🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

117. ما قالوا في المختلعة، لزوجها أن يراجعها؟
خلع یافتہ عورت کا خاوند اس سے رجوع کرسکتا ہے یا نہیں؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18822 ترقیم الشثری: -- 19542
١٩٥٤٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا مروان بن معاوية عن (حبيب) (١) بن مهران (التيمي) (٢) قال: سالت عبد الله بن ابي اوفى عن امراة اختلعت من زوجها (ببقية) (٣) مهر كان لها عليه، فهل لهما ان يتراجعا؟ قال: نعم! إن لم يكن ذكر (فيه) (٤) طلاقا؛ بمهر (جديد) (٥) (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ط، هـ]: (جبير).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ز، ط، ك، هـ]: (التميمي)، وانظر: التاريخ الكبير ٢/ ٣٢٤، والجرح والتعديل ٣/ ١٠٩، والكنى للدولابي ٢/ ٧٥٣، والمقتنى ٢/ ٦٠، والثقات ٤/ ١٤١.
(٣) في [أ، ب]: (بتقية).
(٤) سقط من: [أ، ب]، وفي [ط، هـ]: (فيها).
(٥) في [أ]: (حديد).
(٦) صحيح.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا مروان بن معاوية، عن حبيب بن مهران التميمي، قال: سالت عبد الله بن ابي اوفى عن " امراة اختلعت من زوجها ببقية مهر كان لها عليه فهل لهما ان يتراجعا؟ قال: نعم , إن لم يكن ذكر فيه طلاقا بمهر جديد"،
حضرت حبیب بن مہران رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ اگر کسی عورت نے اپنے خاوند سے باقی ماندہ مہر کے عوض خلع کی تو کیا وہ رجوع کرسکتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ ہاں اگر طلاق کا ذکر نہ کیا ہو نئے مہر کے ساتھ رجوع کرسکتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ماہان رحمہ اللہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں خواہ پانی کی ایک صراحی کے بدلے ہی کیوں نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19542]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19542، ترقيم محمد عوامة 18822)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 19543
١٩٥٤٣ - قال: وسالت ماهان (فقال) (١) : نعم! ولو (بكوز) (٢) من (ماء) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (قال).
(٢) في [س، هـ]: (يكون).
(٣) في [س، هـ]: (الماء).

قال: وسالت ماهان؟ فقال: نعم! ولو بكوز من الماء"
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19543، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18823 ترقیم الشثری: -- 19544
١٩٥٤٤ - حدثنا ابو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن عامر وعن إبراهيم قالا: إذا طلق الرجل امراته واحدة على جعل فلا يملك (الرجعة) (١) وهو خاطب من الخطاب.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ف]: (الركعة).
حدثنا ابو بكر، قال: نا جرير، عن مغيرة، عن عامر، وعن إبراهيم، قالا: " إذا طلق الرجل امراته واحدة على جعل ؛ فلا يملك الرجعة، وهو خاطب من الخطاب".
حضرت عامر رحمہ اللہ اور حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے اپنی بیوی کو کسی عوض کے بدلے ایک طلاق دے دی تو وہ رجوع کا حق نہیں رکھتا، بلکہ پیام نکاح بھجوائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19544]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19544، ترقيم محمد عوامة 18823)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18824 ترقیم الشثری: -- 19545
١٩٥٤٥ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابو معاوية عن هشام قال: كان ابي يقول: (صاحبها) (١) (اولى بخطبتها) (٢) في العدة.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (لصاحبها).
(٢) في [جـ]: (لولا بخطبتها)، وفي [س، هـ]: (أن لا يخطبها).

حدثنا ابو بكر، قال: نا ابو معاوية، عن هشام، قال: كان ابي , يقول:" صاحبها اولى بخطبتها في العدة"
حضرت ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد کہا کرتے تھے کہ خلع یافتہ عورت کا خاوند عدت کے دوران پیام نکاح بھجوانے کا زیادہ حق دار ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19545]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19545، ترقيم محمد عوامة 18824)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18825 ترقیم الشثری: -- 19546
١٩٥٤٦ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبدة عن سعيد عن ابي معشر عن إبراهيم قال: (إذا) (١) (خلعها) (٢) ثم ندما وهي في عدتها لم (ترجع) (٣) إليه إلا بخطبة.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط]: (مطموسة).
(٢) في [س، ط]: (جعلها).
(٣) في [ك]: (يرجع).

حدثنا ابو بكر، قال: نا عبدة، عن سعيد، عن ابي معشر، عن إبراهيم، قال: " إذا خلعها , ثم ندما وهي في عدتها ؛ لم ترجع إليه إلا بخطبة".
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب مرد نے عورت کو خلع کے ذریعے طلاق دی، پھر دونوں کو ندامت ہوئی، جبکہ عورت اپنی عدت میں ہو تو وہ پیام نکاح کے بغیر رجوع نہیں کرسکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19546]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19546، ترقيم محمد عوامة 18825)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18826 ترقیم الشثری: -- 19547
١٩٥٤٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا الضحاك بن مخلد عن ابن ابي ذئب عن الزهري قال: لا يتزوجها باقل مما اخذ (منها) (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (عنها).
حدثنا ابو بكر، قال: نا الضحاك بن مخلد، عن ابن ابي ذئب، عن الزهري، قال:" لا يتزوجها باقل مما اخذ منها"
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو کچھ آدمی نے بیوی سے لیا ہے اس سے کم پر نکاح نہیں کرسکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19547]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19547، ترقيم محمد عوامة 18826)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18827 ترقیم الشثری: -- 19548
١٩٥٤٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان قال: سمعت ميمون بن مهران يقول في (الخلع) (١) : إذا قبل منها زوجها الفدية، ثم خطبها بعد ذلك قال: يتزوجها و (يسمي) (٢) لها مهرا جديدا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (الخلعة).
(٢) في [س، ط]: (تسمى).

حدثنا ابو بكر، قال: نا كثير بن هشام، عن جعفر بن برقان، قال: سمعت ميمون بن مهران يقول في : إذا قبل منها زوجها الفدية ثم خطبها بعد ذلك، قال:" يتزوجها ويسمي لها مهرا جديدا"
حضرت میمون بن مہران رحمہ اللہ مختلعہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر خاوند نے اس سے فدیہ قبول کرلیا پھر اس کے بعد پیام نکاح بھجوایا تو وہ شادی کرسکتا ہے لیکن نیا مہر مقرر کرے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19548]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19548، ترقيم محمد عوامة 18827)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18828 ترقیم الشثری: -- 19549
١٩٥٤٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا إبراهيم بن صدقة عن يونس عن الحسن في المختلعة إذا اراد زوجها (مراجعتها) (١) قال: (يخطبها) (٢) بمهر جديد.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (مراجعها).
(٢) في [ك]: (فحطها).

حدثنا ابو بكر، قال: نا إبراهيم بن صدقة، عن يونس، عن الحسن، في المختلعة إذا اراد زوجها مراجعتها، قال:" يخطبها بمهر جديد"
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلع یافتہ عورت کا خاوند اگر اس سے رجوع کرنا چاہے تو نئے مہر کے ساتھ پیام نکاح بھجوائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19549]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19549، ترقيم محمد عوامة 18828)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں