🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

54. ما يقول الرجل إذا لبس الثوب الجديد
جب آدمی نیا کپڑا پہنے تو کیا کہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25595 ترقیم الشثری: -- 26718
٢٦٧١٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن ابي ليلى عن اخيه عيسى عن عبد الرحمن بن ابي ليلى قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا لبس احدكم ثوبا جديدا فليقل: الحمد لله الذي كساني ما اواري به عورتي، واتجمل به في الناس" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل ضعيف؛ ابن أبي ليلى هو محمد سيئ الحفظ، ووالده عبد الرحمن تابعي، أخرجه ابن سعد ١/ ٤٦٠.
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے۔ و ہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نیا کپڑا پہنے تو اس کو یہ کہنا چاہیے۔:: تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے وہ (کپڑا) پہنایا جس کے ذریعہ میں اپنے ستر کو چھپاتا ہوں اور جس کے ذریعہ میں لوگوں میں جمال حاصل کرتا ہوں۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26718]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26718، ترقيم محمد عوامة 25595)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25596 ترقیم الشثری: -- 26719
٢٦٧١٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا اصبغ بن زيد قال: حدثنا ابو العلاء عن ابي امامة قال: لبس عمر بن الخطاب ثوبا جديدا فقال: ⦗٥٤⦘ الحمد لله الذي كساني ما اواري به عورتي، واتجمل به في حياتي، ثم قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"من لبس ثوبا جديدا فقال: الحمد لله الذي كساني ما اواري به عورتي، واتجمل به في حياتي، ثم (عمد) (١) إلى الثوب الذي (اخلق) (٢) او قال: القى فتصدق به كان في كنف الله وفي حفظ الله وفي ستر الله حيا وميتا"، قالها: ثلاثا (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (عهد).
(٢) في [أ، ح، ط]: (خلق).
(٣) مجهول؛ لجهالة أبي العلاء، أخرجه أحمد (٣٠٥)، والترمذي (٣٥٦٠)، وابن ماجه (٣٥٥٧)، والحاكم ٤/ ١٩٣، والطبراني في الدعاء (٣٩٣)، والمزني ٣٤/ ١٥٧، وابن المبارك في مسنده (٢٢)، وعبد بن حميد (١٨)، والبيهقي في الشعب (٦٢٨٧)، وهناد في الزهد (٦٥٦)، وابن السني في عمل اليوم والليلة (٢٧٢)، وابن أبي الدنيا في الشكر (٧٥).

حضرت ابو امامہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے ایک نیا کپڑا پہنا، تو فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے وہ کپڑا پہنایا جس کے ذریعہ میں اپنے ستر کو چھپاتا ہوں اور جس کے ذریعہ میں اپنی زندگی میں جمال حاصل کرتا ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا: میں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے سُنا: ”جو شخص نیا کپڑا پہنے اور یہ کہے: الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی کَسَانِی مَا أُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی، وَأُجَمِّلُ بِہِ فِی حَیَاتِی، پھر وہ اپنے پرانے، اتارے ہوئے کپڑے کو لے اور اس کو صدقہ کر دے تو یہ شخص اللہ کی رحمت، حفاظت اور پردہ میں رہے گا۔ زندگی میں بی اور موت کے بعد بھی“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ کہی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26719]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26719، ترقيم محمد عوامة 25596)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25597 ترقیم الشثری: -- 26720
٢٦٧٢٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الله بن إدريس عن ابي الاشهب عن رجل من (مزينة) (١) ان رسول الله ﷺ راى على عمر ثوبا غسيلا فقال:"اجديد ثوبك هذا؟" قال: غسيل يا رسول الله قال: فقال له رسول الله ﷺ:"البس جديدا، وعش حميدا، وتوف شهيدا، يعطك الله قرة عين في الدنيا والآخرة" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح، ط]: (رمنة).
(٢) منقطع؛ أبو الأشهب لا يروي عن أحد من الصحابة، أخرجه ابن سعد ٣/ ٣٢٩، والدولابي في الكنى ١/ ١٠٩، وبنحوه البخاري في الأوسط ٢/ ٣٨.

قبیلہ مزینہ کا ایک شخص بیان کرتا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر پر دھلا ہوا ایک کپڑا دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ”کیا تمہارا یہ کپڑا نیا ہے؟“ حضرت عمر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! دُھلا ہوا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر سے فرمایا: ”تم نیا کپڑا پہنو اور قابل تعریف زندگی گزارو اور شہادت کی موت پاؤ، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں تمہیں آنکھ کی ٹھنڈک عطا کریں۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26720]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26720، ترقيم محمد عوامة 25597)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25598 ترقیم الشثری: -- 26721
٢٦٧٢١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حسين (بن) (١) علي عن ابي وهب عن منصور عن (٢) سالم بن ابي الجعد قال: إذا لبس الإنسان (الثوب) (٣) ⦗٥٥⦘ (الجديد) (٤) فقال: اللهم (اجعلها) (٥) ثيابا مباركة، نشكر فيها نعمتك، ونحسن فيها عبادتك، ونعمل فيها بطاعتك، لم يجاوز (ترقوته) (٦) حتى يغفر له.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عن).
(٢) في [ز]: زيادة (أبي).
(٣) في [جـ، ز]: زيادة (الثوب).
(٤) سقط من: [ز].
(٥) في [ح]: (اجعلنا).
(٦) في [ز]: (ترقيته).

حضرت سالم بن ابی الجعد سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی نیا کپڑا پہنے اور پھر کہے۔ اے اللہ! تو اس کپڑے کو مبارک بنا دے ہم اس میں تیری نعمت کا شکر کریں اور اس میں تیری اچھی طرح عبادت کریں اور اس میں تیری اطاعت کریں۔ تو یہ کپڑا گلے سے نیچے نہیں اترتا یہاں تک کہ اس آدمی کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26721]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26721، ترقيم محمد عوامة 25598)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25599 ترقیم الشثری: -- 26722
٢٦٧٢٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن علية عن الجريري (عن) (١) ابي نضرة قال: كان اصحاب النبي ﷺ إذا راوا على احدهم الثوب الجديد قالوا: تبلي ويخلف الله (عليك) (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط في: [ز].
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) صحيح.

حضرت ابو نضرہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ جب خود میں سے کسی پر نیا کپڑا دیکھتے تو یہ کہتے۔ تُبْلِی، وَیُخْلِفُ اللَّہُ عَلَیْک۔ (تم اس کپڑے کو پرانا کرو اور اللہ تمہیں اس کے بعد اور عطا کرے)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26722]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26722، ترقيم محمد عوامة 25599)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25600 ترقیم الشثری: -- 26723
٢٦٧٢٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (ابن علية عن) (١) الجريري عن ابي نضرة قال: إنما نعيش في (الخلف) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين القوسين من: [أ، ح، هـ].
(٢) في [ط، هـ]: (الخلق).

حضرت ابو نضرہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم تو پرانے کپڑے میں زندگی گزارتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26723]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26723، ترقيم محمد عوامة 25600)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25601 ترقیم الشثری: -- 26724
٢٦٧٢٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر قال: حدثنا عون بن عبد الله قال: لبس رجل ثوبا جديدا، فحمد الله فادخل الجنة او غفر له قال: فقال رجل: لا ارجع إلى اهلي حتى البس ثوبا جديدا واحمد الله عليه.
حضرت عون بن عبد اللہ بیان کرتے ہں ا۔ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے نیا کپڑا پہنا اور اللہ تعالیٰ کی تعریف کی تو اس کو جنت میں داخل کردیا گیا…یا فرمایا …اس کی مغفرت کردی گئی۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر ایک آدمی نے کہا میں اپنے گھر والوں کی طرف واپس نہیں جاؤں گا یہاں تک کہ میں نیا کپڑا پہن لوں اور اس پر اللہ کی تعریف کرلوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26724]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26724، ترقيم محمد عوامة 25601)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں