🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

167. ما جاء في القسامة
ان روایات کابیان جو قسامت کے بارے میں آئی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 29627
٢٩٦٢٧ - حدثنا ابو محمد عبد الله بن يونس قال: حدثنا ابو عبد الرحمن بقي بن مخلد قال: حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الاعلى بن عبد الاعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب ان القسامة كانت في الجاهلية، فاقرها النبي ﷺ (١) في ⦗٢٤٦⦘ قتيل من الانصار وجد في (جب) (٢) (لليهود) (٣) قال: فبدا رسول الله ﷺ باليهود فكلفهم قسامة خمسين، فقالت اليهود: لن (نحلف) (٤) (٥) فقال رسول الله ﷺ للانصار:" (افتحلفون) (٦) فابت الانصار ان تحلف"، فاغرم رسول الله ﷺ اليهود (ديته) (٧) ؛ لانه قتل بين اظهرهم (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك، م]: ﵇.
(٢) في [جـ]: (بيت).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (اليهود).
(٤) في [ب]: (يحلف).
(٥) في [ك]: زيادة (ما غرم).
(٦) في [ب]: (فتحلفون).
(٧) في [ك]: (بديته).
(٨) مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي، أخرجه النسائي (٦٩١٢)، وعبد الرزاق (١٨٢٥٢)، والطحاوي في شرح المشكل (٤٥٧٩).

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29627، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28384 ترقیم الشثری: -- 29628
٢٩٦٢٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري قال: دعاني عمر بن عبد العزيز فسالني عن القسامة فقال: قد بدا لي ان اردها، إن الاعرابي يشهد والرجل الغائب يجيء فيشهد، فقلت: يا امير المؤمنين، إنك لن تستطيع ردها، قضى بها رسول الله ﷺ والخلفاء بعده (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ الزهري تابعي، أخرجه أحمد (٢٣٦٦٨)، وعبد الرزاق (١٨٢٧٩)، وانظر: ما قبله وما بعده.
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ حضرت زہری نے ارشاد فرمایا: کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مجھے بلا کر مجھ سے قسامت کے شرعی حکم کے متعلق سوال کیا؟ تو آپ نے فرمایا: تحقیق میرے لیے یہ بات ظاہر ہوئی کہ میں اس کو رد کردوں اس لیے کہ دیہاتی گواہی دیتا ہے اور غائب آدمی آتا ہے پس گواہی دے دیتا ہے میں نے کہا: اے امیرالمومنین! آپ اس کو رد نہیں کرسکتے اس لیے کہ رسو ل اللہ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد خلفاء راشدین نے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29628]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29628، ترقيم محمد عوامة 28384)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28385 ترقیم الشثری: -- 29629
٢٩٦٢٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سعيد عن قتادة ان سليمان بن يسار (حدث) (١) ان عمر بن عبد العزيز قال: ما رايت مثل القسامة قط اقيد بها والله يقول: ﴿واشهدوا ذوي عدل منكم﴾ [الطلاق: ٢] ، وقالت الاسباط: ﴿وما شهدنا إلا بما علمنا وما كنا للغيب حافظين﴾ [يوسف: ٨١] ، وقال الله: ﴿إلا من شهد بالحق وهم يعلمون﴾ [الزخرف: ٨٦] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (حدثه).
حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ارشاد فرمایا: میں نے کبھی قسامت جیسا قانون نہیں دیکھا جس کے ذریعہ میں قصاص لے لوں اللہ رب العزت فرماتے ہیں۔ ترجمہ:۔ اور گواہی دیں تم میں سے دو عادل شخص اور فرمایا ترجمہ:۔ اور ہم بیان نہیں کر رہے مگر وہ جو ہم جانتے ہیں اور ہم غیب کی باتوں کے نگہبان نہیں ہیں۔ اور اللہ رب العزت نے فرمایا: مگر جو شہادت دے حق کی اور وہ جانتے بھی ہوں۔ حضرت سلیمان بن یسار نے فرمایا: قسامت برحق ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا فیصلہ فرمایا اس درمیان کہ انصار کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ان میں سے ایک آدمی چلا گیا پھر وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے چلے گئے پس ان لوگوں نے اپنے ساتھی کو خون میں لت پت پایا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس لوٹے اور کہنے لگے، یہود نے ہمیں مار دیا اور انہوں نے یہود میں سے ایک آدمی کا نام لیا حالانکہ ان کے پاس شہادت نہیں تھی پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہارے علاوہ دو گواہ گواہی دے دیں تو میں اس شخص کو مکمل تمہارے حوالہ کردوں گا پس ان کے پاس شہادت نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پچاس قسموں کے ذریعہ حقدار بن جاؤ۔ میں اس شخص کو مکمل تمہارے حوالے کردوں گا، ان لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم ناپسند کرتے ہیں کہ ان دیکھی بات پر قسم اٹھائیں پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود کے پچاس افراد سے قسم لینے کا ارادہ کیا۔ تو انصار کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہود قسم کی پروا نہیں کرتے ہم کب یہ بات ان سے قبول کرسکتے ہیں ایسے تو وہ ہمارے دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ کریں گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29629]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29629، ترقيم محمد عوامة 28385)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 29630
٢٩٦٣٠ - وقال سليمان بن يسار: القسامة (حق) (١) قضى بها رسول الله ﷺ (٢) بينما الانصار عند رسول الله ﷺ (إذ) (٣) خرج رجل منهم، ثم خرجوا من عند رسول الله ﷺ، فإذا هم بصاحبهم (يتشحط) (٤) في دمه، فرجعوا إلى رسول الله ﷺ فقالوا: قتلتنا اليهود -وسموا رجلا منهم ولم تكن (لهم) (٥) بينة-، فقال لهم رسول الله ﷺ:"شاهدان من غيركم حتى ادفعه اليكم برمته"، (فلم تكن لهم بينة فقال: ("استحقوا بخمسين قسامة ادفعه اليكم برمته") (٦) ، (فقالوا) (٧) : يا رسول الله إنا نكره ان نحلف على غيب، فاراد نبي الله ﷺ ان ياخذ قسامة اليهود بخمسين منهم، فقالت الانصار: يا رسول الله إن اليهود لا يبالون الحلف، (متى) (٨) (ما) (٩) نقبل هذا منهم ياتون على آخرنا، فوداه رسول الله ﷺ من عنده (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في (ط): (حتى).
(٢) في [ط]: زيادة (بينهما).
(٣) في [ب]: (إذا).
(٤) سقط من: [ط].
(٥) في [جـ، ك، م]: زيادة (لهم).
(٦) سقط ما بين القوسين من: [أ، ط، هـ].
(٧) في [ط]: (فقال).
(٨) في [ك]: (منا).
(٩) في [م]: (م).
(١٠) مرسل؛ سليمان بن يسار تابعي، أخرجه البيهقي في المعرفة (١٦٣٧١)، وقد أخرجه مسلم (١٦٧٠) من حديث سليمان عن رجل من الأنصار، وهكذا أخرجه أحمد (١٦٦٤٩).

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29630، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28386 ترقیم الشثری: -- 29631
٢٩٦٣١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو خالد عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده ان حويصة ومحيصة (ابني) (١) مسعود وعبد الله وعبد الرحمن (ابني) (٢) ⦗٢٤٨⦘ فلان (خرجوا) (٣) يمتاوون بخيبر، فعدي على عبد الله فقتل، قال: (فذكر) (٤) ذلك (للنبي) (٥) ﷺ فقال النبي ﷺ (٦) :"تقسمون (بخمسين) (٧) فتستحقون"، قالوا: يا رسول الله كيف نقسم ولم شهد؟ قال:"فتبرئكم يهود"، -يعني يحلفون-، قال: فقالوا: يا رسول الله إذن تقتلنا (يهود) (٨) قال: فوداه (رسول) (٩) الله ﷺ من عنده (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، ك، م]: (ابنا).
(٢) في [أ، ب، جـ، ط، ك، م]: (ابنا).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) في [ح، هـ]: (فذكروا)، وفي [ط]: (فذكرت).
(٥) في [ط]: (لنبي).
(٦) في [م]: ﵇.
(٧) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، ك، م]، وسيأتي في آخر الكتاب بإثبات هذه اللفظة.
(٨) في [هـ]: (اليهود).
(٩) في [جـ، ك، م]: (النبي).
(١٠) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، أخرجه ابن ماجة (٢٦٧٨)، والنسائي ٨/ ١٢، والطحاوي في شرح المشكل (٤٥٩٢)، والدارقطني ٣/ ١٠٩، والبيهقي في المعرفة (٤٩٧٦)، والحربي في غريب الحديث ١/ ٦٨.

حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ حویصہ بن مسعود، محیصہ بن مسعود، عبداللہ اور عبدالرحمن یہ چاروں سفر میں نکلے تو ان کا گزر خیبر کے پاس سے ہوا تو عبداللہ پر حملہ ہوا اور اسے مار دیا گیا راوی کہتے ہیں پس یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم پچاس قسمیں اٹھاؤ گے تو تم حقدار بن جاؤ گے۔ انہوں نے کہا: یار سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم کیسے قسم اٹھا سکتے ہیں حالانکہ ہم لوگ وہاں موجود نہیں تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ یہود کو بری کردو یعنی یہود قسم اٹھالیتے ہیں انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تب تو یہود ہمیں قتل کردیں گے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دیت اپنے پاس سے ادا فرمائی۔ (٢٨٣٨٦ م) حضرت ابن یسار نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسا ہی نقل کیا ہے مگر یوں فرمایا: عبدالرحمن مقتول کا بھائی بات کرنے گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاؤ، بڑے کو بلاؤ پس ان کے بڑے نے بات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم پچاس قسمیں اٹھا لو تم حقدار بن جاؤ یا وہ تمہارے لیے پچاس قسمیں اٹھالیں؟ راوی کہتے ہیں انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کیسے کفار لوگوں کی قسمیں قبول کرسکتے ہیں؟ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دیت اپنے پاس سے ادا فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29631]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29631، ترقيم محمد عوامة 28386)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 29632
٢٩٦٣٢ - (و) (١) قال (ابو خالد) (٢) : اخبرني يحيى بن سعيد عن (ابن) (٣) يسار عن النبي ﷺ (٤) نحو هذا إلا انه قال: ذهب عبد الرحمن اخو المقتول يتكلم، فقال النبي ﷺ:"الكبر الكبر"، فتكلم (الكبر) (٥) ، فقال رسول الله ﷺ:"تقسمون بخمسين ⦗٢٤٩⦘ يمينا فتستحقون، او تقسم لكم بخمسين"، قال: فقالوا: (يا رسول) (٦) الله كيف (نقبل) (٧) ايمان قوم كفار، قال: فوداه النبي ﷺ من عنده (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، ك، م]، والمثبت من: [ط، هـ].
(٢) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٣) في [ب، ط]: (أبي).
(٤) في [أ، هـ]: ﵇.
(٥) في [أ، ط، هـ]: (الكبير).
(٦) في [جـ، ك]: (برسول).
(٧) سقط من: [جـ، ك، م].
(٨) مرسل، سليمان بن يسار تابعي، أخرجه مالك ٢/ ٨٧٨، والنسائي (٢٩٢٠)، وعبد الرزاق (١٨٢٥٨)، والطحاوي ٣/ ١٩٧، وأخرجه من طريق ابن يسار عن سهل بن أبي حتمة البخاري (٣١٧٣)، ومسلم (١٦٦٩).

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29632، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28387 ترقیم الشثری: -- 29633
٢٩٦٣٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا المسعودي عن القاسم بن عبد الرحمن قال: انطلق رجلان من اهل الكوفة إلى عمر بن الخطاب فوجداه قد صدر عن البيت عامدا إلى منى، فطافا بالبيت ثم ادركاه (فقصا) (١) عليه قصتهما (فقالا) (٢) : يا امير المؤمنين (إن) (٣) ابن عم لنا قتل نحن إليه شرع سواء في الدم وهو ساكت عنهما لا يرجع إليهما شيئا، حتى ناشداه الله، فحمل عليهما، ثم ذكراه الله فكف عنهما، ثم قال: عمر ويل لنا إذا لم نذكر بالله، وويل لنا إذا لم نذكر الله، فيكم شاهدان (ذوا) (٤) عدل تجيئان بهما على من قتله (فنقيدكم) (٥) منه، و (إلا) (٦) حلف من يدراكم بالله: ما قتلنا ولاعلمنا قاتلا، فإن نكلوا حلف منكم خمسون، ثم كانت لكم الدية (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (فقضا)
(٢) في [ط]: (فقال).
(٣) سقط (إن) من: [ط، هـ].
(٤) في [أ، ب، ط]: (ذو)
(٥) في [جـ]: (فنقيدكما).
(٦) في [ط]: (لا).
(٧) منقطع، القاسم لم يدرك عمر.

حضرت قاسم بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ دو آدمی کوفہ سے حضرت عمر بن خطاب کے پاس چل کر آئے انہوں نے آپ کو بیت اللہ سے منی کی طرف لوٹتا ہوا پایا ان دونوں نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر انہوں نے آپ کو پا لیا تو انہوں نے آپ سے اپنا واقعہ بیان کیا انہوں نے کہا کہ اے امیرالمومنین! ہمارا بھتیجا قتل ہوگیا ہے۔ حضرت عمر نے پہلے تو ان کی بات کی طرف توجہ نہ دی پھر ان سے فرمایا کہ دو عادل آدمی اس کے قاتل کے خلاف گواہی دے دیں۔ اگر وہ گواہی نہ دیں تو پچاس آدمی گواہی دیں کہ نہ ہم نے اس کو قتل کیا اور نہ اس کے قاتل کو جانتے ہیں پھر تمہیں دیت ملے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29633]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29633، ترقيم محمد عوامة 28387)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28388 ترقیم الشثری: -- 29634
٢٩٦٣٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن ابي إسحاق ان قتيلا وجد في بني سلول فجاء الاولياء فابراوا بني (سلول) (١) وادعوا على حي آخر، واتوا شريحا ببني (سلول) (٢) وسالهم البينة على المدعى (عليهم) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (سليل).
(٢) في [ط]: (سليل).
(٣) في [جـ]: (عليه).

حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ حضرت ابو اسحاق نے ارشاد فرمایا: ایک مقتول قبیلہ بنو سلول کے محلہ میں پایا گیا اس کے سرپرست آئے اور انہوں نے بنو سلول والوں کو سبکدوش کردیا اور دوسرے محلہ والوں کے خلاف دعوی کردیا وہ قبیلہ والے بنو سلول کو لیکر حضرت شریح کے پاس آئے تو آپ نے ان سے مدعی علیھم کے خلاف گواہی کے متعلق سوال کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29634]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29634، ترقيم محمد عوامة 28388)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28389 ترقیم الشثری: -- 29635
٢٩٦٣٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا وجد قتيل في حي اخذ منه خمسون رجلا، فيهم المدعى (عليهم) (٢) ، وإن كانوا اقل من خمسين ردت عليهم الايمان، الاول فالاول.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب، ط، م].
(٢) في [ط، هـ]: (عليهم).

حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا: جب کسی محلہ میں کوئی مقتول پایا گیا تو ان میں پچاس لوگوں سے قسم لی جائے گی جس میں مدعی علیہم شامل ہوں گے اور اگر وہ لوگ پچاس سے کم ہوں تو ان پر دوبارہ قسم کو لوٹایا جائے گا اول فالا ول کے اعتبار سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29635]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29635، ترقيم محمد عوامة 28389)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28390 ترقیم الشثری: -- 29636
٢٩٦٣٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن ابي إسحاق عن الحارث بن (الازمع) (١) قال: وجد قتيل باليمين بين وادعة (وارحب) (٢) ، فكتب عامل عمر بن الخطاب إليه، فكتب إليه عمر: ان قس ما بين الحيين، (فإلى) (٣) ايهما كان اقرب فخذهم به، قال: فقاسوا فوجدوه اقرب إلى وادعة، (قال) (٤) : فاخذنا واغرمنا واحلفنا، فقلنا: يا امير المؤمنين اتحلفنا وتغرمنا؟ قال: نعم، قال: فاحلف ⦗٢٥١⦘ منا خمسين رجلا (بالله) (٥) ما فعلت ولا علمت قاتلا (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (الذريح).
(٢) سقط من: [ب، ط، م].
(٣) في [أ، ب، ط، ك]: (قال).
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ، م].
(٥) سقط من: [ط].
(٦) منقطع؛ وأبو إسحاق لم يسمعه من الحارث، إنما رواه عن مجالد، ومجالد ضعيف، انظر: تهذيب التهذيب ٨/ ٥٨، وتلخيص الحبير ٤/ ٤٠، والبدر المنير ٨/ ٥١٦، ومعرفة السنن للبيهقي ٦/ ١٤٢.

حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت حارث بن أزمع نے ارشاد فرمایا: یمن میں قبیلہ وادعہ اور ارحب کے درمیان ایک شخص مردہ حال میں پایا گیا تو حضرت عمر بن خطاب کے گورنر نے آپ کو اس بارے میں خط لکھا: حضرت عمر نے اس کو جواب میں لکھا کہ تم دونوں قبیلہ والوں کے درمیان پیمائش کرو کہ یہ مقتول دونوں میں سے کس قبیلہ کے زیادہ نزدیک ہے ان کو پکڑ لو راوی کہتے ہیں: انہوں نے پیمائش کی اور اس میں مقتول کو قبیلہ وادعہ کے زیادہ قریب پایا۔ راوی کہتے ہیں پس اس گورنر نے ہمارے قبیلہ والوں کو پکڑ لیا اور ہمیں ادائیگی کا ذمہ بنایا اور ہم سے قسم اٹھوائی ہم نے عرض کی اے امیرالمومنین! کیا آپ ہم سے قسم اٹھوائیں گے اور ہمیں جرمانہ کی ادائیگی کا ذمہ دار بنائیں گے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں؟ راوی کہتے ہیں: پس ہم میں سے پچاس آدمیوں نے اللہ کی قسم اٹھائی: نہ ہم نے قتل کیا اور نہ ہی ہم قاتل کو جانتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29636]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29636، ترقيم محمد عوامة 28390)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں