مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
594. من رخص في (ذلك) إذا عمل فيه بشيء
جو حضرات فرماتے ہیں اگر اس میں کچھ کام کر دے تو پھر اس کی اجازت ہے
ترقیم عوامۃ: 23763 ترقیم الشثری: -- 24839
٢٤٨٣٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حفص عن اشعث قال: سالت الشعبي والحكم عن الرجل (يكتري) (١) الإبل ثم يكريها باكثر مما استاجرها، قال: لا باس إذا عمل فيها بنفسه او اكترى فيها اجيرا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ح، ط]: (يكري).
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی اور حضرت حکم سے دریافت کیا کہ آدمی اونٹ کرایہ پر لے پھر اس سے زیادہ کرایہ پردے دے؟ فرمایا اگر اس نے خود اس میں کام کیا ہو یا اس میں اجیر کرایہ پر لیا ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24839]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24839، ترقيم محمد عوامة 23763)
ترقیم عوامۃ: 23764 ترقیم الشثری: -- 24840
٢٤٨٤٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن عبد الملك عن عطاء انه سئل عن رجل اكترى إبلا فاكراها باكثر من ذلك، قال: فتردد ساعة ثم قال: ما ارى به باسا في رايي.
حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص اونٹ کرایہ پر لے کر اس سے زیادہ کرایہ پردے دے؟ آپ ایک لمحہ خاموش رہے پھر فرمایا میرے خیال میں اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24840]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24840، ترقيم محمد عوامة 23764)
ترقیم عوامۃ: 23765 ترقیم الشثری: -- 24841
٢٤٨٤١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو داود عن زمعة عن ابن طاوس عن ابيه قال: لا باس إذا اكتريت بيتا ان تكريه باكثر من اجره.
حضرت طاؤس فرماتے ہیں اگر آپ گھر کرایہ پر لے کر اس سے زیادہ کرایہ پردے دیں تو کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24841]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24841، ترقيم محمد عوامة 23765)
ترقیم عوامۃ: 23766 ترقیم الشثری: -- 24842
٢٤٨٤٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو اسامة عن عوف عن هشام بن هبيرة انه كرهه إلا ان يستعمل، او يسكن في الدار، او يسكن (بعضها) (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (بعضا).
حضرت ہشام بن ہبیرہ اس کو ناپسند فرماتے تھے، الا یہ کہ اس میں کوئی کام کرے یا پھر خود بھی اس گھر میں یا اس کے کچھ حصہ رہائش اختیار کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24842]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24842، ترقيم محمد عوامة 23766)
ترقیم عوامۃ: 23767 ترقیم الشثری: -- 24843
٢٤٨٤٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن ابي (غنية) (١) عن ابيه عن الحكم قال: إذا استاجر الرجل الدار فاجر بعضها (واسكن) (٢) بعضها، قال: لا باس.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، جـ، ط]: (عيينه).
(٢) في [ط]: (أوسكن).
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ اگر گھر کرایہ پر لے کر پھر کچھ حصہ میں خود رہے اور کچھ کرایہ پردے دے تو کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24843]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24843، ترقيم محمد عوامة 23767)
ترقیم عوامۃ: 23768 ترقیم الشثری: -- 24844
٢٤٨٤٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن (حصين) (١) عن عامر انه كرهه إلا ان يصلح فيها شيئا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (حسين).
حضرت عامر اس کو ناپسند فرماتے ہیں مگر یہ کہ اس میں کام کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24844]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24844، ترقيم محمد عوامة 23768)
ترقیم عوامۃ: 23769 ترقیم الشثری: -- 24845
٢٤٨٤٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الربيع ومبارك وابو هلال عن الحسن (قال) (١) : لا باس ان يستاجر الرجل (الشيء) (٢) ثم (يؤجره) (٣) باكثر مما استاجره.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (قالا).
(٢) في [ع]: (البيت).
(٣) في [جـ، ز]: (يواجره).
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ آدمی کرایہ پر کوئی چیز لے کر اس سے زیادہ کرایہ پردے دے تو کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24845]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24845، ترقيم محمد عوامة 23769)
ترقیم عوامۃ: 23770 ترقیم الشثری: -- 24846
٢٤٨٤٦ - [حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ليث عن عطاء انه كان لا يرى باسا ان يستاجر الرجل البيت ثم (يؤاجره) (١) باكثر] (٢) مما (استاجره) (٣) به.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (يوجره).
(٢) سقط ما بين المعكوفين من [أ، ط، هـ].
(٣) في [جـ]: (استاجره).
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ آدمی کرایہ پر کوئی چیز لے کر اس سے زیادہ پر کرایہ پردے دے تو کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24846]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24846، ترقيم محمد عوامة 23770)
ترقیم عوامۃ: 23771 ترقیم الشثری: -- 24847
٢٤٨٤٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم قال: إذا (دفع) (١) إليه (زميل) (٢) او مر فواجره باكثر مما استاجره (به) (٣) فلا باس.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ، ط]: (رفع).
(٢) في [جـ]: (زميلًا)، والزميل والمر: من أدوات البناء.
(٣) في [أ، ح، جـ، ز]: زيادة (به).
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ اگر ہتھوڑے اور پھاؤڑے وغیرہ سے کوئی کام شروع کر دے تو پھر کرایہ سے زیادہ کرایہ پر دینے میں کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24847]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24847، ترقيم محمد عوامة 23771)
ترقیم عوامۃ: 23772 ترقیم الشثری: -- 24848
٢٤٨٤٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا إسحاق بن منصور عن محمد بن راشد عن مكحول انه كان لا يرى باسا ان (يؤاجر) (١) الاجير او الشيء باكثر مما استاجره.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح، هـ]: (يؤجر).
حضرت مکحول اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ اجیر یا کسی اور چیز کو زیادہ اجرت پر آگے دینا جائز ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24848]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24848، ترقيم محمد عوامة 23772)