🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

39. من كان إذا شرب ماء بدأ بالأيمن
جو آدمی پانی پیئے تو وہ دائیں طرف سے آغاز کرے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24672 ترقیم الشثری: -- 25767
٢٥٧٦٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن الشيباني عن غيلان ابن يزيد قال: دعي ابو عبيدة إلى وليمة، فاتي بشراب، فناول من (على) (١) يمينه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عن).
حضرت غیلان بن یزید سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ کو ایک ولیمہ میں مدعو کیا گیا۔ تو ان کے پاس مشروب حاضر کیا گیا۔ پس آپ نے وہ مشروب اپنے دائیں جانب والے کو دے دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25767]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25767، ترقيم محمد عوامة 24672)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24673 ترقیم الشثری: -- 25768
٢٥٧٦٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو اسامة قال: اخبرني شعبة عن عمارة بن ابي حفصة عن عكرمة قال: اتي عمر بشراب وهو بالموقف عشية عرفة، فشرب ثم ناول سيد اهل اليمن وهو عن يمينه، قال: إني صائم، قال: عزمت عليك إلا افطرت وامرت اصحابك (ان يفطروا) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ز]: (فافطروا).
(٢) منقطع؛ عكرمة لا يروي عن عمر.

حضرت عکرمہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس ایک مشروب لایا گیا جبکہ آپ عرفہ کی رات کو موقف میں تھے۔ پس آپ نے وہ مشروب پیا پھر آپ نے وہ مشروب اہل یمن کے سردار کو دے دیا اور یہ آپ کے دائیں جانب تھے۔ اس سردار نے کہا۔ میں روزہ دار ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا: میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم خود بھی روزہ توڑو اور اپنے ساتھیوں کو بھی حکم دو کہ وہ روزہ افطار کریں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25768]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25768، ترقيم محمد عوامة 24673)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24674 ترقیم الشثری: -- 25769
٢٥٧٦٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري سمعه من انس قال: قدم النبي ﷺ (المدينة) (١) وانا ابن عشر، وتوفي ﷺ وانا ابن عشرين، وكن امهاتي ⦗٣٤٨⦘ يحثثنني على خدمته، فدخل علينا دارنا فحلبنا له من شاة داجن لنا، وشيب له من بئر في الدار، وابو بكر عن شماله واعرابي عن يمينه، وكان عمر ناحية، فقال عمر: يا رسول الله! اعط ابا بكر، فاعطى الاعرابي وقال: الايمن فالايمن (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ط].
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٣٥٢، ٥٦١٩)، ومسلم (٢٠٢٩).

حضرت زہری سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس کو کہتے سُنا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا۔ اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں بیس برس کا تھا۔ اور میری مائیں مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس ہمارے گھر میں تشریف لائے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اپنی ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور اس میں اپنے گھر کے کنویں کے پانی کی آمیزش کی۔ حضرت ابوبکر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بائیں طرف تھے اور ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں طرف تھا۔ اور حضرت عمر، ایک طرف تھے۔ چناچہ حضرت عمر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! حضرت ابوبکر کو دے دیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیہاتی کو دے دیا اور ارشاد فرمایا دائیں طرف والا، پھر دائیں طرف والا، (یعنی یہ حق دار ہے۔) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25769]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25769، ترقيم محمد عوامة 24674)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں