🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

150. في الرجل يموت له القرابة (المشرك) يحضره أم لا
کسی شخص کا قریبی رشتہ دار مشرک مر جائے تو کیا وہ اس کے جنازے میں شریک ہو گا؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11962 ترقیم الشثری: -- 12201
١٢٢٠١ - حدثنا ابو الاحوص عن ابي إسحاق (١) قال: قال علي: لما مات ابو طالب اتيت النبي ﷺ فقلت: يا رسول (الله) (٢) إن عمك الضال قد مات فقال (لي) (٣) :"اذهب فواره ولا تحدثن شيئا حتى تاتيني"، (قال) (٤) : فانطلقت فواريته ثم رجعت إليه وعلي اثر التراب والغبار فدعا لي بدعوات ما يسرني ان لي بها ما على الارض من شيء (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في أط، هـ]: زيادة (عن ناجية بن كعب عن علي)، وانظر: تفسير الثعلبي ٥/ ١٠٠.
(٢) في [ب]: بياض.
(٣) سقط من: [ص].
(٤) سقط من: [ص].
(٥) مرسل؛ ابو إسحاق لا يروي عن علي، وانظر: ما بعده.

حدثنا ابو الاحوص ، عن ابي إسحاق ، عن ناجية بن كعب ، عن علي ، قال: قال علي: لما مات ابو طالب اتيت النبي صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله: إن عمك الضال قد مات، فقال لي:" اذهب , فواره , ولا تحدثن شيئا حتى تاتيني." قال: فانطلقت , فواريته، ثم رجعت إليه , وعلي اثر التراب والغبار، فدعا لي بدعوات ما يسرني ان لي بها ما على الارض من شيء
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ابو طالب کا انتقال ہوا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول! آپ کا گمراہ چچا مرگیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور ان کو ڈھانپ دو اور جب تک میرے پاس نہ آجانا کچھ نہ کرنا میں گیا اور ان کو ڈھانپ دیا پھر میں واپس آیا تو میرے اوپر مٹی اور گرد و غبار کے آثار تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کچھ دعائیں دیں جو میرے لیے دنیا کی چیزوں کے مل جانے سے زیادہ قابل مسرت ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12201]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12201، ترقيم محمد عوامة 11962)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11963 ترقیم الشثری: -- 12202
١٢٢٠٢ - [حدثنا وكيع عن سفيان عن ابي إسحاق عن ناجية عن علي عن النبي ﷺ بنحوه وقال: فامرني بالغسل] (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من: [ص].
(٢) حسن؛ ناجية صدوق، أخرجه النسائي (١٩٥)، والشافعي في المسند ص ٣٨٥، وابن سعد ١/ ١٢٤، وأبو يعلى (٤٢٣)، والبيهقي ١/ ٣٠٤، وابن الجارود (٥٥٠)، والطيالسي (١٢٠)، والطبراني في الأوسط (٥٤٩٠)، والمزي ٢٩/ ٢٥٧، وبنحوه أحمد (٧٥٩)، والنسائي (١/ ١١٠)، والفحياء في المختارة (٧٤٥)، وسعيد بن منصور ق ٢ (١٠٤٢)، والبزار (٥٩٢).

. حدثنا وكيع ، عن سفيان، عن ابي إسحاق ، عن ناجية ، عن علي ، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه وقال:" فامرني بالغسل"
حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ سے اسی طرح منقول ہے اور فرماتے ہیں کہ مجھے غسل کرنے کا حکم فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12202]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12202، ترقيم محمد عوامة 11963)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11964 ترقیم الشثری: -- 12203
١٢٢٠٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد عن الشعبي قال: ماتت ام الحارث ابن ابي ربيعة وهي نصرانية فشهدها اصحاب محمد ﷺ (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ حماد صدوق.
حدثنا وكيع، عن سفيان، عن حماد، عن الشعبي، قال: " ماتت ام الحارث بن ابي ربيعة وهي نصرانية، فشهدها اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم"
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ام الحارث بن ابی ربیعہ جو نصرانیہ تھی اس کا انتقال ہوگیا تو اس کے جنازے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ شریک ہوئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12203]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12203، ترقيم محمد عوامة 11964)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11965 ترقیم الشثری: -- 12204
١٢٢٠٤ - حدثنا شريك عن جابر عن عامر قال: ماتت ام الحارث وكانت نصرانية فشهدها اصحاب (رسول الله) (١) ﷺ (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (محمد).
(٢) ضعيف؛ جابر ضعيف.

حدثنا شريك، عن جابر، عن عامر، قال: " ماتت ام الحارث , كانت نصرانية، فشهدها اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم"
حضرت عامر سے اسی کے مثل منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12204]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12204، ترقيم محمد عوامة 11965)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11966 ترقیم الشثری: -- 12205
١٢٢٠٥ - حدثنا عيسى بن يونس عن محمد بن (ابي) (١) إسماعيل عن عامر بن شقيق عن ابي وائل قال: ماتت امي وهي نصرانية فاتيت عمر فذكرت ذلك له فقال: اركب (دابة) (٢) وسر امامها (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ص].
(٢) في [ص]: (دابته).
(٣) حسن؛ عامر بن شفيق صدوق.

حدثنا حدثنا عيسى بن يونس، عن محمد بن ابي إسماعيل، عن عامر بن شقيق، عن ابي وائل، قال: " ماتت امي وهي نصرانية، فاتيت عمر فذكرت ذلك له فقال: اركب دابة وسر امامها"
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں میری والدہ کا انتقال ہوگیا جو کہ نصرانیہ تھی، میں حضرت عمر کے پاس آیا اور ان کو بتلایا، آپ نے فرمایا: سواری پر سوار ہو جاؤ اور اس کے آگے خاموشی سے چلو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12205]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12205، ترقيم محمد عوامة 11966)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11967 ترقیم الشثری: -- 12206
١٢٢٠٦ - حدثنا جرير عن عطاء بن السائب قال: ماتت ام رجل من (ثقيف) (١) وهي نصرانية (فسال) (٢) ابن (مغفل) (٣) فقال: إني احب ان (ا) (٤) حضرها ولا اتبعها قال: اركب دابة وسر امامها علوة فإنك إذا سرت امامها فلست معها (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (الثقيف).
(٢) في [ص، أ]: (فسألت).
(٣) كذا في النسخ، ولعلها: (معقل).
(٤) سقط من: [ص].
(٥) ضعيف؛ عطاء اختلط، ولم يدرك ابن مغفل.

حدثنا حدثنا جرير، عن عطاء بن السائب، قال: ماتت ام رجل من ثقيف وهي نصرانية، فسال ابن مغفل، فقال: إني احب ان احضرها , ولا اتبعها؟ قال:" اركب دابة , وسر امامها علوة، فإنك إذا سرت امامها فلست معها"
حضرت عطاء بن السائب فرماتے ہیں کہ ثقیف کے ایک شخص کی والدہ کا انتقال ہوگیا جو کہ نصرانیہ تھی۔ اس نے حضرت ابن معقل سے اس کے متعلق دریافت کیا، آپ نے فرمایا مجھے تو یہ پسند ہے کہ اس کے جنازے میں حاضر ہوا جائے لیکن اس کے جنازے کے ساتھ (پیچھے) نہ چلا جائے، پھر فرمایا: سواری پر سوار ہو جاؤ اور اس کے آگے تین سے چار سو گز چلو کیونکہ جب تم اس کے آگے چلو گے تو اس کے ساتھ شمار نہیں ہو گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12206]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12206، ترقيم محمد عوامة 11967)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11968 ترقیم الشثری: -- 12207
١٢٢٠٧ - حدثنا وكيع عن شريك عن عبد الله بن شريك قال: سمعت (ابن) (١) عمر سئل عن الرجل المسلم يتبع امه النصرانية تموت؟ قال: يتبعها (و) (٢) يمشي امامها (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (أن).
(٢) في [أ، ب]: (أو).
(٣) حسن؛ شريك صدوق.

حدثنا حدثنا وكيع، عن شريك، عن عبد الله بن شريك، قال: سمعت ابن عمر ، سئل عن الرجل المسلم يتبع امه النصرانية تموت قال:" يتبعها ويمشي امامها"
حضرت عبد اللہ بن شریک فرماتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے سوال کیا کہ اس کی نصرانیہ ماں فوت ہوگئی ہے اس کے جنازے کے ساتھ جاسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کے ساتھ تو جائے لیکن اس کے جنازے کے آگے چلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12207]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12207، ترقيم محمد عوامة 11968)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11969 ترقیم الشثری: -- 12208
١٢٢٠٨ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن ضرار بن مرة عن سعيد بن جبير قال: مات رجل نصراني وله ابن مسلم فلم يتبعه فقال ابن عباس: كان ينبغي له ان يتبعه ويدفنه ويستغفر له في حياته (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حدثنا حدثنا وكيع، عن إسرائيل، عن ضرار بن مرة، عن سعيد بن جبير، قال: مات رجل نصراني وله ابن مسلم، فلم يتبعه، فقال ابن عباس:" كان ينبغي له ان يتبعه , ويدفنه , ويستغفر له في حياته".
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک نصرانی کا انتقال ہوا اس کا ایک مسلمان بیٹا تھا جو اس کے جنازے میں شریک نہیں ہوا، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مناسب تھا کہ وہ اپنے باپ کے جنازے کے ساتھ جاتا اس کو دفن کرتا اور اپنی زندگی میں اس کے لئے دعائے مغفرت کرتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12208]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12208، ترقيم محمد عوامة 11969)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11970 ترقیم الشثری: -- 12209
١٢٢٠٩ - حدثنا علي بن مسهر عن الاجلح عن الشعبي قال: لما مات ابو طالب (جاء) (١) (علي) (٢) إلى النبي ﷺ فقال: إن عمك الشيخ الكافر قد مات فما ترى فيه؟ قال:"ارى ان تغسله (وتنحيه) " (٣) ، وامره بالغسل (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (حباء).
(٢) سقط من: [أ].
(٣) في [ب]: بياض، وفي [س]: (تجنه)، وهكذا في تلخيص الحبير ٢/ ١١٤، ونصب الراية ٢/ ٢٨١، وتحفة الأحوذي ٤/ ٦١.
(٤) مرسل؛ الشعبي تابعي.

حدثنا علي بن مسهر ، عن الاجلح ، عن الشعبي ، قال: لما مات ابو طالب جاء علي إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: إن عمك الشيخ الكافر قد مات , فما ترى فيه؟ قال:" ارى ان تغسله وتنحيه , وامره بالغسل"
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب ابو طالب کا انتقال ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور فرمایا آپ کا کافر چچا فوت ہوگیا ہے آپ کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو غسل دو اور دفنا دو، اور ان کو (بعد میں) غسل کرنے کا حکم فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12209]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12209، ترقيم محمد عوامة 11970)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11971 ترقیم الشثری: -- 12210
١٢٢١٠ - حدثنا ابن فضيل عن ضرار بن مرة عن سعيد بن جبير قال: مات رجل نصراني (فوكله) (١) ابنه إلى اهل دينه، فذكر ذلك لابن عباس فقال: ما كان عليه لو مشى معه (واجنه) (٢) (واستغفر) (٣) له ما كان حيا، ثم تلا: ﴿وما كان استغفار إبراهيم لابيه﴾ (الآية) (٤) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (فوكل).
(٢) في [هـ]: (ودفنه)، وفي [أ]: (وأجثة)، وفي [ب]: (أحثه).
(٣) في [أ، ب]: (فاستغفر).
(٤) في [هـ، ف]: (زيد).
(٥) صحيح.

حدثنا حدثنا ابن فضيل، عن ضرار بن مرة، عن سعيد بن جبير، قال: مات رجل نصراني , فوكله ابنه إلى اهل دينه، فذكر ذلك لابن عباس، فقال:" ما كان عليه لو مشى معه , واحثه , واستغفر له ما كان حيا، ثم تلا وما كان استغفار إبراهيم لابيه سورة التوبة آية 114 الآية"
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک نصرانی شخص کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے نے اس کو ان کے مذہب والوں کے سپرد کردیا، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جب اس کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا: کوئی حرج نہ تھا اگر یہ اس کے ساتھ جاتا اور اس کو دفناتا اور اپنی زندگی میں اس کے لیے دعائے مغفرت کرتا، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: { وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ إبْرَاہِیمَ لأَبِیہِ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12210]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12210، ترقيم محمد عوامة 11971)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں