: 610
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 610 ترقیم شاملہ: -- 1380
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ: " مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ؟ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ، أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: بِهَذَا أُمِرْتُ، فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ: انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ يَا عُرْوَةُ، أَوَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام، هُوَ أَقَامَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقْتَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ عُرْوَةُ: كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ .
امام مالک نے ابن شہاب زہری سے روایت کی کہ ایک دن عمر بن عبدالعزیز نے نماز میں تاخیر کر دی تو عروہ بن زبیر ان کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن نماز دیر سے پڑھی، اس وقت وہ کوفہ میں تھے، ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: مغیرہ! یہ کیا ہے؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جبریل اترے تھے، انہوں نے نماز پڑھائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے ساتھ) نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے ساتھ) نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے ساتھ) نماز پڑھی، پھر (جبریل نے) کہا: مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے۔ تو عمر نے عروہ سے کہا: عروہ! دیکھ لو، کیا کہہ رہے ہو؟ کیا جبریل نے خود (آکر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (ہر) نماز کا وقت متعین کیا تھا؟ تو عروہ نے کہا: بشیر بن ابی مسعود اپنے والد سے اسی طرح بیان کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1380]
امام ابن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے نماز مؤخر کر دی (دیر سے پڑھی) تو ان کے پاس عروہ بن زبیر رحمہ اللہ حاضر ہوئے اور انہیں بتایا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن کوفہ میں نماز دیر سے پڑھی تو ان کے پاس ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور پوچھا: ”یہ کیا کیا؟ اے مغیرہ! کیا تمہیں علم نہیں ہے جبریل علیہ السلام اترے اور نماز پڑھائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز (ان کے ساتھ) پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر جبریل علیہ السلام نے کہا: ”آپ کو اس کا حکم دیا گیا ہے۔““ تو عمر رحمہ اللہ نے عروہ سے کہا: ”اے عروہ! سوچو کیا بیان کر رہے ہو، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے اوقات جبریل علیہ السلام نے سکھائے تھے؟“ تو عروہ نے کہا: ”بشیر بن ابی مسعود رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے ایسے ہی بیان کرتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1380]
ترقیم فوادعبدالباقی: 610
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 611 ترقیم شاملہ: -- 1381
قَالَ عُرْوَةُ : وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُصَليِّ الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا، قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ ".
زہری سے امام مالک کی سابقہ سند ہی سے روایت ہے کہ عروہ نے کہا: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز (اس وقت) پڑھتے کہ دھوپ ان کے حجرے میں ہوتی، (حجرے سے) دھوپ باہر نکلنے سے پہلے۔ (مغربی دیوار کا سایہ حجرے کے دروازے تک نہ پہنچا ہوتا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1381]
حضرت عروہ رحمہ اللہ نے بتایا، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس حال میں پڑھتے کہ دھوپ ان کے کمرے میں ہوتی، ان کے کمرے سے باہر نہ نکلی ہوتی۔“ (یعنی سایہ اس جگہ نمایاں نہ ہوتا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1381]
ترقیم فوادعبدالباقی: 611
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 611 ترقیم شاملہ: -- 1382
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي، لَمْ يَفِئْ الْفَيْءُ بَعْدُ "، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ بَعْدُ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے حدیث سنائی، عمرو نے کہا: سفیان نے ہمیں زہری سے حدیث سنائی، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے اور سورج ان کے حجرے میں چمک رہا ہوتا تھا، ابھی (صحن کے مشرقی حصے میں) سایہ نہ پھیلا ہوتا تھا۔ ابوبکر نے (معنی کی وضاحت کرتے ہوئے) کہا: ابھی (مشرق کی طرف) سایہ ظاہر نہ ہوا ہوتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1382]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”عصر کی نماز اس وقت پڑھتے جبکہ دھوپ میرے کمرے میں چمک رہی ہوتی، ابھی تک اس جگہ سے سایہ نہ پھیلا ہوتا“ اور ابوبکر نے «لَمْ يَفِئِ الْفَيْءُ» کی جگہ «لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ» کہا (دونوں کا معنی ایک ہی ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1382]
ترقیم فوادعبدالباقی: 611
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 611 ترقیم شاملہ: -- 1383
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا، لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ فِي حُجْرَتِهَا ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جبکہ دھوپ ان کے حجرے میں ہوتی، (مشرق کی طرف پھیلتا) سایہ ان کے حجرے میں نہ پھیلا ہوتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1383]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”عصر کی نماز، اس وقت پڑھتے جبکہ دھوپ ان کے حجرہ میں ہوتی، سایہ ان کے حجرہ میں نہ پھیلا ہوتا تھا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1383]
ترقیم فوادعبدالباقی: 611
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 611 ترقیم شاملہ: -- 1384
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ وَاقِعَةٌ فِي حُجْرَتِي ".
ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے اور دھوپ ان کے حجرے میں پڑ رہی ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1384]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”عصر کی نماز پڑھتے جبکہ دھوپ میرے حجرے میں موجود ہوتی تھی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1384]
ترقیم فوادعبدالباقی: 611
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 612 ترقیم شاملہ: -- 1385
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا صَلَّيْتُمُ الْفَجْرَ، فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ قَرْنُ الشَّمْسِ الأَوَّلُ، ثُمَّ إِذَا صَلَّيْتُمُ الظُّهْرَ، فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَحْضُرَ الْعَصْرُ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ، فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْمَغْرِبَ، فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَسْقُطَ الشَّفَقُ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعِشَاءَ، فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ".
معاذ بن ہشام نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے ابوایوب سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم فجر کی نماز پڑھو تو سورج کا پہلا کنارہ نمودار ہونے تک اس کا وقت ہے، پھر جب تم ظہر پڑھو تو عصر ہونے تک اس کا وقت ہے اور جب تم عصر پڑھو تو سورج کے زرد ہونے تک اس کا وقت ہے اور جب تم مغرب پڑھو تو شفق (سرخی) کے ختم ہونے تک اس کا وقت ہے اور جب تم عشاء پڑھو تو آدھی رات ہونے تک اس کا وقت ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1385]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم فجر کی نماز پڑھ لو تو اس کا وقت اس وقت تک باقی ہے جب تک سورج کا اوپر کا کنارہ نہ نکلے، پھر جب تم ظہر پڑھ لو تو اس کا وقت عصر تک باقی ہے، جب تم عصر پڑھ لو تو اس کا وقت سورج کے زرد ہونے تک باقی ہے اور جب تم مغرب کی نماز پڑھو تو اس کا وقت شفق (سرخی) کے غروب ہونے تک باقی ہے اور جب تم عشاء پڑھ لو تو اس کا وقت آدھی رات ہونے تک باقی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1385]
ترقیم فوادعبدالباقی: 612
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 612 ترقیم شاملہ: -- 1386
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ وَاسْمَهْ يَحْيَى بْنُ مَالِكٍ الأَزْدِيُّ ، وَيُقَالُ: الْمَرَاغِيُّ وَالْمَرَاغ: حَيٌّ مِنَ الأَزْدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَقْتُ الظُّهْرِ، مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ، مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ، مَا لَمْ يَسْقُطْ ثَوْرُ الشَّفَقِ، وَوَقْتُ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، وَوَقْتُ الْفَجْرِ، مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ ".
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے، انہوں نے ابوایوب سے حدیث سنائی۔ ابوایوب کا نام یحییٰ بن مالک ازدی ہے۔ ان کو مراغی بھی کہا جاتا ہے اور مراغ قبیلہ ازد کی ایک شاخ ہے۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظہر کا وقت تب تک ہے جب تک عصر کا وقت شروع نہ ہو، اور عصر کا وقت ہے جب تک سورج زرد نہ ہو، اور مغرب کا وقت ہے جب تک شفق غروب نہ ہو، اور عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے اور فجر کا وقت ہے جب تک سورج طلوع نہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1386]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظہر کا وقت، عصر کا وقت شروع ہونے تک ہے اور عصر کا وقت، سورج کے زرد ہونے سے پہلے تک ہے اور مغرب کا وقت اس وقت تک ہے جب تک شفق غروب نہ ہو اور عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے اور فجر کا وقت، جب تک سورج طلوع نہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1386]
ترقیم فوادعبدالباقی: 612
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 612 ترقیم شاملہ: -- 1387
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، ح. قَالَ: وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا، قَالَ شُعْبَةُ: رَفَعَهُ مَرَّةً، وَلَمْ يَرْفَعْهُ مَرَّتَيْنِ.
ابوعامر عقدی اور یحییٰ بن ابی بکیر نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی۔ ان دونوں کی روایت میں، شعبہ نے کہا: انہوں (قتادہ) نے ایک بار اس حدیث کو مرفوع بیان کیا اور دوبار مرفوع بیان نہیں کیا۔ (مرفوع وہ ہے جس کی سند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1387]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1387]
ترقیم فوادعبدالباقی: 612
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 612 ترقیم شاملہ: -- 1388
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ، مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ، مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، مَا لَمْ يَغِبْ الشَّفَقُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الأَوْسَطِ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الصُّبْحِ، مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ، مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ ".
ہمام نے ہمیں حدیث بیان کی (کہا): ہمیں قتادہ نے ابوایوب سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظہر کا وقت (شروع ہوتا ہے) جب سورج ڈھل جائے اور آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو (جانے تک)، جب تک عصر کا وقت نہیں ہو جاتا (رہتا ہے) اور عصر کا وقت (ہے) جب تک سورج زرد نہ ہو جائے اور مغرب کا وقت (ہے) جب تک شفق غائب نہ ہو جائے اور عشاء کی نماز کا وقت رات کے پہلے نصف تک ہے اور صبح کی نماز کا وقت طلوع فجر سے اس وقت تک (ہے) جب تک سورج طلوع نہیں ہوتا، جب سورج طلوع ہونے لگے تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1388]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سورج ڈھل جائے تو ظہر کا وقت ہو جاتا ہے اور آدمی کا سایہ اس کے برابر ہونے تک رہتا ہے، جب تک عصر کا وقت نہ ہو جائے، اور عصر کا وقت سورج کے زرد ہونے تک رہتا ہے، اور مغرب کی نماز کا وقت سرخی غائب ہونے تک رہتا ہے، اور عشاء کی نماز کا وقت درمیانی رات کے نصف تک رہتا ہے، اور صبح کی نماز کا وقت طلوعِ فجر سے سورج نکلنے تک رہتا ہے، جب سورج نکلنے لگے تو نماز سے رک جاؤ، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے۔“ «قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ» سے مراد اس کے سر کے کنارے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1388]
ترقیم فوادعبدالباقی: 612
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة