مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
56. ما قالوا فيه إذا جعل أمر امرأته بيدها (فتقول): أنت طالق ثلاثا
اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور پھر عورت نے کہا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 18393 ترقیم الشثری: -- 19074
١٩٠٧٤ - حدثنا ابو بكر (قال) (١) : (نا) (٢) جرير بن عبد الحميد عن منصور عن ابن عباس في رجل قال لامراته: امرك بيدك، فقالت: انت طالق ثلاثا، فقال ابن ⦗١٨١⦘ عباس: خطا الله (نوءها) (٣) [لو قالت: انا طالق ثلاثا لكان كما قالت (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [أ، ب، جـ، ط]: (ثنا).
(٣) في [ب]: (فوها)، والمراد أن اللَّه جعلها تخطئ في اللفظ مما جعل الطلاق لا يقع.
(٤) منقطع؛ لانقطاع ما بين منصور وابن عباس.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا جرير بن عبد الحميد، عن منصور، عن ابن عباس ، في رجل قال لامراته: امرك بيدك، فقالت: انت طالق ثلاثا؟ فقال ابن عباس:" خطا الله نوءها , لو قالت: انا طالق ثلاثا ؛ لكان كما قالت"
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور پھر عورت نے کہا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں تو کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے اس کی زبان پر غلط بات کو جاری کردیا، اگر وہ یہ کہتی کہ مجھے تین طلاقیں ہیں تو پھر طلاق ہوتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19074]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19074، ترقيم محمد عوامة 18393)
ترقیم عوامۃ: 18394 ترقیم الشثری: -- 19075
١٩٠٧٥ - حدثنا ابو بكر قال: نا جرير عن منصور قال: ذكرته لإبراهيم فقال: سواء هي واحدة، وهو املك بها إن قالت: طلقتك او طلقت نفسي.
حدثنا ابو بكر، قال: نا جرير، عن منصور، قال: ذكرته لإبراهيم؟ , فقال: " سواء هي واحدة وهو املك بها إن قالت: طلقتك او طلقت نفسي"
حضرت منصور رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور پھر عورت نے کہا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ خواہ یہ کہے کہ میں نے تجھے طلاق دی اور خواہ یہ کہے کہ میں نے خود کو طلاق دی۔ دونوں صورتوں میں ایک طلاق ہوجائے گی اور وہ خاوند رجوع کا زیادہ حق دار ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19075]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19075، ترقيم محمد عوامة 18394)
ترقیم عوامۃ: 18395 ترقیم الشثری: -- 19076
١٩٠٧٦ - حدثنا ابو بكر قال: نا (١) ابن عيينة عن عمرو عن عطاء (٢) عن ابن عباس قال: خطا الله نوءها (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ثنا)، وسقط من: [س].
(٢) في [ز]: زيادة (و).
(٣) صحيح.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا ابن عيينة، عن عمرو، عن عطاء، عن ابن عباس ، قال: " خطا الله نوءها"
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور پھر عورت نے کہا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں تو کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے اس کی زبان پر غلط بات کو جاری کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19076]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19076، ترقيم محمد عوامة 18395)
ترقیم عوامۃ: 18396 ترقیم الشثری: -- 19077
١٩٠٧٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الله بن نمير عن الاعمش عن حبيب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس في رجل جعل امر امراته بيدها، فقالت: انت طالق ثلاثا قال: خطا الله نوءها] (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين من: [ب، ط].
(٢) صحيح.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد الله بن نمير، عن الاعمش، عن حبيب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس ، في رجل جعل امر امراته بيدها , فقالت: انت طالق ثلاثا، قال:" خطا الله نوءها"
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور پھر عورت نے کہا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں تو کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے اس کی زبان پر غلط بات کو جاری کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19077]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19077، ترقيم محمد عوامة 18396)
ترقیم عوامۃ: 18397 ترقیم الشثری: -- 19078
١٩٠٧٨ - حدثنا ابو بكر قال: (نا) (١) محمد بن بشر العبدي قال: نا زكريا بن ابي زائدة قال: نا منصور حدثني إبراهيم عن علقمة قال: كنت (عند) (٢) عبد الله بن مسعود فاتاه رجل فقال: يا ابا عبد الرحمن، إنه كان بيني وبين اهلي بعض ما يكون بين الناس، وإنها قالت: لو كان ما بيدك من الامر بيدي لعلمت ما (اصنع؟) (٣) ⦗١٨٢⦘ فقلت لها: هي بيدك، قالت: فإني قد طلقتك ثلاثا، (قال) (٤) عبد الله: هي تطليقة واحدة وانت احق بها، قال: فذكرت ذلك لعمر (قال) (٥) فقال: لو قلت غير ذلك (لرايت) (٦) انك لم تصب (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط]: (ثنا).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [ب، س، ط]: (أضع).
(٤) في [جـ، ك]: (فقال).
(٥) في [أ، ب، جـ]: زيادة (قال).
(٦) في [خ، ع]: (لعلمت).
(٧) صحيح.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا محمد بن بشر العبدي، قال: نا زكريا بن ابي زائدة، قال: قال منصور، حدثني إبراهيم، عن علقمة، قال: كنت عند عبد الله بن مسعود ، فاتاه رجل، فقال: يا ابا عبد الرحمن، إنه كان بيني وبين اهلي بعض ما يكون بين الناس , وإنها قالت: لو كان ما بيدك من الامر بيدي لعلمت ما اصنع؟ , فقلت لها: هي بيدك, قالت: فإني قد طلقتك ثلاثا؟ قال عبد الله:" هي تطليقة واحدة وانت احق بها"، قال: فذكرت ذلك لعمر، فقال:" لو قلت غير ذلك لرايت انك لم تصب"
حضرت علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اے ابو عبد الرحمن! میرے اور میری بیوی کے درمیان کچھ جھگڑا ہوا، اس نے مجھے کہا کہ اگر تم اپنا معاملہ میرے ہاتھ میں دے دو تو تم دیکھنا کہ میں کیا کرتی ہں و؟ میں نے کہا کہ وہ تیرے ہاتھ ہے، پھر اس نے خود کو تین طلاقیں دے دیں۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک طلاق ہوئی، اور تم اس سے رجوع کرنے کے زیادہ حقدار ہو۔ وہ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے اس کا تذکرہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر تم اس کے علاوہ کوئی اور بات کرتے تو میں سمجھتا کہ تم نے صحیح بات نہیں کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19078]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19078، ترقيم محمد عوامة 18397)