مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
206. ما رخص فيه من اللقطة
لقطہ میں جو رخصت دی گئی ہے
ترقیم عوامۃ: 22073 ترقیم الشثری: -- 23017
٢٣٠١٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن موسى بن ابي عائشة عن رجل عن ميمونة انها وجدت تمرة فاكلتها (وقالت) (١) : لا يحب الله الفساد (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ز، ط]: (فقالت).
(٢) مجهول؛ لإبهام الرجل.
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کو ایک کھجور ملی تو آپ رضی اللہ عنہا نے وہ تناول فرما لی اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23017]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23017، ترقيم محمد عوامة 22073)
ترقیم عوامۃ: 22074 ترقیم الشثری: -- 23018
٢٣٠١٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن مسعر عن شيخ (لم يسمه) (١) (قال) (٢) : رايت ابن عمر وجد تمرة (٣) فمسحها ثم ناولها مسكينا (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (سمعه)، وفي [ط]: (ثم سمعه).
(٢) تكرر في: [ط].
(٣) في [جـ]: زيادة (أو بعض تمرة).
(٤) مجهول؛ لإبهام الراوي عن ابن عمر.
حضرت مسعر ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا آپ کو ایک کھجور ملی آپ اس کو صاف کیا اور مسکین کو کھلا دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23018]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23018، ترقيم محمد عوامة 22074)
ترقیم عوامۃ: 22075 ترقیم الشثری: -- 23019
٢٣٠١٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن عقبة بن (عبد الله) (١) قال: حدثني ميسرة بن عميرة انه لقي ⦗١٣٣⦘ (ابا هريرة) (٢) فقال: ما تقول في اللقطة؟ (قال: وما اللقطة؟ قال:) (٣) الحبل والزمام (ونحو هذا) (٤) قال: تعرفه، فإن وجدت صاحبه رددته عليه، وإلا استمتعت به (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ز، ط، هـ]: (عبيد اللَّه)، وفي الثقات لابن حبان (٥/ ٤٢٦) (مرزوق)، وفي التاريخ الكبير (٦/ ٤٣٩) والجرح والتعديل (٦/ ٣١٦) والثقات (٨/ ٤٩٩): (عقبة بن مسروق).
(٢) تكرر في: [ز].
(٣) سقط من: [أ، ز، هـ].
(٤) سقط من: [ط].
(٥) مجهول؛ لجهالة ميسرة وعقبة.
حضرت میسرہ بن عمیرہ کی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے دریافت کیا کہ لقطہ کے متعلق آپ رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ کون سا لقطہ مراد ہے؟ انہوں نے عرض کیا ڈوری اور لگام وغیرہ، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر مالک مل جائے تو اس کو لٹا دو، وگرنہ اس کو استعمال کرلو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23019]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23019، ترقيم محمد عوامة 22075)
ترقیم عوامۃ: 22076 ترقیم الشثری: -- 23020
٢٣٠٢٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الاعلى عن هشام عن الحسن: إذا كان (إليها محتاجا) (١) ياكلها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (محتاجًا إليها).
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ محتاج ہو تو خود استعمال کرلے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23020]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23020، ترقيم محمد عوامة 22076)
ترقیم عوامۃ: 22077 ترقیم الشثری: -- 23021
٢٣٠٢١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سلمة بن وردان قال: سالت سالم بن عبد الله عن ضالة الإبل فقال: معها (سقاؤها وحذاؤها) (١) ، دعها إلا ان تعرف صاحبها فتدفعها إليه، قال: وسالته عن ضالة المغنم فقال: عرفها، فإن جاء صاحبها وإلا فهي لك او لاخيك او للذئب.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح]: (سقاها وحذاها)، وفي [ط]: (سقاها وخذاها).
حضرت سالم بن عبد اللہ سے گم شدہ اونٹ کے متعلق دریافت کیا گیا، آپ نے فرمایا کہ اس کے ساتھ سم اور مشک موجود ہیں (یعنی پانی کی بھی احتیاجی نہیں اور اپنے سموں سے وہ دور تک کا سفر بھی کرسکتی ہے)۔ لہٰذا تو اس کو چھوڑ دے۔ ہاں اگر اس کے مالک کا علم ہو تو اس کو دے دے۔ پھر راوی کہتے ہیں کہ میں نے گم شدہ بکری کے متعلق دریافت کیا؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: اس کی تشہیر کرو۔ اگر مالک آجائے تو بہتر ہے وگرنہ یا تو وہ تیرے لئے ہے یا تیرے کسی بھائی کے لئے یا پھر بھیڑیے کے لئے ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23021]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23021، ترقيم محمد عوامة 22077)
ترقیم عوامۃ: 22078 ترقیم الشثری: -- 23022
٢٣٠٢٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام بن سعد عن عمرو ابن شعيب عن ابيه عن جده ان رجلا سال النبي ﷺ عن ضالة المغنم فقال:"لك او لاخيك او للذئب"، وساله عن ضالة الإبل فقال:"ما تريد (إليها؟) (١) معها (سقاؤها وحذاؤها) (٢) ، تاكل المرعى وترد الماء" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ، ح، ط]: (سقاها وحذاها).
(٣) حسن؛ هشام وشعيب صدوقان، أخرجه أحمد (٦٦٨٣)، وأبو داود (١٧١٠)، وعبد الرزاق (٨٥٩٧)، والطحاوي ٤/ ١٣٥، والطبراني في الأوسط (٥٢٦)، والبيهقي ٤/ ١٥٢.
حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گم شدہ بکری کے متعلق سوال کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یا وہ تیرے لئے ہے یا تیرے بھائی کے لئے یا پھر بھیڑیے کے لئے ہے۔ اُس نے گم شدہ اونٹ کے متعلق دریافت کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اس سے کیا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ پانی کا مشکیزہ اور نعل موجود ہے۔ چراگاہ سے کھائے گا اور پانی پر جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23022]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23022، ترقيم محمد عوامة 22078)
ترقیم عوامۃ: 22079 ترقیم الشثری: -- 23023
٢٣٠٢٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو الاحوص عن ابي إسحاق عن (العالية) (١) (قالت) (٢) : كنت (جالسة) (٣) عند عائشة فاتتها امراة فقالت: يا ام المؤمنين إني وجدت شاة ضالة فكيف تامريني ان اصنع؟ فقالت: عرفي واحلبي و (اعلفي) (٤) ، ثم عادت فسالتها، فقالت عائشة: (تامريني) (٥) ان آمرك ان (تذبحيها او تبيعيها) (٦) فليس لك ذلك (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ز، ط]: (أبي العالية)،، في حاشية [جـ]: (العالية بنت أيفح زوجة أبي إسحاق السبيعي وأم يونس بن أبي إسحاق، وثقها ابن حبان، حرره محمود العيني).
(٢) في [أ، ح، ط]: (قال)، وكذلك في: [ز].
(٣) في [أ، ح، ز، ط]: (جالسًا).
(٤) في [ز]: (اعلقي).
(٥) في [ط]: (تسأليني).
(٦) في [أ، ح، ط، ز]: (تذبحينها أ، تبيعينها).
(٧) حسن؛ العالية صدوقة.
حضرت العالیہ فرماتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھی کہ ایک خاتون آئی اور عرض کی اے ام المؤمنین! مجھے ایک گم شدہ بکری ملی ہے، آپ رضی اللہ عنہا کیا حکم دیتی ہیں میں اس کا کیا کروں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اس کی تشہیر کرو، اس کا دودھ نکالو اور اس کو چارہ کھلاؤ، پھر وہ دوبارہ حاضر ہوئی اور سوال کیا؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا: تو مجھ سے اس امید پر سوال کر رہی ہے کہ میں تجھے ذبح یا فروخت کرنے کا حکم دوں گی؟ یہ تیرے لئے جائز نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23023]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23023، ترقيم محمد عوامة 22079)
ترقیم عوامۃ: 22080 ترقیم الشثری: -- 23024
٢٣٠٢٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شريك عن زهير بن ابي ثابت عن سلمى، ولا اراها إلا ابنة كعب، (قالت) (١) : وجدت (خاتما) (٢) في طريق مكة فسالت عائشة (فقالت) (٣) : تمتعي به (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، ط، هـ]: (قال).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [جـ]: (فقال).
(٤) مجهول؛ لجهالة سلمى.
حضرت بنت کعب رحمہ اللہ فرماتی ہیں کہ مجھے مکہ مکرمہ کے راستہ میں ایک انگوٹھی ملی، میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23024]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23024، ترقيم محمد عوامة 22080)
ترقیم عوامۃ: 22081 ترقیم الشثری: -- 23025
٢٣٠٢٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو الاحوص عن زيد بن جبير قال: كنت ⦗١٣٥⦘ قاعدا عند ابن عمر فاتاه رجل فقال: ضالة (وجدتها) (١) ؟ (فقال) (٢) : اصلح إليها وانشد، قال: فهل علي ان شربت من لبنها (٣) ؟ قال ابن عمر: ما ارى عليك في ذلك (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (وجدناها).
(٢) في [أ، ط]: (ناقصة).
(٣) في [ز]: (فقال).
(٤) صحيح.
حضرت زید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ مجھے گم شدہ جانور ملا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کی اصلاح کر کے اس کو نفع بخش بناؤ، اور اس کی تشہیر کرو، اس نے دریافت کیا کہ اگر میں اس کا دودھ استعمال کرلوں تو مجھ پر ضمان ہے؟ حضر ت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا میرے خیال میں تجھ پر کچھ نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23025]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23025، ترقيم محمد عوامة 22081)
ترقیم عوامۃ: 22082 ترقیم الشثری: -- 23026
٢٣٠٢٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حاتم بن وردان عن ايوب عن عطاء قال: رخص للمسافر ان يلتقط السوط والعصا والنعلين.
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ مسافر کو اجازت دی گئی جبکہ اس کو کوڑا، عصا اور جوتے اگر ملیں تو استعمال کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23026]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23026، ترقيم محمد عوامة 22082)