🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

156. في تعظيم دم المؤمن
مومن کے خون کے عزت و احترام کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28327 ترقیم الشثری: -- 29568
٢٩٥٦٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان، عن مجالد، عن الشعبي، عن ابن عباس انه نظر إلى الكعبة فقال: ما اعظم حرمتك وما اعظم حقك، و (المسلم) (١) اعظم حرمة منك، حرم الله ماله، وحرم دمه، وحرم عرضه واذاه، وان يظن به ظن سوء (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، جـ، م]: (للمسلم).
(٢) ضعيف؛ لضعف مجالد بن سعيد.

حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کعبۃ اللہ کی طرف نظر دوڑائی اور ارشاد فرمایا: تیری عزت و حرمت بہت زیادہ ہے اور تیرا حق بہت زیادہ اور یقینا مسلمان حرمت و عزت میں تجھ سے بڑھا ہوا ہے اللہ رب العزت نے اس کا مال حرام کردیا اور اس کو تکلیف پہنچانا حرام کردیا اور یہ کہ اسکے متعلق براخیال رکھا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29568]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29568، ترقيم محمد عوامة 28327)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28328 ترقیم الشثری: -- 29569
٢٩٥٦٩ - [حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع، حدثنا سفيان عن يعلى بن عطاء، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو قال: قتل المؤمن اعظم عند الله ⦗٢٣٣⦘ من زوال الدنيا] (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) صحيح؛ أخرجه النسائي (٣٤٥١)، والبيهقني ٨/ ٢٢، وورد مرفوعًا أخرجه النسائي (٣٤٤٩)، والترمذي (١٣٩٥)، والطبراني في الأوسط (٤٣٤٩)، والبزار (٢٣٩٣)، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ٢٧٠، والبيهقي ٨/ ٢٢، والخطيب ٥/ ٢٩٦، وابن عساكر ٥٣/ ١٤٣، وابن أبي عاصم في الزهد (١٣٧) والديات ص ٢.

حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے ارشاد فرمایا: مومن کو قتل کرنا اللہ کے نزدیک دنیا کے ختم ہونے سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29569]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29569، ترقيم محمد عوامة 28328)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28329 ترقیم الشثری: -- 29570
٢٩٥٧٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان (عن خصيف) (١) عن مجاهد عن ابن عباس ﴿فكانما قتل الناس جميعا﴾ قال: من اوبقها، ﴿ومن احياها فكانما احيا الناس جميعا﴾ [المائدة: ٣٢] ، قال: من كف عن قتلها (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) ضعيف؛ لضعف خصيف.

حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے { فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا } ترجمہ:۔ گویا کہ اس نے پوری انسانیت کو قتل کردیا۔ آپ نے فرمایا: جس نے اس کو ہلاک کردیا۔ { وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا } اور جس نے اسے زندہ رکھا گویا وہ پوری انسانیت کو قتل کرنے سے رک گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29570]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29570، ترقيم محمد عوامة 28329)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28330 ترقیم الشثری: -- 29571
٢٩٥٧١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور عن مجاهد ﴿ومن احياها﴾ قال: [من انجاها من غرق او حرق فقد احياها.
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے { وَمَنْ أَحْیَاہَا } کا یوں معنی بیان کیا کہ جس نے اس کو ڈوبنے یا جلنے سے بچایا تحقیق اس نے اسے زندہ کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29571]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29571، ترقيم محمد عوامة 28330)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28331 ترقیم الشثری: -- 29572
٢٩٥٧٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (العلاء) (١) بن عبد الكريم قال: سمعت مجاهدا يقول: ﴿ومن احياها] (٢) فكانما احيا الناس جميعا﴾، قال: من كف عن قتلها فقد احياها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (العلي).
(٢) سقط من: [ك].

حضرت علاء بن عبدالکریم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد کو اس آیت کا معنی یوں بیان فرماتے ہوئے سنا؟ { وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا } ترجمہ:۔ اور جس نے اسے زندگی بخشی گویا اس نے پوری انسانیت کو زندگی بخشی۔ یعنی جو شخص اس کے قتل سے رک گیا تحقیق اس نے اسے زندہ کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29572]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29572، ترقيم محمد عوامة 28331)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28332 ترقیم الشثری: -- 29573
٢٩٥٧٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن ابي المقدام عن (حبة) (١) بن جوين الحضرمي عن علي: ﴿ربنا (ارنا) (٢) اللذين اضلانا من الجن ⦗٢٣٤⦘ والإنس﴾ [فصلت: ٢٩] ، ابن آدم الذي قتل اخاه وإبليس، [الابالس (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (حية).
(٢) سقط من: [أ].
(٣) ضعيف؛ لضعف حبة بن جوين.

حضرت حبہ بن جو ین حضرمی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آیت! اے ہمارے رب! دکھا تو ہمیں وہ دونوں گروہ جنہوں نے گمراہ کیا ہے ہمیں جنوں اور انسانوں کو کا معنی یوں بیان کیا کہ مراد آدم کا بیٹا ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کردیا اور شیطانوں کا سردار مراد ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29573]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29573، ترقيم محمد عوامة 28332)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28333 ترقیم الشثری: -- 29574
٢٩٥٧٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن سلمة بن كهيل عن مالك بن حصين عن ابيه عن علي قال: ابن آدم الذي قتل اخاه وإبليس] (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ط، هـ].
(٢) مجهول؛ لجهالة مالك بن حصين، أخرجه الطبري ٢/ ١١٣، وعبد الرزاق في التفسير ٣/ ١٨٦، والحاكم ٢/ ٣٤١، وابن عساكر ٤٩/ ٤٧.

حضرت حصین فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: مراد آدم کا بیٹا ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا اور شیطان ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29574]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29574، ترقيم محمد عوامة 28333)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28334 ترقیم الشثری: -- 29575
٢٩٥٧٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن عبد الله بن مرة عن مسروق عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تقتل نفس ظلما إلا كان على ابن آدم الاول كفل من دمها؛ لانه اول من سن القتل" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٣٥)، ومسلم (١٦٧٧).
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی بھی نفس کو ظلماً قتل نہیں کیا جاتا مگر آدم کے پہلے بیٹے پر اس کے خون کے گناہ کا بوجھ ہوتا ہے اس لیے کہ اس نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ جاری کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29575]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29575، ترقيم محمد عوامة 28334)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28335 ترقیم الشثری: -- 29576
٢٩٥٧٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الحسن بن صالح عن إبراهيم (بن مهاجر عن إبراهيم) (١) قال: ما من نفس تقتل ظلما إلا كان على ابن آدم الاول والشيطان كفل منها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
حضرت ابراہیم بن مہاجر فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا کسی بھی نفس کو ظلماً قتل نہیں کیا جاتا مگر یہ کہ آدم کے پہلے بیٹے اور شیطان پر اس کے گناہ کا بوجھ ہوتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29576]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29576، ترقيم محمد عوامة 28335)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28336 ترقیم الشثری: -- 29577
٢٩٥٧٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) سفيان عن ليث عن مجاهد: ﴿ظهر الفساد في البر والبحر بما كسبت ايدى الناس﴾ [الروم: ٤١] ، قال: في البر ابن آدم الذي قتل اخاه، وفي البحر الذي كان ياخذ كل سفينة غصبا

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ط].
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے قرآن کی اس آیت کی تفسیر یوں بیان فرمائی: ترجمہ: فساد برپا ہوگیا خشکی اور تری میں بسبب اس کے جو کماتے ہیں ہاتھ انسانوں کے آپ نے فرمایا: خشکی میں آدم کا بیٹا مراد ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کردیا اور سمندر میں مراد وہ بادشاہ ہے جو ہر کشتی کو غصب کرلیتا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29577]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29577، ترقيم محمد عوامة 28336)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں