مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
167. ما جاء في القسامة
ان روایات کابیان جو قسامت کے بارے میں آئی ہیں
ترقیم عوامۃ: 28391 ترقیم الشثری: -- 29637
٢٩٦٣٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن ابي ليلى عن الشعبي ان قتيلا وجد باليمين بين حيين قال: فقال عمر: انظروا اقرب الحيين إليه فاحلفوا منهم خمسين رجلا بالله: ما قتلنا ولا علمنا قاتلا، ثم تكون عليهم الدية (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف منقطع؛ ابن أبي ليلى ضعيف، والشعبي لم يدرك عمر.
حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا: یمن میں دو محلوں کے درمیان ایک شخص مردہ حالت میں پایا گیا تو حضرت عمر نے ارشاد فرمایا: غور کرو کہ یہ مقتول دونوں محلوں میں سے کس کے زیادہ قریب ہے پس تم ان میں سے پچاس آمیوں سے اللہ کی قسم اٹھواؤ اس طرح کہ وہ کہیں ہم نے قتل نہیں کیا اور نہ ہی ہمیں قاتل معلوم ہے پھر ان پر دیت لازم ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29637]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29637، ترقيم محمد عوامة 28391)
ترقیم عوامۃ: 28392 ترقیم الشثری: -- 29638
٢٩٦٣٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الاعلى عن معمر (ان) (١) الزهري سئل عن قتيل وجد في دار رجل فقال رب الدار: إنه طرقني ليسرقني فقتلته، وقال اقول: القتيل انه دعاه إلى بيته فقتله، فقال: ان اقسم من اهل القتيل خمسون انه دعاه فقتله (اقيد به) (٢) ، وإن نكلوا غرموا الدية.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عن).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (اقتدته).
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ امام زہری سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا گیا تھا۔ اور گھر کے مالک نے یوں کہا کہ بیشک یہ رات کو میرے پاس آیا تاکہ میرا مال چوری کرلے پس میں نے اسے قتل کردیا اور مقتول کے گھر والوں نے کہا کہ بیشک اس شخص نے ہی اسے اپنے گھر بلایا تھا اور اسے قتل کردیا اس پر آپ نے فرمایا: اگر مقتول کے اہلخانہ میں سے پچاس افراد اس بات پر قسم اٹھا لیں کہ گھر کے مالک نے اسے بلا کر قتل کردیا ہے تو میں اس سے قصاص لوں گا اور اگر یہ لوگ قسم اٹھانے سے انکار کردیں تو یہ دیت کے ذمہ دار ہوں گے۔ امام زہری نے فرمایا: حضرت ابن عفان نے بھی بنو باقرہ کے مقتول کے بارے میں یہی فیصلہ فرمایا تھا جب اس کے اولیاء نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا تو حضرت عثمان نے انہیں دیت کی ادائیگی کا ذمہ دار بنادیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29638]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29638، ترقيم محمد عوامة 28392)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 29639
٢٩٦٣٩ - (قال) (١) الزهري: فقضى ابن عفان في قتيل من بني (باقرة) (٢) ابى اولياؤه ان يحلفوا، فاغرمه عثمان الدية (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (فقال).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (قرة).
(٣) منقطع؛ الزهري لم يدرك عثمان.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29639، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 28393 ترقیم الشثری: -- 29640
٢٩٦٤٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الاعلى عن يونس عن الحسن في القتيل ⦗٢٥٢⦘ (يوجد) (١) غيلة قال: يقسم من المدعى عليهم (خمسين) (٢) يمينا: ما قتلنا ولا علمنا قاتلا، فإن حلفوا فقد براوا، وإن نكلوا اقسم من المدعين خمسون: إن دمنا قبلكم ثم يودى (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (يؤخذ).
(٢) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٣) في [هـ]: (يودوا).
حضرت یونس فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری نے دھوکہ سے قتل ہونے والے مقتول کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا کہ مدعی علیھم میں سے پچاس آدمی یوں پچاس قسمیں اٹھائیں گے کہ نہ ہم نے قتل کیا ہے اور نہ ہمیں قاتل معلوم ہے پس اگر انہوں نے قسم اٹھالی تو وہ بری ہوجائں گے اور اگر انہوں نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا تو مدعیوں میں سے پچاس لوگ قسم اٹھائیں گے کہ ہمارا خون تمہاری طرف سے ہوا ہے پھر دیت ادا کی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29640]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29640، ترقيم محمد عوامة 28393)
ترقیم عوامۃ: 28394 ترقیم الشثری: -- 29641
٢٩٦٤١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن هشام عن ابيه في القسامة لم يزل يعمل بها في الجاهلية والإسلام.
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ نے قسامت کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا کہ زمانہ جاہلیت اور اسلام میں مسلسل اس پر عمل کیا جاتا رہا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29641]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29641، ترقيم محمد عوامة 28394)
ترقیم عوامۃ: 28395 ترقیم الشثری: -- 29642
٢٩٦٤٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن سعيد بن عبيد عن بشير بن يسار زعم ان رجلا من الانصار (يقال) (١) له: سهل بن ابي حثمة اخبره ان نفرا من (قومه) (٢) انطلقوا إلى خيبر فتفرقوا فيها، فوجدوا احدهم قتيلا، فقالوا للذين وجدوه عندهم: قتلتم صاحبنا، قالوا: ما قتلنا ولا علمنا، فانطلقوا إلى نبي الله ﷺ فقالوا: يا نبي الله انطلقنا إلى خيبر فوجدنا احدنا قتيلا، قال رسول الله ﷺ:"الكبر الكبر"، فقال:"لهم تاتون بالبينة على من قتل"، فقالوا: ما لنا بينة، قال: فيحلفون لكم، قالوا: (٣) لا نرضى بايمان اليهود، فكره (نبي) (٤) الله ﷺ (ان يبطل دمه فوداه بمائة من إبل الصدقة) (٥) (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (قال).
(٢) في [ط]: (قوم).
(٣) في [ب، ط، م]: زيادة (و).
(٤) في [جـ]: (رسول).
(٥) سقط من: [ك].
(٦) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨٩٨)، ومسلم (١٦٦٩).
حضرت بشیر بن یسار ایک انصاری شخص جس کا نام سہل بن ابو حثمہ تھا وہ فرماتے ہیں کہ ان کی قوم کی ایک جماعت خیبر کی طرف گئی، وہ وہاں جا کر منتشر ہوگئے پھر انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو مردہ حالت میں پایا۔ انہوں نے جن کے پاس اسے مردہ حالت میں پایا تھا ان سے وہ کہنے لگے تم نے ہمارے ساتھی کو قتل کردیا انہوں نے کہا: ہم نے قتل نہیں کیا اور نہ ہی ہمیں قاتل کا علم ہے پھر یہ لوگ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے اور کہنے لگے، یا نبی اللہ! ہم خیبر گئے تھے تو وہاں ہم نے اپنے ایک ساتھی کو مرا ہوا پایا۔ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: بڑے کو بلاؤ بڑے کو بلاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ا ن سے فرمایا: تم لوگ اس شخص کے خلاف گواہی لاؤ جس نے قتل کیا ہے انہوں نے کہا ہمارے پاس گواہ تو نہیں ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر یہودی تمہارے لیے قسم اٹھائیں گے انہوں نے کہا: ہم یہود کی قسم سے راضی نہیں ہوں گے پس اللہ کے نبی نے اس کے خون کے رائیگاں جانے کو ناپسند سمجھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دیت سو اونٹ ادا کی صدقہ کے اونٹوں میں سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29642]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29642، ترقيم محمد عوامة 28395)