صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب زَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ:
باب: مسلمانوں پر کھجور اور جو میں سے صدقہ فطر کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 984 ترقیم شاملہ: -- 2278
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى النَّاسِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ، أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ، أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں پر رمضان کا صدقہ فطر (فطرانہ) کھجور یا جو کا ایک صاع (فی کس) مقرر کیا، وہ (فرد) مسلمانوں میں سے آزاد ہو یا غلام، مرد یا عورت۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2278]
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں پر رمضان کے سبب ہر آزاد، غلام، مذکر اور مؤنث پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو صدقہ فطر (فطرانہ) مقرر کیا بشرط یہ کہ وہ مسلمان ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2278]
ترقیم فوادعبدالباقی: 984
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 984 ترقیم شاملہ: -- 2279
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، عَلَى كُلِّ عَبْدٍ أَوْ حُرٍّ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ ".
عبید اللہ نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام یا آزاد، چھوٹے یا بڑے ہر کسی پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو صدقہ فطر (فطرانہ) فرض قرار دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2279]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر، ہرغلام اور آزاد پر اور چھوٹے اور بڑے پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو مقرر فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2279]
ترقیم فوادعبدالباقی: 984
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 984 ترقیم شاملہ: -- 2280
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " فَرَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ رَمَضَانَ عَلَى الْحُرِّ وَالْعَبْدِ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ "، قَالَ: فَعَدَلَ النَّاسُ بِهِ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ.
ایوب نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت ہر کسی پر رمضان کا صدقہ کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع مقرر فرمایا۔ کہا: لوگوں نے گندم کا نصف صاع اس (جو) کے (ایک صاع کے) مساوی قرار دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2280]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی زکاۃ، آزاد اور غلام، مذکر اور مؤنث پر کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع مقرر کی، اور لوگوں نے گندم کے نصف صاع کو ان (تمر،جو) کے ایک صاع کے مساوی قرار دے دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2280]
ترقیم فوادعبدالباقی: 984
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 984 ترقیم شاملہ: -- 2281
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ "، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَجَعَلَ النَّاسُ عَدْلَهُ مُدَّيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ.
لیث نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع صدقہ فطر (ادا) کرنے کا حکم دیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تو لوگوں نے گندم کے دو مد اس (جو) کے ایک صاع کے برابر قرار دے لیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2281]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ فطر کا حکم دیا، کھجوروں سے ایک صاع یا جو کا ایک صاع، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں لوگوں نے گندم کے دو مُد ان کے ایک صاع کے برابر قراردے لیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2281]
ترقیم فوادعبدالباقی: 984
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 984 ترقیم شاملہ: -- 2282
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، أَوْ رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ".
ضحاک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں مسلمانوں میں سے ہر انسان پر آزاد یا غلام، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا کھجوروں کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع صدقہ فطر مقرر فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2282]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سبب، ہرمسلمان جان پر آزاد ہو یا غلام، مرد ہویا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، کھجوروں سے ایک صاع یا جو سے ایک صاع فطرانہ لازم ٹھہرایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2282]
ترقیم فوادعبدالباقی: 984
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 985 ترقیم شاملہ: -- 2283
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: " كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ ".
زید بن اسلم نے عیاض بن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ہم زکاۃ الفطر طعام (گندم) کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا کھجوروں کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع یا منقے کا ایک صاع نکالا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2283]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم زکاۃ فطر طعام (خوراک) سے ایک صاع یا جو سے ایک صاع یا کھجوروں سے ایک صاع یا پنیر سے ایک صاع یا منقیٰ کا ایک صاع نکالتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2283]
ترقیم فوادعبدالباقی: 985
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 985 ترقیم شاملہ: -- 2284
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " كُنَّا نُخْرِجُ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ، عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ "، فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ حَتَّى قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا، فَكَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ، أَنْ قَالَ: إِنِّي أَرَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ أُخْرِجُهُ أَبَدًا مَا عِشْتُ.
داود بن قیس نے عیاض بن عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود تھے تو ہم ہر چھوٹے بڑے آزاد اور غلام کی طرف سے طعام (گندم) کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا کھجوروں کا ایک صاع یا منقے کا ایک صاع زکاۃ الفطر (فطرانہ) نکالتے تھے اور ہم اسی کے مطابق نکالتے رہے یہاں تک کہ ہمارے پاس (امیر المومنین) معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما حج یا عمرہ ادا کرنے کے لیے تشریف لائے اور منبر پر لوگوں کو خطاب کیا اور لوگوں سے جو گفتگو کی اس میں یہ بھی کہا: ”میں یہ سمجھتا ہوں کہ شام سے آنے والی (مہنگی) گندم کے دو مد (نصف صاع) کھجوروں کے ایک صاع کے برابر ہیں۔“ اس کے بعد لوگوں نے اس قول کو اپنا لیا۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”لیکن میں جب تک ہوں زندگی بھر ہمیشہ اسی طرح نکالتا رہوں گا جس طرح (عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں) نکالا کرتا تھا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2284]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجوودگی میں زکاۃ فطر ہر چھوٹے بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے صاع طعام یا پنیر سے یا جو یا کھجوروں سے یا ایک صاع کشمش سے نکالتے تھے اور ہم اس طریقہ کے مطابق نکالتے رہے یہاں تک کہ ہمارے پاس (امیر المومنین) معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج یا عمر ہ ادا کرنے کے لیے تشریف لا ئے اور منبر پر لو گوں کو خطا ب کیا اور لو گوں سے جو خکاب فرمایا اس میں یہ بھی کہا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ شام سے آنے والی (مہنگی) گندم کے دو مد (نصف صاع) کھجوروں کے ایک صاع کے برابر ہیں تو لوگوں نے اس قول کو اپنا لیا۔ (اس پرعمل کرنا شروع کردیا) ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:میں تو بہرحال اپنی پوری زندگی اسی پرعمل کرتا رہوں گا۔ یعنی ہمیشہ پہلے کی طرح ایک صاع نکالتا رہوں گا۔ (قیاس پر عمل نہیں کروں گا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2284]
ترقیم فوادعبدالباقی: 985
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 985 ترقیم شاملہ: -- 2285
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: " كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا، عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ وَمَمْلُوكٍ، مِنْ ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ: صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ "، فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ كَذَلِكَ، حَتَّى كَانَ مُعَاوِيَةُ فَرَأَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ بُرٍّ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَذَلِكَ.
اسماعیل بن امیہ نے کہا: مجھے عیاض بن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں زکاۃ الفطر ہر چھوٹے بڑے آزاد اور غلام کی طرف سے تین (قسم کی) اصناف سے نکالتے تھے: کھجوروں سے ایک صاع، پنیر سے ایک صاع اور جو سے ایک صاع، ہم ہمیشہ اس کے مطابق نکالتے رہے یہاں تک کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کا دور آیا تو انہوں نے یہ رائے پیش کی کہ گندم کے دو مد کھجوروں کے ایک صاع کے برابر ہیں۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”لیکن میں تو اسی (پہلے طریقے سے) نکالتا رہوں گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2285]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود تھے۔ فطرانہ ہر چھوٹے بڑے اور آزاد غلام کی طرف سے تین جنسوں سے نکالتے تھے۔ کھجوروں سے ایک صاع، پنیر سے ایک صاع، جو کا ایک صاع۔ ہم ہمیشہ اس کے مطابق نکالتے رہے یہاں تک کہ امیر معاویہ کا دورآ گیا، انہوں نے خیال کیا کہ گندم کے دومد (دو بک) کھجوروں کے ایک صاع کے برابرہیں۔ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، میں تو پہلے طریقہ کے مطابق ہی نکالتا رہوں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2285]
ترقیم فوادعبدالباقی: 985
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 985 ترقیم شاملہ: -- 2286
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ: الْأَقِطِ، وَالتَّمْرِ، وَالشَّعِيرِ ".
حارث بن عبدالرحمان بن ابی ذباب نے عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم فطرانہ ان تین اجناس سے نکالا کرتے تھے: پنیر، کھجور اور جو۔ (یہی ان کی بنیادی خوردنی اجناس تھیں۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2286]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم فطرانہ تین جنسوں سے نکالا کرتے تھے۔ پنیر، کھجور اورجو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2286]
ترقیم فوادعبدالباقی: 985
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 985 ترقیم شاملہ: -- 2287
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ لَمَّا جَعَلَ نِصْفَ الصَّاعِ مِنَ الْحِنْطَةِ عَدْلَ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، أَنْكَرَ ذَلِكَ أَبُو سَعِيدٍ وَقَالَ: " لَا أُخْرِجُ فِيهَا إِلَّا الَّذِي كُنْتُ أُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ ".
ابن عجلان نے عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما نے گندم کے آدھے صاع کو کھجوروں کے صاع کے برابر قرار دیا تو ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اس بات (کو ماننے) سے انکار کیا اور کہا: ”میں فطرانہ میں اس کے سوا اور کچھ نہ نکالوں گا جو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نکالا کرتا تھا (اور وہ ہے) کھجوروں کا ایک صاع یا منقے کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2287]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گندم کے آدھے صاع کو کھجوروں کے صاع کے برابر قرار دیا تو ابوسعید نے اس سے انکار کیا، اور کہا، میں فطرانہ میں وہی چیز نکالتا رہوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نکالا کرتا تھا، کھجوروں کا ایک صاع یا منقیٰ کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا پنیر سے ایک صاع۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2287]
ترقیم فوادعبدالباقی: 985
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة