🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

52. في الرجل يجلس إلى الرجل قبل أن يستأذنه
اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے پاس اجازت لینے سے قبل ہی بیٹھ جائے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26178 ترقیم الشثری: -- 27323
٢٧٣٢٣ - حدثنا حفص بن غياث عن اشعث عن ابي بردة قال: دخلت مسجد المدينة فإذا عبد الله بن سلام، فسلمت ثم جلست، فقال: يا ابن اخي إنك جلست (إلينا) (١) ونحن نريد القيام (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) (إلينا) زيادة من: [جـ، ز].
(٢) ضعيف؛ لضعف أشعث بن سوّار.

حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ کی مسجد میں داخل ہوا تو حضرت عبد اللہ بن سلام بیٹھے ہوئے تھے، تو میں نے سلام کیا پھر میں بیٹھ گیا۔ اس پر آپ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! تم بیٹھ گئے اور ہمارا تو اٹھنے کا ارادہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27323]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27323، ترقيم محمد عوامة 26178)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26179 ترقیم الشثری: -- 27324
٢٧٣٢٤ - حدثنا ابن علية عن اشعث قال: حدثني رجل ان رجلا جلس إلى الحسن فقال له: جلست (إلينا) (١) على حين قيام منا افتاذن.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (وإلينا).
حضرت اشعث ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت حسن کے پاس بیٹھ گیا، تو آپ نے اس سے کہا: تم ہمارے اٹھنے کے وقت ہمارے پاس بیٹھ گئے ہو، تمہاری طرف سے اجازت ہے! اٹھنے کی؟ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27324]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27324، ترقيم محمد عوامة 26179)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26180 ترقیم الشثری: -- 27325
٢٧٣٢٥ - (حدثنا) (١) وكيع عن عمران عن ابي مجلز قال: إذا جلس إليك رجل متعمدا فلا تقم حتى (تستاذنه) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [ط]: (تستأذن)، وفي [هـ]: (تساذنه).

حضرت عمران فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مجلز نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص قصداً تمہارے پاس بیٹھے تو تم اس سے اجازت لینے سے پہلے مت اٹھو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27325]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27325، ترقيم محمد عوامة 26180)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26181 ترقیم الشثری: -- 27326
٢٧٣٢٦ - حدثنا وكيع عن ابيه عن رجل عن إبراهيم مثله.
حضرت ابراہیم سے مذکورہ ارشاد اسی سند سے منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27326]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27326، ترقيم محمد عوامة 26181)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26182 ترقیم الشثری: -- 27327
٢٧٣٢٧ - حدثنا عباد بن العوام عن ابي حنيفة عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن انس بن مالك قال: ما جلس إلى رسول الله ﷺ احد (قط) (١) فقام حتى يقوم (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ز]: زيادة (قط).
(٢) حسن؛ أخرجه أبو نعيم في مسند أبي حنيفة (ص ٥١)، وابن عدي (٥/ ٣١٨)، وابن عساكر (٤/ ٥٥)، وأبو الشيخ في أخلاق النبي (٣٨)، وبنحوه أخرجه الترمذي (٢٤٩٠)، وابن ماجه (١٧١٦)، وابن سعد (١/ ٣٧٨)، والضياء (٢٠٥٠)، وأبو يعلى (٣٩٨٢)، والبغوي في التفسير (٤/ ٣٧٦)، والبيهقي في الدلائل (١/ ٣٢٠)، والسنن (١٠/ ١٩٢)، وابن المبارك في الزهد (٣٩٢)، وابن أبي الدنيا في التواضع (١٢٢).

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کوئی بھی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہیں بیٹھا یہاں تک کہ وہ کھڑا ہوتا تو آپ کھڑے ہوتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27327]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27327، ترقيم محمد عوامة 26182)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26183 ترقیم الشثری: -- 27328
٢٧٣٢٨ - حدثنا ازهر عن ابن عون عن محمد قال: كان لا يرى باسا إذا جلس الرجل إلى الرجل ان يقوم ولا يستاذنه.
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت محمد اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ جب کوئی آدمی کسی آدمی کے پاس بیٹھے تو وہ بغیر اجازت کے کھڑا ہوجائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27328]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27328، ترقيم محمد عوامة 26183)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26184 ترقیم الشثری: -- 27329
٢٧٣٢٩ - حدثنا وكيع عن موسى بن نافع قال: قعدت إلى سعيد بن جبير فلما اراد ان يقوم قال: اتاذنون؟ إنكم جلستم إلي.
حضرت موسیٰ بن نافع فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر کے پاس بیٹھا ہوا تھا جب آپ نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو فرمایا: تم لوگ میرے پاس بیٹھے ہوئے ہو، کیا تمہاری اجازت ہے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27329]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27329، ترقيم محمد عوامة 26184)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں