صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
40. باب فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا وَبَيَانِ مَحِلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِهَا:
باب: شب قدر کی فضیلت اور اس کو تلاش کرنے کی ترغیب، اور اس کے تعین کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1167 ترقیم شاملہ: -- 2771
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ مِنْ رَمَضَانَ، ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ عَلَى سُدَّتِهَا حَصِيرٌ، قَالَ: فَأَخَذَ الْحَصِيرَ بِيَدِهِ فَنَحَّاهَا فِي نَاحِيَةِ الْقُبَّةِ، ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ فَكَلَّمَ النَّاسَ فَدَنَوْا مِنْهُ، فَقَالَ: " إِنِّي اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ أَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ، ثُمَّ أُتِيتُ فَقِيلَ لِي: إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلْيَعْتَكِفْ "، فَاعْتَكَفَ النَّاسُ مَعَهُ، قَالَ: " وَإِنِّي أُرْبِئْتُهَا لَيْلَةَ وِتْرٍ، وَإِنِّي أَسْجُدُ صَبِيحَتَهَا فِي طِينٍ وَمَاءٍ "، فَأَصْبَحَ مِنْ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، وَقَدْ قَامَ إِلَى الصُّبْحِ فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ، فَأَبْصَرْتُ الطِّينَ وَالْمَاءَ، فَخَرَجَ حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَجَبِينُهُ وَرَوْثَةُ أَنْفِهِ فِيهِمَا الطِّينُ وَالْمَاءُ، وَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ.
ہم سے عمارہ بن غزیہ انصاری نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے محمد بن ابراہیم سے سنا، وہ ابوسلمہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ترکی خیمے کے اندر، جس کے دروازے پر چٹائی تھی، رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا، پھر درمیانے عشرے میں اعتکاف کیا۔ کہا: تو آپ نے چٹائی کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر خیمے کے ایک کونے میں کیا، پھر اپنا سر مبارک خیمے سے باہر نکال کر لوگوں سے گفتگو فرمائی، لوگ آپ کے قریب ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس شب (قدر) کو تلاش کرنے کے لیے پہلے عشرے کا اعتکاف کیا، پھر میں نے درمیانے عشرے کا اعتکاف کیا، پھر میرے پاس (بخاری حدیث: 813 میں ہے: جبریل علیہ السلام کی آمد ہوئی تو مجھ سے کہا گیا: وہ آخری دس راتوں میں ہے) تو اب تم میں سے جو اعتکاف کرنا چاہے وہ اعتکاف کر لے۔“ لوگوں نے آپ کے ساتھ اعتکاف کیا۔ آپ نے فرمایا: ”اور مجھے وہ ایک طاق رات دکھائی گئی اور یہ کہ میں اس (رات) کی صبح مٹی اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیسویں رات کی صبح کی، اور آپ نے (اس میں) صبح تک قیام کیا تھا پھر بارش ہوئی تو مسجد (کی چھت) ٹپک پڑی، میں نے مٹی اور پانی دیکھا، اس کے بعد جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر باہر نکلے تو آپ کی پیشانی اور ناک کے کنارے دونوں میں مٹی اور پانی (کے نشانات) موجود تھے اور یہ آخری عشرے میں اکیسویں کی رات تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2771]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا۔ پھر ایک ترکی خیمہ میں، جس کے دروازے پر چٹائی تھی، درمیانی عشرے کا اعتکاف کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے چٹائی کو پکڑ کر خیمہ کے ایک طرف ہٹا دیا۔ پھر اپنا سر خیمہ سے نکالا اور لوگوں سے گفتگو شروع کی تو وہ آپ کے قریب ہو گئے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس شبِ قدر کی تلاش میں پہلے عشرے کا اعتکاف کیا، پھر میں نے درمیانی عشرے کا اعتکاف کیا، پھر مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ وہ آخری عشرے میں ہے، تو جو تم میں سے اعتکاف کرنا پسند کرے تو وہ اعتکاف کرے۔“ تو لوگوں نے آپ کے ساتھ اعتکاف کیا (یعنی معتکف آپ کے ساتھ بیٹھے رہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور مجھے دکھایا گیا کہ وہ طاق رات ہے اور میں اس کی صبح مٹی اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیسویں رات پھر قیام کیا، جب اکیسویں کی صبح ہوئی تو بارش ہو چکی تھی جس سے مسجد ٹپک پڑی، تو میں نے مٹی اور پانی دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے فارغ ہو کر نکلے تو آپ کی پیشانی اور ناک کا بانسہ مٹی اور پانی سے تر تھا اور یہ آخری عشرے کی اکیسویں رات تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2771]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1167
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1167 ترقیم شاملہ: -- 2772
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ لِي صَدِيقًا، فَقُلْتُ: أَلَا تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ، فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ، فَقُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ؟، فَقَالَ: نَعَمْ، اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْوُسْطَى مِنْ رَمَضَانَ، فَخَرَجْنَا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ، فَخَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ وَإِنِّي نَسِيتُهَا أَوْ أُنْسِيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ كُلِّ وِتْرٍ، وَإِنِّي أُرِيتُ أَنِّي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ، فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَرْجِعْ "، قَالَ: فَرَجَعْنَا وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً، قَالَ: وَجَاءَتْ سَحَابَةٌ فَمُطِرْنَا حَتَّى سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ، قَالَ: حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ،
ہشام نے یحییٰ سے اور انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی، کہا: ہم نے آپس میں لیلۃ القدر کے بارے میں بات چیت کی، پھر میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ میرے دوست تھے، میں نے کہا: کیا آپ ہمارے ساتھ نخلستان میں نہیں چلیں گے؟ وہ نکلے اور ان (کے کندھوں) پر دھاری دار چادر تھی، میں نے ان سے پوچھا: (کیا) آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیلۃ القدر کا ذکر کرتے ہوئے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے درمیانے عشرے میں اعتکاف کیا، ہم بیسویں (رات) کی صبح کو (اعتکاف سے) نکلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی اور اب میں بھول گیا ہوں۔۔۔ مجھے بھلا دی گئی ہے۔۔۔ اس لیے تم اس کو آخری عشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو اور میں نے دیکھا کہ میں (اس رات) پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ تو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ واپس (اعتکاف میں) چلا جائے۔ کہا: ہم واپس ہو گئے اور ہمیں آسمان میں بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آ رہا تھا، کہا: ایک بدلی آئی، ہم پر بارش ہوئی یہاں تک کہ مسجد کی چھت بہہ پڑی۔ وہ کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی اور نماز کھڑی کی گئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہے تھے، کہا: یہاں تک کہ میں نے آپ کی پیشانی پر مٹی کا نشان بھی دیکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2772]
ابو سلمہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے آپس میں شب قدر کا تذکرہ کیا، پھر میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ میرے دوست تھے، تو میں نے ان سے کہا: ”کیا آپ ہمارے ساتھ نخلستان میں جائیں گے؟“ وہ پانچ گزی چادر اوڑھے ہوئے نکلے (اگر لفظ «خَمِيْسَة» ہو تو معنی ”پانچ گزی چادر“ ہوگا، اگر «خَمِيْصَة» ہو تو معنی ”گرم منقش چادر“ ہوگا)، میں نے ان سے پوچھا کہ: ”کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کا ذکر سنا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: ”ہاں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے درمیانی دہاکے کا اعتکاف کیا، تو ہم نے بیسویں کی صبح نکلنے کی تیاری کر لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا: ”مجھے «لَيْلَةُ الْقَدْرِ» ”لیلۃ القدر“ دکھائی گئی اور میں بھول گیا ہوں یا بھلا دیا گیا ہوں، اسے آخری عشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو اور میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں (اس رات) پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں، تو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ واپس آ جائیں (یعنی اپنا سامان واپس منگوا لیں اور معتکف میں رہیں)۔““ ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم (ذہنی طور پر) واپس لوٹ آئے (اور سامان منگوا لیا اور خیموں میں لوٹ گئے) اور ہمیں آسمان میں بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آ رہا تھا، ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بادل امنڈ آئے اور ہم پر مینہ برسا، حتیٰ کہ چھت ٹپک پڑی کیونکہ وہ کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی، پھر نماز کھڑی کی گئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہے تھے، حتیٰ کہ میں نے آپ کی پیشانی پر مٹی کا نشان دیکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2772]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1167
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1167 ترقیم شاملہ: -- 2773
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَفِي حَدِيثِهِمَا " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ، وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَرْنَبَتِهِ أَثَرُ الطِّينِ ".
معمر اور اوزاعی دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اس (سابقہ حدیث) کے ہم معنی روایت کی۔ اور ان دونوں کی حدیث میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے (فارغ ہو کر) پلٹے تو میں نے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ آپ کی پیشانی اور ناک کے کنارے پر مٹی کا نشان تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2773]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے یہی روایت نقل کرتے ہیں، اس میں ہے کہ ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فراغت حاصل کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک کے بانسہ پر مٹی کا اثر (نشان) تھا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2773]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1167
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1167 ترقیم شاملہ: -- 2774
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ، يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَبْلَ أَنْ تُبَانَ لَهُ، فَلَمَّا انْقَضَيْنَ أَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَقُوِّضَ، ثُمَّ أُبِينَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَأَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَأُعِيدَ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهَا كَانَتْ أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ، وَإِنِّي خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ بِهَا، فَجَاءَ رَجُلَانِ يَحْتَقَّانِ مَعَهُمَا الشَّيْطَانُ فَنُسِّيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، الْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ "، قَالَ: قُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ: إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا، قَالَ: أَجَلْ، نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْكُمْ، قَالَ: قُلْتُ: مَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ، قَالَ: إِذَا مَضَتْ وَاحِدَةٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ وَهِيَ التَّاسِعَةُ، فَإِذَا مَضَتْ ثَلَاثٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ، فَإِذَا مَضَى خَمْسٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ، وَقَالَ ابْنُ خَلَّادٍ: مَكَانَ يَحْتَقَّانِ يَخْتَصِمَانِ.
محمد بن مثنیٰ اور ابوبکر بن خلاد نے کہا: ہمیں عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سعید نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانے عشرے کا اعتکاف کیا اس سے پہلے کہ آپ کے سامنے اس کو کھول دیا جائے۔ آپ لیلۃ القدر کو تلاش کر رہے تھے۔ جب یہ (دس راتیں) ختم ہو گئیں تو آپ نے حکم دیا اور ان خیموں کو اکھاڑ دیا گیا، پھر (وہ رات) آپ پر واضح کر دی گئی کہ وہ آخری عشرے میں ہے۔ اس پر آپ نے (خیمے لگانے کا) حکم دیا تو ان کو دوبارہ لگا دیا گیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر لوگوں کے سامنے آئے اور فرمایا: ”اے لوگو! مجھ پر لیلۃ القدر واضح کر دی گئی اور میں تم کو اس کے بارے میں بتانے کے لیے نکلا تو دو آدمی (ایک دوسرے پر) اپنے حق کا دعویٰ کرتے ہوئے آئے، ان کے ساتھ شیطان تھا۔ اس پر وہ مجھے بھلا دی گئی۔ تم اسے رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو۔ تم نویں، ساتویں اور پانچویں (رات) میں تلاش کرو۔“ (ابونضرہ نے) کہا: میں نے کہا: ابوسعید! ہماری نسبت آپ اس گنتی کو زیادہ جانتے ہیں، انہوں نے کہا: ہاں، ہم اسے جاننے کے تم سے زیادہ حقدار ہیں۔ کہا: میں نے پوچھا: نویں، ساتویں، اور پانچویں سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جب اکیسویں رات گزرتی ہے تو وہی رات جس کے بعد بائیسویں آتی ہے وہی نویں ہے اور جب تیئسویں رات گزرتی ہے تو وہی جس کے بعد (آخر سے گنتے ہوئے ساتویں رات آتی ہے) ساتویں ہے، اس کے بعد جب پچیسویں رات گزرتی ہے تو وہی جس کے بعد پانچویں رات آتی ہے، پانچویں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2774]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے کا شب قدر کی تلاش میں اعتکاف کیا، جبکہ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم نہیں دیا گیا تھا، جب یہ دن رات ختم ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیموں کو اکھاڑنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ آخری عشرے میں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ خیمہ لگانے کا حکم دیا، پھر لوگوں کے سامنے آئے اور فرمایا: ”اے لوگو! شب قدر میرے لیے بیان کر دی گئی تھی اور میں تمہیں بتانے کے لیے نکلا تو دو آدمی آئے، ان میں سے ہر ایک حق پر ہونے کا دعویٰ کر رہا تھا، ان کے ساتھ شیطان تھا، تو میں وہ بھول گیا، پس اسے رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو۔ اسے نویں، ساتویں اور پانچویں میں تلاش کرو۔“ ابو نضرہ کہتے ہیں میں نے کہا: اے ابو سعید! ہماری نسبت اس گنتی کو آپ لوگ زیادہ جانتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، اس کام کے ہم لوگ تمہاری بہ نسبت زیادہ حقدار ہیں۔ ابو نضرہ کہتے ہیں میں نے پوچھا: نویں، ساتویں اور پانچویں سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جب بیس کے بعد ایک گزر جائے تو اس سے متصل بائیس ہے وہ نویں ہے، تیئیسویں گزر جائے اس کے بعد جو رات آئے گی وہ ساتویں ہے، تو جب پچیسویں رات گزر جائے گی تو اس کے ساتھ والی پانچویں ہے۔ ابن خلاد نے «يَحْتَقَّانِ» (ہر ایک حق پر ہونے کا دعویٰ کر رہا تھا) کی جگہ «يَخْتَصِمَانِ» کہا ہے کہ ”وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2774]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1167
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1168 ترقیم شاملہ: -- 2775
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلِ بْنِ إِسْحَاق بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَقَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ: عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، وَأَرَانِي صُبْحَهَا أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ "، قَالَ: فَمُطِرْنَا لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْصَرَفَ، وَإِنَّ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ يَقُولُ: ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ.
بسر بن سعید نے حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے شب قدر دکھائی گئی پھر مجھے بھلا دی گئی۔ اس کی صبح میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ کہا: تیئسویں رات ہم پر بارش ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی پھر آپ نے (رخ) پھیرا تو آپ کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی کے نشانات تھے، کہا: اور عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے (لیلۃ القدر) تیئیسویں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2775]
حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے شب قدر دکھائی گئی پھر بھلا دی گئی اور میں نے اس کی صبح اپنے آپ کو پانی اور مٹی میں سجدے کرتے دیکھا۔“ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تیئسویں کی رات ہم پر بارش برسی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو پانی اور مٹی کا نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر موجود تھا، عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ شب قدر تیئسویں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2775]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1168
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1169 ترقیم شاملہ: -- 2776
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: " الْتَمِسُوا "، وَقَالَ وَكِيعٌ: " تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیلۃ القدر کو رمضان کی آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2776]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شب قدر کو رمضان کی آخری دس راتوں کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔“ ابن نمیر نے «الْتَمِسُوهَا» کہا اور وکیع نے «تَحَرَّوْا» کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2776]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1169
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 762 ترقیم شاملہ: -- 2777
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدَةَ ، وَعَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، سمعا زر بن حبيش ، يَقُولُ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَقَالَ: " رَحِمَهُ اللَّهُ أَرَادَ أَنْ لَا يَتَّكِلَ النَّاسُ أَمَا إِنَّهُ قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، ثُمَّ حَلَفَ لَا يَسْتَثْنِي أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ "، فَقُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ؟، قَالَ: " بِالْعَلَامَةِ أَوْ بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ لَا شُعَاعَ لَهَا ".
سفیان بن عیینہ نے عبدہ اور عاصم بن ابی نجود سے روایت کی، ان دونوں نے حضرت زر بن حبیش سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، میں نے کہا: آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو سال بھر (رات کو) قیام کرے گا، وہ لیلۃ القدر کو پا لے گا۔ انہوں نے فرمایا: ”اللہ ان پر رحم فرمائے، انہوں نے چاہا کہ لوگ (کم راتوں کی عبادت پر) قناعت نہ کر لیں، ورنہ وہ خوب جانتے ہیں کہ وہ رمضان ہی میں ہے اور آخری عشرے میں ہے اور یہ بھی کہ وہ ستائیسویں رات ہے۔“ پھر انہوں نے استثناء (ان شاء اللہ کہے) بغیر قسم کھا کر کہا: وہ ستائیسویں رات ہی ہے۔ اس پر میں نے کہا: ابومنذر! یہ بات آپ کس بنا پر کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس علامت یا نشانی کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی ہے کہ اس دن سورج نکلتا ہے، اس کی شعائیں (نمایاں) نہیں ہوتیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2777]
زر بن حبیش رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”جو پورے سال کی راتوں میں کھڑا ہو گا (سال کی ہر رات قیام کرے گا) اس کو شب قدر نصیب ہو گی“ تو انہوں نے فرمایا: ”عبداللہ (رضی اللہ عنہ) پر اللہ تعالیٰ رحمت فرمائے، ان کا مقصد یہ تھا کہ لوگ (کسی ایک رات کے قیام) پر اعتماد و قناعت نہ کر لیں، ورنہ ان کو خوب پتہ تھا کہ شب قدر رمضان میں ہے اور اس کے بھی آخری عشرہ میں، اور وہ ستائیسویں (27) رات ہے“ پھر انہوں نے (پوری قطعیت کے ساتھ) بغیر «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» کہے قسم کھا کر کہا: ”وہ ستائیسویں رات ہی ہے“ تو میں نے دریافت کیا: ”اے ابوالمنذر! (حضرت ابی کی کنیت ہے) یہ آپ کس بنا پر کہتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”اس علامت یا نشانی کی بنا پر کہتا ہوں جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبر دی تھی، اور وہ یہ کہ شب قدر کی صبح کو جب سورج نکلتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2777]
ترقیم فوادعبدالباقی: 762
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 762 ترقیم شاملہ: -- 2778
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَةَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ أُبَيٌّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ: " وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُهَا "، قَالَ شُعْبَةُ: " وَأَكْبَرُ عِلْمِي هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِيَامِهَا، هِيَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ "، وَإِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَرْفِ، هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَحَدَّثَنِي بِهَا صَاحِبٌ لِي عَنْهُ ".
شعبہ نے کہا: میں نے عبدہ بن ابی لبابہ سے سنا، وہ حضرت زر بن حبیش سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ کہا: حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے لیلۃ القدر کے بارے میں کہا: «واللہ! إني لأعلمها» ۔ شعبہ نے (روایت کے الفاظ بیان کرتے ہوئے) کہا: میرا غالب گمان ہے کہ یہ وہی رات ہے جس (پر پوری رات) کے قیام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا (اور) وہ ستائیسویں رات ہے۔ اس فقرے میں شعبہ نے شک کیا: ”یہ وہی رات ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا۔“ اور کہا: اس کے بارے میں مجھے میرے ایک ساتھی نے ان (عبدہ) کے حوالے سے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2778]
زر بن حبیش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے شبِ قدر کے بارے میں کہا: ”اللہ تعالیٰ کی قسم! میں اسے جانتا ہوں۔“ شعبہ کی روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا: ”مجھے زیادہ یقین (ظنِ غالب) اس بات پر ہے کہ یہی وہ رات ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کا حکم دیا اور یہ ستائیسویں رات ہے۔“ ان الفاظ میں شک شعبہ کو ہے کہ ”یہ وہی رات ہے جس کے قیام کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا“، شعبہ کہتے ہیں: ”یہ الفاظ میرے ایک ساتھی نے استاد سے نقل کیے تھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2778]
ترقیم فوادعبدالباقی: 762
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1170 ترقیم شاملہ: -- 2779
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ وَهُوَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَيُّكُمْ يَذْكُرُ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ، وَهُوَ مِثْلُ شِقِّ جَفْنَةٍ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہم نے آپس میں لیلۃ القدر کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کس کو یاد ہے جب چاند طلوع ہوا اور وہ پیالے کے ایک ٹکڑے کے مانند تھا (وہی رات تھی)؟“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2779]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہم نے لیلة القدر کا باہمی تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس کو یاد ہے کہ شبِ قدر اس رات میں ہے جس کی صبح چاند طشت کے ایک ٹکڑے کی طرح طلوع ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2779]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1170
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة