🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. ما ذكر عن النبي ﷺ فيما نهى عنه من الظروف
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتنوں کی ممانعت کے بارے میں مروی احادیث
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24258 ترقیم الشثری: -- 25343
٢٥٣٤٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شبابة (قال: حدثنا) (١) شعبة عن (بكير) (٢) ابن عطاء عن عبد الرحمن بن يعمر قال: نهى رسول الله ﷺ عن الدباء والحنتم والمزفت (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (عن).
(٢) في [أ، ح، ط]: (بكر).
(٣) صحيح؛ وشعبة إمام، أخرجه ابن ماجه (٣٤٠٤)، والنسائي (٨/ ٣٠٥)، والترمذي في العلل (٢/ ٧٦١)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٩٥٦).

حضرت عبد الرحمان بن یعمر سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دُبائ، مزفّت اور حنتم سے منع فرمایا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25343]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25343، ترقيم محمد عوامة 24258)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24259 ترقیم الشثری: -- 25344
٢٥٣٤٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن مغيرة عن إبراهيم (١) ⦗٢٣٨⦘ عن عائشة (قالت) (٢) : نهى رسول الله ﷺ عن الدباء و (الحنتم) (٣) والمزفت و (قالت) (٤) : الحنتم جرار يجاء بها من (مصر) (٥) (يعمل) (٦) فيها الخمر (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (عن الأسود).
(٢) في [ز]: (قال).
(٣) في [ط]: (الحثم).
(٤) في [ط، هـ]: (قال).
(٥) في [ح]: (المصر).
(٦) في [ح، ز]: (يحمل).
(٧) منقطع؛ إبراهيم لا يروي عن عائشة، أخرجه أحمد في الأشربة (٥٦)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان (٢/ ٣)، وأصله عند البخاري (٥٩٩٥)، ومسلم (١٩٩٥).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دُبائ، حنتم اور مزفت سے نہی ارشاد فرمائی ہے۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حَنْتَمْ ایک گھڑا ہوتا تھا۔ جو مصر سے لایا جاتا تھا اور اس میں شراب بنائی جاتی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25344]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25344، ترقيم محمد عوامة 24259)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24260 ترقیم الشثری: -- 25345
٢٥٣٤٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن اشعث بن عمير العبدي عن ابيه قال: اتى النبي ﷺ وفد عبد القيس، فلما ارادوا الانصراف قالوا: قد حفظتم عن النبي ﷺ (١) كل شيء سمعتم منه، (فسلوه) (٢) عن النبيذ، فاتوه فقالوا: يا رسول الله: إنا بارض وخمة لا يصلحنا فيها إلا الشراب، قال: فقال:"وما شرابكم؟" (قالوا: النبيذ) (٣) ، قال:"في اي شيء (تشربونه) (٤) ؟" قالوا: في النقير، قال:"فلا تشربوا (في النقير"، قال: فخرجوا) (٥) فقالوا: والله لا يصالحنا (قومنا) (٦) على هذا، فرجعوا فسالوه، فقال لهم مثل ذلك، ثم عادوا فقال لهم:"لا تشربوا في النقير فيضرب منكم الرجل ابن عمه (ضربة) (٧) لا يزال منها اعرج إلى يوم ⦗٢٣٩⦘ القيامة"، قال: فضحكوا (قال) (٨) :"من اي شيء (تضحكون؟) (٩) " قالوا: يا رسول الله والذي بعثك بالحق لقد شربنا في نقير لنا فقام بعضنا إلى بعض، فضرب هذا ضربة عرج منها إلى يوم القيامة (١٠) (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: ﵇.
(٢) في [جـ]: (فاسالوه).
(٣) في [جـ]: تكررت: (قالوا النبيذ)، وفي [ز]: (فقالوا النبيذ).
(٤) في [أ، جـ، ح، ز]: (تشربوه).
(٥) سقط من: [ط]، وفي [هـ]: زيادة (من عنده).
(٦) في [ط]: (قومنك).
(٧) في [ط]: (خربة).
(٨) في [ط]: (قالوا).
(٩) في [ط]: (يضحكون).
(١٠) في [أ، ح، ط]: زيادة (منها).
(١١) مجهول، أشعث بن عمير مجهول، أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (١٦٥٧)، وأبو يعلى (٦٨٥١)، والطبراني (١٧ [١٢٢])، والبخاري في التاريخ (١/ ٤٢٨)، وابن الأثير في أسد الغابة (٤/ ٣٠٦)، وابن قانع (٢/ ٢٢٩).

حضرت اشعث بن عمیر عبدی، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عبد القیس کا وفد حاضر ہوا۔ پس جب انہوں نے واپس جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے (باہم) کہا۔ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ ساری چیزیں محفوظ کرلی ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تم نے سُنی ہیں۔ تو (اب) تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نبیذ کے بارے میں پوچھ لو؟ چناچہ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم ایک ناموافق زمین میں ہیں۔ جس میں ہمیں ایک خاص مشروب ہی موافق آتا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ تمہارا مشروب کیا ہے؟ انہوں نے کہا۔ نبیذ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ تم کس چیز (برتن) میں اس کو پیتے ہو؟ ان لوگوں نے کہا نقیر میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ تم نقیر میں نبیذ نہ پیو۔ راوی کہتے ہیں۔ پس یہ لوگ باہر نکل آئے اور انہوں (ایک دوسرے سے) کہا۔ خدا کی قسم! ہماری قوم اس بات پر تو ہمارے ساتھ مصالحت نہیں کرے گی۔ چناچہ یہ لوگ واپس پلٹے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال دوبارہ پوچھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں پہلے کی طرف ہی جواب دیا۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر سوال دوہرایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا: نقیر میں نبیذ نہ پیو کہ (کہیں ایسا نہ ہو) تم میں سے کوئی یہ نقیر اپنے چچا زاد کو دے مارے اور وہ بیچارہ قیامت کے دن تک لنگڑا ہی ہوجائے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر وہ لوگ ہنس پڑے۔ آپ نے پوچھا۔ تم کس بات پر ہنس رہے ہو؟۔ انہوں نے عرض کیا۔ قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ واقعۃً ہم نے اپنے ایک نقیر میں نبیذ پی تھی۔ پھر ہم میں سے کوئی کھڑا ہوا اور اس نے یہ نقیر کسی کو دے مارا اور وہ شخص اس ضرب کی وجہ سے تاقیامت لنگڑا ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25345]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25345، ترقيم محمد عوامة 24260)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24261 ترقیم الشثری: -- 25346
٢٥٣٤٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا سليمان التيمي عن اسماء بنت يزيد عن ابن عم لها (يقال) (١) له انس: انه سمع ابن عباس (يقول) (٢) : الم يقل الله (تعالى) (٣) : ﴿ (و) (٤) ما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا﴾ [الحشر: ٧] ، قالوا: بلى، قال: الم يقل الله تعالى: ﴿وما كان لمؤمن ولا مؤمنة إذا قضى الله ورسوله امرا (ان يكون لهم الخيرة من امرهم) (٥)[الاحزاب: ٣٦] الآية، قال: فاشهد على رسول الله ﷺ انه (نهى) (٦) عن نبيذ النقير والمزفت والدباء والحنتم (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (فقال).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) سقط من: [جـ، ز].
(٤) في [جـ، ز]: زيادة (و).
(٥) سقط من: [أ، جـ، ح، ز].
(٦) سقط من: [ز].
(٧) مجهول؛ لجهالة أسماء بنت يزيد وابن عمها أنس، أخرجه النسائي في الكبرى (٥١٥٤)، والبخاري في التاريخ ٢/ ٣١.

حضرت اسماء بنت یزید، اپنے چچا زاد (جن کو انس کہا جاتا تھا) سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سُنا کہ کیا یہ فرمان خداوندی نہیں ہے۔: اور رسول تمہیں جو کچھ دیں وہ لے لو اور جس چیز سے منع کریں اس سے رُ ک جاؤ؟ لوگوں نے کہا۔ کیوں نہیں۔ پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا۔ کیا یہ کلام خداوندی نہیں ہے۔ اور جب اللہ اور رسول کسی بات کی حتمی فیصلہ کردیں تو نہ کسی مؤمن مرد کے لئے یہ گنجائش ہے۔ نہ کسی مؤمن عورت کے لئے۔؟ پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گواہی دے کر یہ بات کہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نقیر، مزفت، دُباء اور حنتم کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25346]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25346، ترقيم محمد عوامة 24261)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24262 ترقیم الشثری: -- 25347
٢٥٣٤٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن ابي (شمر) (١) الضبعي قال: سمعت عائذ بن عمرو ينهى عن الحنتم والدباء والمزفت والنقير، قال: فقلت له عن النبي ﷺ (٢) ؟ (فقال) (٣) : (نعم) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح]: (شمرا).
(٢) في [ز]: (سقط).
(٣) في [جـ، ز]: (قال).
(٤) حسن؛ أبو شمر صدوق، أخرجه أحمد (٢٠٦٣٨)، والطيالسي (١٢٩٧)، والطحاوي ٤/ ٢٢٦، والطبراني ١٨/ (٢٩)، والروياني (٧٧٥).

حضرت ابو شمر الضبعی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے عائذ بن عمرو کو حنتم دُبائ مزفت اور نقیر سے منع کرتے ہوئے سُنا۔ ابو شمر کہتے ہیں۔ میں نے عائذ سے پوچھا۔ یہ حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہاں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25347]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25347، ترقيم محمد عوامة 24262)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24263 ترقیم الشثری: -- 25348
٢٥٣٤٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد (بن) (١) مصعب عن الاوزاعي عن يحيى عن ابي سلمة عن ابي هريرة قال: نهى رسول الله ﷺ عن نبيذ الجر والدباء والمزفت، وعن الظروف كلها (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: سقط.
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٠٩٧١)، وابن ماجه (٣٤٠٨)، والنسائي ٨/ ٣٠٦، وابن حبان (٥٤٠٤)، والطحاوي ٤/ ٢٢٦، وأصله عند مسلم (١٩٩٣).

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھڑے، دباء مزفت اور تمام برتنوں کی نبیذ سے منع فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25348]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25348، ترقيم محمد عوامة 24263)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24264 ترقیم الشثری: -- 25349
٢٥٣٤٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا عبد الواحد بن زياد عن عاصم الاحول عن فضيل بن زيد قال: كنا عند عبد الله بن (مغفل) (١) فتذاكرنا الشراب فقال: الخمر حرام، فقلت: الخمر حرام في كتاب الله، قال: فاي شيء تريد؟ (تريد ما) (٢) (سمعته) (٣) (من) (٤) رسول الله ﷺ؟ سمعت رسول الله ⦗٢٤١⦘ ﷺ ينهى عن الدباء والحنتم والمزفت (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (معقل).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [جـ، ز]: (سمعت).
(٤) سقط من: [ز].
(٥) صحيح؛ فضيل ثقة، أخرجه أحمد (١٦٨٠٧)، والطيالسي (٩١٨)، والدارمي (٢١١٢)، والطبراني في الأوسط (٥٢٧٦)، والروياني (٨٨١).

حضرت فضیل بن عیاض سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ہم عبد اللہ بن مغفل کے پاس تھے کہ ہم نے ایک دوسرے سے شراب کا ذکر کیا۔ اس پر حضرت عبد اللہ نے فرمایا۔ شراب حرام ہے۔ میں نے پوچھا۔ شراب کی حرمت کتاب اللہ میں ہے۔ تو حضرت عبد اللہ نے فرمایا۔ تم کیا بات چاہتے ہو؟ جو بات میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سُنی ہے تم وہ چاہتے ہو؟ (تو) میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سُنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دبائ، حنتم اور مزفت سے منع فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25349]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25349، ترقيم محمد عوامة 24264)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24265 ترقیم الشثری: -- 25350
٢٥٣٥٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا احمد بن إسحاق قال: حدثنا عبد الواحد بن زياد قال: حدثنا كليب بن وائل قال: (حدثتني) (١) (ربيبة) (٢) النبي ﷺ (٣) احسبها زينب قالت: نهى رسول الله ﷺ عن الدباء والحنتم، و (ارى) (٤) فيه النقير (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (حدثني).
(٢) في [ز]: (ربيب).
(٣) سقط من: [ز].
(٤) في [أ، ح، ز]: (أدا).
(٥) حسن؛ كليب بن وائل صدوق، والحديث أخرجه البخاري (٣٤٩٢)، والطبراني (٢٤ [٧١٦])، والبيهقي في دلائل النبوة (١/ ١٧٣)، والمزي (٢٤/ ٢١٥).

حضرت کلیب بن وائل بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مجھے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیر تربیت بچی… میرے خیال میں زینب مراد تھی …نے بیان کیا۔ وہ فرماتی ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دبائ، اور حنتم سے منع فرمایا۔ (راوی کہتے ہیں) میرے خیال میں اس میں نقیر کا بھی ذکر تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25350]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25350، ترقيم محمد عوامة 24265)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24266 ترقیم الشثری: -- 25351
٢٥٣٥١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابي فروة عن عبد الرحمن بن ابي ليلى انه كره المزفت، وقال (١) : لان اشرب بول حمار احب إلي من ان اشرب في مزفت.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: زيادة (قال).
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ مزفّت، برتن، کو ناپسندسمجھتے تھے۔ اور کہتے تھے۔ مجھے مزفت۔ میں کچھ پینے سے زیادہ یہ بات محبوب ہے کہ میں گدھے کا پیشاب پیوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25351]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25351، ترقيم محمد عوامة 24266)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24267 ترقیم الشثری: -- 25352
٢٥٣٥٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع (١) عن ابي هارون العبدي عن ابي سعيد الخدري قال: نهى رسول الله ﷺ عن المزفت (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) يظهر أن في النسخ نقصًا، لبعد زمانيهما، وفي الروايات الأخرى يقع بين وكيع وأبي هارون راوٍ كسفيان الثوري أو الحسن بن صالح.
(٢) ضعيف جدًا؛ أبو هارون متروك، أخرجه عبد الرزاق (١٦٩٣٠).

حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزفّت۔ برتن سے منع فرمایا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25352]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25352، ترقيم محمد عوامة 24267)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں