🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. ما جاء في التشفع (للسارق)
ان روایات کا بیان جو چور کی سفارش کرنے کے بارے میں منقول ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 29931
٢٩٩٣١ - [حدثنا ابو محمد عبد الله بن يونس قال: حدثني بقي بن مخلد قال: حدثنا عبد الله بن محمد بن ابي شيبة قال] (١) : حدثنا حفص بن غياث عن جعفر عن ابيه ان النبي ﷺ قال لاسامة:"يا اسامة! لا تشفع في حد" وكان إذا شفع شفعه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من [جـ].
(٢) مرسل؛ أبو جعفر تابعي، أخرجه ابن سعد (٤/ ٦٩)، وابن غطريف (٦٠).

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29931، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28656 ترقیم الشثری: -- 29932
٢٩٩٣٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن واصل عن ابي وائل عن كعب قال: لا تشفع في حد (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا: حد کے بارے میں ہرگز سفارش نہیں کی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 29932]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29932، ترقيم محمد عوامة 28656)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28657 ترقیم الشثری: -- 29933
٢٩٩٣٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن عبد الله بن عروة عن الفرافصة الحنفي قال: مروا على (الزبير بسارق فتشفع) (١) له (قالوا) (٢) : (اتشفع) (٣) (لسارق) ؟ (٤) فقال: نعم، ما لم يؤت به إلى الإمام، فإذا اتي به إلى ⦗٣٣٢⦘ الإمام فلا عفى الله عنه (إن عفى عنه) (٥) (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: بياض.
(٢) في [جـ، ك، م]: (فقالو).
(٣) في [ط، م]: (تشفع).
(٤) في [ط]: (بسارق).
(٥) سقط من [جـ].
(٦) حسن؛ الفرافصة صدوق.

حضرت فرافصہ حنفی فرماتے ہیں کہ لوگ ایک چور کو لے کر حضرت زبیر کے پاس سے گزرے تو آپ نے اس کی سفارش فرمائی اس پر لوگ کہنے لگے: کیا آپ ایک چور کی سفارش کررہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں! جب تک اسے امام کے پاس نہ لے جایا گیا ہو جب اسے امام کے پاس لے گئے تو اللہ بھی اسے معاف نہیں کرے گا اگر امام نے اسے معاف کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 29933]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29933، ترقيم محمد عوامة 28657)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28658 ترقیم الشثری: -- 29934
٢٩٩٣٤ - [حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن هشام عن عبد الله بن عروة عن الفرافصة عن الزبير مثله] (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من [جـ].
(٢) حسن؛ الفرافصة صدوق.

حضرت فرافصہ سے حضرت زبیر کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 29934]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29934، ترقيم محمد عوامة 28658)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28659 ترقیم الشثری: -- 29935
٢٩٩٣٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن الرواسي عن هشام عن ابي (حازم) (١) ان عليا شفع لسارق (فقيل) (٢) له: تشفع لسارق؟ (فقال) (٣) : نعم، إن ذلك يفعل ما لم يبلغ (به) (٤) الإمام، [فإذا بلغ (به) (٥) الإمام] (٦) فلا اعفاه الله [ (إن) (٧) عفاه] (٨) (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (جازم).
(٢) سقط من [جـ].
(٣) في [جـ]: بياض.
(٤) في سقط من [هـ].
(٥) سقط من [هـ].
(٦) سقط من [ط].
(٧) في [أ، ط، هـ]: (إذا).
(٨) سقط من [جـ].
(٩) منقطع؛ أبو حازم لم يدرك عليًا.

حضرت ابو حازم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک چور کی سفارش کی تو آپ سے پوچھا گیا: کیا آپ چور کی سفارش کر رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں! بیشک ایسا کیا جاسکتا ہے جب کہ اسے امام تک نہ پہنچا دیا گیا ہو اور جب امام کے پاس پہنچ جائے تو اللہ بھی اسے معاف نہیں کریں گے اگر اس نے اسے معاف کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 29935]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29935، ترقيم محمد عوامة 28659)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28660 ترقیم الشثری: -- 29936
٢٩٩٣٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سعيد (بن) (١) عبيد عن سليمان ⦗٣٣٣⦘ ابن ابي (كبشة) (٢) ان سارقا مر به على سعيد بن جبير وعطاء فشفعا له فقيل لهما: وتريان ذلك؟ فقالا: نعم، ما لم يؤت به (إلى) (٣) الإمام.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (عن).
(٢) في [ب]: (كشبة).
(٣) سقط من [ط].

حضرت سلیمان بن ابی کبشہ فرماتے ہیں کہ ایک چور کو حضرت سعید بن جبیر اور حضرت عطاء کے پاس سے گزارا گیا تو ان دونوں نے اس کی سفارش کی ان دونوں حضرات سے پوچھا گیا: آپ دونوں کی یہ رائے ہے؟ ان دونوں نے فرمایا: جی ہاں! جب تک اس کو امام کے پاس نہ لے جایا گیا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 29936]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29936، ترقيم محمد عوامة 28660)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28661 ترقیم الشثری: -- 29937
٢٩٩٣٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبدة عن يحيى بن سعيد عن عبد الوهاب عن ابن عمر قال: من حالت شفاعته دون حد من حدود الله فقد (ضاد) (١) الله في خلقه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (ضار).
(٢) صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٢٠٩٠٥)، وأحمد في العلل (٣/ ٥٥)، والبخاري في التاريخ (٦/ ٩٦)، وأخرجه مرفوعًا أحمد (٢٤١٨٤)، وأبو داود (٣٥٩٧)، والحاكم (٢/ ٢٧)، والطبراني (١٣٠٨٤)، وأبوبعلى في المعجم (٨٤)، وأبو نعيم في الحلية (١٠/ ٢١٩)، وابن عدي (٢/ ٣٨٨)، والمزي (٢٢/ ٦١٣)، وابن فضيل في الدعاء (٩٣)، والبيهقي في الشعب (٦٧٣٥)، والخطيب (٣/ ٣٩٢)، وابن عساكر (٦٤/ ١٥٤).

حضرت عبدالوہاب فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے اپنی سفارش کو اللہ کی سزاؤں میں سے سزا کے لیے حائل کیا تو تحقیق اس نے اللہ کی اس کے حکم میں مخالفت کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 29937]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29937، ترقيم محمد عوامة 28661)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28662 ترقیم الشثری: -- 29938
٢٩٩٣٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن عائشة ان النبي ﷺ كلم في شيء فقال:"لو كانت فاطمة ابنة محمد لاقمت عليها الحد" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) رجاله ثقات، وذكر السرقة في بقية الخبر شاذ، أخرجه أحمد (٢٤١٣٨)، والنسائي (٨/ ٧٢)، والطيالسي (١٤٤٨)، وإسحاق (٨٦٠)، وصواب الرواية: كانت امرأة تستعير المتاع وتجحده، أخرجه البخاري (٣٤٧٥)، ومسلم (١٦٨٨).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں بات کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر وہ فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ہوتی تو میں ضرور اس پر سزا جاری کرتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 29938]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29938، ترقيم محمد عوامة 28662)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28663 ترقیم الشثری: -- 29939
٢٩٩٣٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا محمد بن إسحاق عن محمد بن طلحة عن امه عائشة بنت مسعود بن الاسود عن ابيها مسعود قال: لما سرقت المراة تلك القطيفة من بيت رسول الله ﷺ اعظمنا ذلك وكانت المراة (من) (١) قريش، ⦗٣٣٤⦘ فجئنا إلى النبي ﷺ نكلمه وقلنا: نحن نفديها باربعين اوقية، قال [رسول الله ﷺ (٢) :"تطهر خير لها"، فلما سمعنا لين قول رسول الله ﷺ اتينا اسامة فقلنا: كلم رسول الله ﷺ، فلما راى رسول الله ﷺ ذلك قام خطيبا فقال:"ما إكثاركم علي في حد من حدود الله وقع على امة من إماء الله، والذي نفسي بيده لو كانت فاطمة بنت رسول الله ﷺ نزلت بالذي [نزلت (به) (٣) ] (٤) لقطع محمد يدها" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عن).
(٢) سقط من [ب، جـ، ط، ك، م].
(٣) سقط من [أ، ب، ط].
(٤) سقط من [جـ].
(٥) حسن؛ صرح ابن إسحاق بالسماع كما عند ابن بشكوال في الأسماء المبهمة ٤/ ٢٥٦، وأخرجه أحمد (٢٣٤٧٩)، وابن ماجه (٢٥٤٨)، والحاكم ٤/ ٣٧٩، والطبراني ٢٠/ ٧٩٢، والبيهقي ٨/ ٢٨١، وابن عساكر ٥٨/ ٣، وابن قانع ٣/ ٦٥، وابن عبد البر في الاستذكار ٧/ ٥٧١.

حضرت مسعود فرماتے ہیں کہ جب اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر سے چادر چوری کی تو ہم نے اس بات کو بہت بڑا سمجھا، اور اس عورت کا تعلق قریش سے تھا پس ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بات چیت کرنے کے لیے آئے اور ہم نے عرض کی: ہم اس عورت کا چالیس اوقیہ چاندی فدیہ دیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ پاک ہوجائے یہ اس کے لیے بہت رہے۔ جب ہم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نرم بات سنی تو ہم حضرت اسامہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آئے اور ہم نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں بات کریں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ معاملہ دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کی سزاؤں میں سے ایک سزا کے بارے میں مجھ پر کیوں اپنی تعداد کو بڑھا رہے ہو جو اللہ کی بندیوں میں سے ایک بندی پر ثابت ہوچکی ہے؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اس مقام پر اترتی جس مقام پر آج یہ عورت اتری ہے تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 29939]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29939، ترقيم محمد عوامة 28663)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں