مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
116. في المفقود يجيء وقد تزوجت امرأته
گم شدہ شخص واپس آئے اور اس کی بیوی شادی کرچکی ہو تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 16987 ترقیم الشثری: -- 17555
١٧٥٥٥ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن خالد عن ابي نضرة عن عبد الرحمن ابن ابي ليلى قال: شهدت عمر خير مفقودا تزوجت (امراته) (١) بينها وبين المهر الذي ساقه إليها (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) صحيح.
حدثنا حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن خالد، عن ابي نضرة، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، قال: " شهدت عمر خير مفقودا تزوجت امراته بينها وبين المهر الذي ساقه إليها"
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ انہوں ایک ایسے شخص کو جو گم ہوگیا تھا اور اس کی بیوی نے شادی کرلی تھی۔ اختیار دیا کہ چاہے تو بیوی واپس لے لے یا وہ مہر واپس لے لے جو اس نے عورت کو دیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17555]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17555، ترقيم محمد عوامة 16987)
ترقیم عوامۃ: 16988 ترقیم الشثری: -- 17556
١٧٥٥٦ - حدثنا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب ان عمر وعثمان بن عفان قالا: إن جاء زوجها خير بين امراته وبين الصداق الاول (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حدثنا حدثنا عبد الاعلى، عن معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، ان عمر ، وعثمان بن عفان ، قالا: " إن جاء زوجها خير بين امراته وبين الصداق الاول"
حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ما فرماتے ہیں کہ جب عورت کا خاوند واپس آئے تو اسے بیوی اور دیئے گئے مہر کے درمیان اختیار ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17556]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17556، ترقيم محمد عوامة 16988)
ترقیم عوامۃ: 16989 ترقیم الشثری: -- 17557
١٧٥٥٧ - حدثنا ابو معاوية عن الشيباني عن الشعبي سئل عمر عن رجل غاب عن امراته (فبلغها) (١) انه مات، فتزوجت ثم جاء الزوج الاول، فقال عمر: يخير الزوج الاول بين الصداق وامراته فإن اختار الصداق تركها مع الزوج الآخر، وإن شاء اختار امراته، وقال علي: لها الصداق بما (استحل) (٢) الآخر من فرجها، ويفرق بينه وبينها، ثم تعتد (ثلاث) (٣) حيض ثم ترد على الاول (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (فبلغ).
(٢) في [س]: (استحلل).
(٣) في [أ]: (بثلاث).
(٤) منقطع؛ الشعبي لم يدرك عمر.
حدثنا حدثنا ابو معاوية، عن الشيباني، عن الشعبي، سئل عمر، عن رجل غاب عن امراته فبلغها انه مات فتزوجت ثم جاء الزوج الاول , فقال عمر:" يخير الزوج الاول بين الصداق وامراته، فإن اختار الصداق تركها مع الزوج الآخر , وإن شاء اختار امراته"، وقال علي :" لها الصداق بما استحل الآخر من فرجها، ويفرق بينه وبينها، ثم تعتد ثلاث حيض، ثم ترد على الاول"
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو غائب ہوگیا اور اس کی بیوی کو اس کے مرنے کی اطلاع ملی تو اس نے عدت گزار کر شادی کرلی۔ پھر پہلا خاوند آگیا تو کیا حکم ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پہلے خاوند کو مہر اور عورت کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ اگر وہ مہر اختیار کرلے تو عورت دوسرے خاوند کے پاس رہے گی اور اگر وہ چاہے تو اپنی بیوی کو اختیار کرلے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت کو دوسرے خاوند کی طرف سے مہر ملے گا اور دونوں کے درمیان تفریق کرادی جائے گی، پھر وہ تین حیض عدت گزارے گی اور پہلے خاوند کو واپس کردی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17557]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17557، ترقيم محمد عوامة 16989)
ترقیم عوامۃ: 16990 ترقیم الشثری: -- 17558
١٧٥٥٨ - حدثنا جرير عن عطاء بن السائب قال: جاء رجل إلى إبراهيم فقال: إنه تزوج امراة كان نعي إليها زوجها (وإنه) (١) جاء كتاب منه انه حي (قال) (٢) : فقال إبراهيم: اعتزلها، فإذا قدم فإن شاء اختار الذي اصدقها (وكانت) (٣) امراتك على حالها، وإن اختار المراة (فإن) (٤) انقضت عدتها منك فهي امراة الاول ولها ما اصدقها (بما) (٥) استحل من فرجها قال: (افاواكلها) (٦) ؟ قال: نعم! ولا (تدخل) (٧) عليها حتى تؤذنها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ط، هـ]: (فإنه).
(٢) سقط من: [ف].
(٣) في [س، هـ]: (فكانت).
(٤) في [أ، ب، جـ، ز]: (فإذا).
(٥) في [جـ، س، ز، ط]: (ما).
(٦) في [أ، ب، س، ط]: (أفاوكلها).
(٧) في [ط]: (ندخل).
حدثنا جرير، عن عطاء بن السائب، قال: جاء رجل إلى إبراهيم، فقال: إنه تزوج امراة كان نعي إليها زوجها فإنه جاء كتاب منه انه حي , فقال إبراهيم:" اعتزلها فإذا قدم فإن شاء اختار الذي اصدقها فكانت امراتك على حالها , وإن اختار المراة فإن انقضت عدتها منك فهي امراة الاول، ولها ما اصدقها بما استحل من فرجها، قال: افاؤاكلها؟ قال: نعم، ولا تدخل عليها حتى تؤذنها"
حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابراہیم کے پاس آیا اور کہا کہ ایک عورت کو اس کے خاوند کے انتقال کرجانے کی خبر ملی اور اس نے شادی کرلی تو بعد میں اس کے زندہ ہونے کا خط آگیا۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ جب وہ آئے تو اپنی بیوی سے دور رہے۔ پھر اگر چاہے تو مہر واپس لے لے اور عورت اپنی حالت پر باقی رہے گی اور اگر وہ عورت کو اختیار کرلے تو عدت گزرنے کے بعد وہ اسی کی بیوی ہوگی۔ البتہ دوسرے خاوند کی طرف سے اسے مہر ضرور ملے گا۔ اس شخص نے کہا کہ کیا میں اس عورت کی مواکلت کرسکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا ہاں البتہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے پاس مت جانا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17558]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17558، ترقيم محمد عوامة 16990)
ترقیم عوامۃ: 16991 ترقیم الشثری: -- 17559
١٧٥٥٩ - حدثنا ابن نمير عن سعيد عن قتادة عن ابي المليح عن (سهيمة) (١) ابنة عمير (الشيبانية) (٢) قالت: نعي إلي زوجي (من) (٣) (قندابيل) (٤) فتزوجت (بعده) (٥) ⦗٣٦٠⦘ (العباس) (٦) بن طريف اخا (بني) (٧) قيس، فقدم زوجي الاول فانطلقنا إلى عثمان وهو (محصور) (٨) (فقال) (٩) : كيف اقضي (بينكم) (١٠) على حالي هذه؟ قلنا: قد رضينا بقضائك فخير الزوج بين الصداق وبين المراة (١١) فلما اصيب عثمان انطلقنا إلى علي وقصصنا عليه (القصة) (١٢) فخير الزوج الاول بين الصداق وبين المراة (فاختار) (١٣) الصداق فاخذ مني الفين ومن (الزوج) (١٤) الآخر الفين (١٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، جـ، ز]: (سهبة)، وفي [ك، ز]: (سمية)، وردت (سهبة) في طبقات ابن سعد ٨/ ٤٧١، ووردت (شهبة) في تاريخ ابن عساكر ٢٤/ ٢٥٧، ووردت (سمية) في تكملة الإكمال ٣/ ٢٢٢، كما وردت (سهيمة) في البيهقي ٧/ ٤٤٧، والاستذكار ٦/ ١٣١، والمحلى ١٠/ ١٣٦.
(٢) في [ط، جـ، ك]: (الشيباني)، وكذلك [أ، ب، ز]. وفي [س]: (الشيبان).
(٣) في [ب]: (عن)، وكذلك [ط].
(٤) في [هـ]: (قندابل)، وفي [أ]: (قيدابيل)؛ وهي مدينة بالسند.
(٥) في [جـ]: (بعد).
(٦) في [س]: (الهاس).
(٧) في [س]: (بن).
(٨) في [ز]: (محضور).
(٩) في [جـ]: (قال).
(١٠) سقط من: [س].
(١١) في [ز]: زيادة (فاختار الصداق فأخذ مني ألفين ومن الزوج الآخر ألفين).
(١٢) في [س]: (القص).
(١٣) في [س]: (فاختا).
(١٤) في [جـ، ك، ز]: زيادة (الزوج).
(١٥) مجهول؛ لجهالة سهيمة.
حدثنا حدثنا ابن نمير، عن سعيد، عن قتادة، عن ابي المليح، عن سهيمة ابنة عمير الشيبانية، قالت: نعي إلي زوجي من قندابيل فتزوجت بعده العباس بن طريف اخا بني قيس , فقدم زوجي الاول فانطلقنا إلى عثمان وهو محصور، فقال: كيف اقضي بينكم على حالي هذه؟ قلنا: قد رضينا بقضائك،" فخير الزوج بين الصداق وبين المراة"، فلما اصيب عثمان انطلقنا إلى علي وقصصنا عليه القصة" فخير الزوج الاول بين الصداق وبين المراة فاختار الصداق، فاخذ مني الفين ومن الآخر الفين"
حضرت سہیہ بنت عمیر شیبانیہ فرماتی ہیں کہ مجھے قندابیل میں اپنے خاوند کے انتقال کی خبر ملی۔ میں نے بعد میں عباس بن طریف جو بنو قیس کے بھائی تھے شادی کرلی۔ بعد میں میرے پہلے خاوند بھی واپس آگئے۔ ہم مسئلہ پوچھنے حضرت عثمان بن عفان کے پاس گئے، اس وقت وہ محصور تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں اس حال میں تمہارے درمیان فیصلہ کیسے کرسکتا ہوں؟ ہم نے کہا کہ ہم آپ کے فیصلے پر راضی ہیں۔ انہوں نے خاوند کو مہر اور عورت میں سے ایک چیز کا اختیار دیا۔ جب حضرت عثمان کو شہید کردیا گیا تو ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور سارا واقعہ بیان کیا تو انہوں نے پہلے خاوند کو مہر اور عورت کے درمیان اختیار دیا۔ پس انہوں نے مہر کو اختیار کرتے ہوئے مجھ سے اور دوسرے خاوند سے دو دو ہزار لئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17559]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17559، ترقيم محمد عوامة 16991)
ترقیم عوامۃ: 16992 ترقیم الشثری: -- 17560
١٧٥٦٠ - حدثنا ابو بكر عن غندر عن شعبة عن (سيار) (١) عن الشعبي قال: امراة المفقود امراة الاول.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (يسار).
حدثنا ابو بكر، عن غندر، عن شعبة، عن سيار، عن الشعبي، قال: " امراة المفقود امراة الاول"
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ گم شدہ آدمی کی شادی کرنے والی بیوی خاوند کے واپس آجانے کی صورت میں پہلے کی بیوی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17560]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17560، ترقيم محمد عوامة 16992)
ترقیم عوامۃ: 16993 ترقیم الشثری: -- 17561
١٧٥٦١ - حدثنا ابو اسامة عن (عمر) (١) بن حمزة قال: سمعت القاسم بن محمد يقول: قضى (فينا) (٢) ابن الزبير في مولاة (لهم) (٣) كان (زوجها) (٤) قد نعي ⦗٣٦١⦘ (فتزوجت) (٥) ثم جاء زوجها، فقضى ان زوجها الاول يخير إن شاء امراته (و) (٦) إن شاء صداقه (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عمرو).
(٢) في [جـ]: (فيه)، وسقط من: [ز].
(٣) سقط من: [ز].
(٤) في [ط]: (زجها).
(٥) في [هـ، س، ط]: (فزوجت).
(٦) سقط من: [س].
(٧) ضعيف؛ لضعف عمر بن حمزة.
حدثنا حدثنا ابو اسامة، عن عمر بن حمزة، قال: سمعت القاسم بن محمد، يقول: قضى فينا ابن الزبير في مولاة لهم كان زوجها قد نعي فزوجت ثم جاء زوجها ," فقضى ان زوجها الاول يخير إن شاء امراته , وإن شاء صداقه" ,
حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مقدمہ لایا گیا کہ ایک عورت کو اس کے خاوند کے انتقال کی خبر ملی اور اس نے شادی کرلی۔ پھر اس کا پہلا خاوند بھی آگیا تو حضرت عبداللہ بن زبیر نے فیصلہ فرمایا کہ اس کے پہلے خاوند کو اختیاردیا جائے گا اگر چاہے تو بیوی کو لے لے اور اگر چاہے تو اپنا دیا ہوا مہر واپس لے لے۔ حضرت عمر بن حمزہ فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم بھی یہی کہا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17561]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17561، ترقيم محمد عوامة 16993)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 17562
١٧٥٦٢ - قال عمر: وكان القاسم يقول ذلك.
قال عمر: وكان القاسم يقول ذلك
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17562، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 16994 ترقیم الشثری: -- 17563
١٧٥٦٣ - حدثنا عبد الاعلى عن داود عن العباس بن عبد الرحمن (عن حميد ابن عبد الرحمن) (١) ان عمر خير المفقود وقد تزوجت امراته، فاختار المال فجعله على زوجها الاحدث (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، هـ، س، ط].
(٢) مجهول منقطع؛ العباس بن عبد الرحمن مولى بني هاشم مجهول، وحميد لم يدرك عمر.
حدثنا حدثنا عبد الاعلى، عن داود، عن العباس بن عبد الرحمن عن حميد بن عبد الرحمن، ان عمر :" خير المفقود وقد تزوجت امراته , فاختار المال فجعله على زوجها الاحدث"
حضرت حمید بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو مہر اور بیوی میں اختیار دیا جو گم ہوگیا تھا اور اس کی بیوی نے شادی کرلی تھی۔ اس نے مہر کو اختیار کرلیا اور وہ مال آپ نے دوسرے خاوند پر لازم کیا۔ حضرت حمیدکہتے ہیں کہ میں اس عورت کے پاس گیا جس کے بارے میں یہ فیصلہ ہوا تھا تو اس نے کہا کہ میں نے ایک بچی کے ذریعے دوسرے خاوند کی مدد کی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17563]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17563، ترقيم محمد عوامة 16994)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 17564
١٧٥٦٤ - قال حميد: فدخلت على المراة التي قضى فيها هذا، فقالت: فاعنت زوجي الآخر بوليدة (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول، لجهالة المرأة.
قال حميد: فدخلت على المراة التي قضى فيها هذا , فقالت: فاعنت زوجي الآخر بوليدة
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17564، ترقيم محمد عوامة ---)