🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. باب اسْتِئْذَانِ الثَّيِّبِ فِي النِّكَاحِ بِالنُّطْقِ وَالْبِكْرِ بِالسُّكُوتِ:
باب: بیوہ کا نکاح میں اجازت دینا زبان سے ہے اور باکرہ کا سکوت سے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1419 ترقیم شاملہ: -- 3473
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حدثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حدثنا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حدثنا أَبُو سَلَمَةَ ، حدثنا أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ: " أَنْ تَسْكُتَ "،
ہشام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوسلمہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت کا خاوند نہ رہا ہو اس کا نکاح (اس وقت تک) نہ کیا جائے حتیٰ کہ اس سے پوچھ لیا جائے اور کنواری کا نکاح نہ کیا جائے حتیٰ کہ اس سے اجازت لی جائے۔ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیسے ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ایسے) کہ وہ خاموش رہے (انکار نہ کرے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3473]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شوہر دیدہ کا نکاح اس کے مشورہ کے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے دریافت کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علبہ وسلم! اس کی اجازت کی کیفیت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علبہ وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی، (سکوت)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3473]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1419
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1419 ترقیم شاملہ: -- 3474
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حدثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ . ح وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حدثنا شَيْبَانُ . ح وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ . ح وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حدثنا مُعَاوِيَةُ ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ هِشَامٍ، وَإِسْنَادِهِ، وَاتَّفَقَ لَفْظُ حَدِيثِ هِشَامٍ، وَشَيْبَانَ، وَمُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
حجاج بن ابی عثمان، اوزاعی، شیبان، معمر اور معاویہ (بن سلام) سب نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ہشام کی سند سے، ہشام کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، اور اس حدیث میں ہشام، شیبان اور معاویہ بن سلام کی حدیث کے الفاظ ایک جیسے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3474]
امام صاحب نے بہت سے اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے، اور تین راویوں، ہشام، شیبان اور معاویہ سلام کے الفاظ بھی یکساں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3474]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1419
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1420 ترقیم شاملہ: -- 3475
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، جميعا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ: حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَقُولُ: قَالَ ذَكْوَانُ مَوْلَى عَائِشَةَ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَارِيَةِ يُنْكِحُهَا أَهْلُهَا، أَتُسْتَأْمَرُ أَمْ لَا؟ فقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ، تُسْتَأْمَرُ "، فقَالَت عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لَهُ: فَإِنَّهَا تَسْتَحْيِي، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَذَلِكَ إِذْنُهَا إِذَا هِيَ سَكَتَتْ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس لڑکی کے بارے میں پوچھا جس کے گھر والے اس کا نکاح (کرنے کا ارادہ) کریں، کیا اس سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی یا نہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ہاں، اس کی مرضی معلوم کی جائے گی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے آپ سے عرض کی: وہ تو یقیناً حیا محسوس کرے گی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ خاموش رہی تو یہی اس کی اجازت ہو گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3475]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی سند سے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑکی کے بارے میں دریافت کیا، جب اس کے گھر والے اس کی شادی کرنا چاہیں، تو کیا اس سے مشورہ لیا جائے گا، یا نہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا، ہاں۔ اس سے مشورہ لیا جائے گا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، وہ تو شرم و حیا محسوس کرے گی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی اجازت یہی ہے کہ وہ خاموشی اختیار کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3475]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1420
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1421 ترقیم شاملہ: -- 3476
حدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حدثنا مَالِكٌ . ح وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكٍ : حَدَّثَكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا "، قَالَ: نَعَمْ.
سعید بن منصور اور قتیبہ بن سعید نے کہا: ہم سے امام مالک نے حدیث بیان کی۔ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا آپ کو عبداللہ بن فضل نے نافع بن جبیر کے واسطے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت کا شوہر نہ رہا ہو وہ اپنے ولی کی نسبت اپنے بارے میں زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری سے اس کے (نکاح کے) بارے میں اجازت لی جائے اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے؟ تو امام مالک نے جواب دیا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3476]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شوہر دیدہ عورت کا اپنے نفس کے بارے میں اپنے ولی، سر پرست، سے زیادہ حق ہے، اور کنواری کا باپ، اس کے نفس (نکاح) کے بارے میں اس سے اجازت حاصل کرے، اور اس کی اجازت، اس کی خاموشی ہے؟ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ میں نے یہ روایت سنی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3476]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1421
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1421 ترقیم شاملہ: -- 3477
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُخْبِرُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ، وَإِذْنُهَا سُكُوتُهَا "،
قتیبہ بن سعید نے کہا: ہمیں سفیان نے زیاد بن سعد سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن فضل سے روایت کی، انہوں نے نافع بن جبیر کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خبر دیتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے شادی شدہ زندگی گزاری ہو وہ اپنے بارے میں اپنے ولی کی نسبت زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری سے اس کی مرضی پوچھی جائے اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3477]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوہ عورت اپنے ولی کی بنسبت اپنے نفس کی زیادہ حقدار ہے، اور کنواری لڑکی سے رائے لی جائے گی، اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3477]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1421
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1421 ترقیم شاملہ: -- 3478
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ يَسْتَأْذِنُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا، وَرُبَّمَا قَالَ: وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا.
ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا: جس عورت نے شادی شدہ زندگی گزاری ہو وہ اپنے بارے میں اپنے ولی کی نسبت زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری سے اس کا والد اس کے (نکاح کے) بارے میں اجازت لے گا، اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔ اور کبھی انہوں نے کہا: اور اس کی خاموشی اس کا اقرار ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3478]
امام صاحب ایک اور استاد کی سند سے مذکورہ بالا روایت میں کہ شوہر دیدہ اپنے ولی کے اعتبار سے اپنے نفس کی زیادہ حقدار ہے، اور اس کی اجازت، اس کی خاموشی ہے۔ اور بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا سکوت ہی اس کا اقرار ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3478]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1421
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں