🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

154. فيما يحقن به الدم ويرفع به عن الرجل القتل
ان وجوہات کا بیان جن کی وجہ سے خون محفوظ ہو جاتا ہے اور آدمی سے قتل کی تخفیف ہو جاتی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29544 ترقیم الشثری: -- 30879
٣٠٨٧٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسرائيل عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: مر رجل من بني سليم على نفر من اصحاب رسول الله ﷺ ومعه غنم، (فسلم) (١) عليهم فقالوا: ما سلم عليكم إلا ليتعوذ منكم، فعمدوا إليه فقتلوه، واخذوا غنمه فاتوا بها رسول الله ﷺ، فانزل الله: ﴿ياايها الذين آمنوا إذا ضربتم في سبيل الله فتبينوا ولا تقولوا لمن القى إليكم ⦗٣٢⦘ السلام لست مؤمنا تبتغون عرض الحياة الدنيا فعند الله مغانم كثيرة﴾، إلى آخر الآية (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ك]: (سلم).
(٢) مضطرب؛ رواية سماك عن عكرمة مضطربة، أخرجه الترمذي (٣٠٣٠)، وابن حبان (٤٧٥٢)، والحاكم ٢/ ٢٣٥، وأصله في البخاري (٤٥٩١)، ومسلم (٣٠٢٥).

حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: کہ قبیلہ بنو سلیم کے ایک آدمی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ پر گزر ہوا درآنحالیکہ اسکے پاس بھیڑ بکریاں بھی تھیں تو اس نے ان کو سلام کیا۔ پس وہ کہنے لگے: اس نے تمہیں سلام نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ تم سے بچ جائے، سو انہوں نے اس کا ارادہ کیا اور اس کو قتل کردیا اور اس کی بھیڑ بکریاں لے لیں۔ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آئے۔ اس پر اللہ رب العزت نے یہ آیت اتاری: ”اے ایمان والو! جب تم نکلو (جہاد کے لیے) اللہ کی راہ میں تو خوب تحقیق کرلیا کرو اور نہ کہو اس شخص کو جو تم کو سلام کرے کہ تو مومن نہیں ہے کیا تم دنیاوی زندگی کا ساز و سامان حاصل کرنا چاہتے ہو؟ سو اللہ کے ہاں بہت غنیمتیں ہیں۔“ (الخ) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30879]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30879، ترقيم محمد عوامة 29544)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29545 ترقیم الشثری: -- 30880
٣٠٨٨٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن سماك عن عكرمة عن (ابن عباس) (١) بمثله ولم يذكر، فاتوا بها النبي ﷺ (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (بن قسم).
(٢) في [أ، هـ]: ﵇.
(٣) مضطرب؛ رواية سماك عن عكرمة مضطربة، وانظر: ما قبله.

حضرت عکرمہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔ لیکن انہوں نے یہ بات ذکر نہیں کی کہ وہ لوگ اس ریوڑ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30880]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30880، ترقيم محمد عوامة 29545)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29546 ترقیم الشثری: -- 30881
٣٠٨٨١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا ليث بن (١) سعد عن ابن شهاب عن عطاء بن يزيد الليثي عن (عبيد الله) (٢) بن عدي بن الخيار عن المقداد انه اخبره انه قال: يا رسول الله ارايت إن لقيت رجلا من الكفار فقاتلني فضرب إحدى يدي بالسيف فقطعها، ثم لاذ مني بشجرة فقال: اسلمت لله: اقتله يا رسول الله (٣) بعد ان قالها؟ فقال رسول الله ﷺ:"لا تقتله"، فقلت: يا رسول الله، قطع يدي ثم قال (ذلك بعد) (٤) ان قطعها فاقتله؟ قال:"لا تقتله (وإن قتلته) (٥) فإنه بمنزلتك قبل ان تقتله، وانت بمنزلته قبل ان يقول: الكلمة التي قال" (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، ك]: زيادة (سوار قال: حدثنا ليث بن سعد).
(٢) في [جـ]: (عبد اللَّه).
(٣) زيادة في [ك]: (قطع يدي).
(٤) في [أ، ط، هـ]: (بعد ذلك).
(٥) سقط من: [أ، ط، ح، هـ].
(٦) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨٦٥)، ومسلم (٩٥).

حضرت عبیداللہ بن عدی بن خیار فرماتے ہیں کہ حضرت مقداد نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا رائے ہے کہ اگر میں کفار کے کسی آدمی سے ملوں پس وہ مجھ سے قتال کرے اور میرے ایک ہاتھ کو تلوار کی ضرب سے کاٹ دے۔ پھر وہ شخص درخت کی آڑ میں مجھ سے پناہ مانگنے لگے اور کہے کہ میں اللہ کے لیے اسلام لایا، یا رسول اللہ! کیا میں یہ کلمہ پڑھنے کے بعد اس کو قتل کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے قتل مت کرو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اس نے میرا ہاتھ کاٹا پھر اس نے یہ کاٹنے کے بعد یہ کلمہ پڑھا ہو پھر میں اسے قتل کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے قتل مت کرو، اور اگر تم نے اسے قتل کردیا تو بیشک تمہارے درجہ میں ہوجائے گا جیسا کہ تم اس کو قتل کرنے سے پہلے تھے اور تم اس کے درجہ میں ہو جاؤ گے جیسا کہ وہ اس کلمہ کو کہنے سے پہلے تھا جو کلمہ اس نے پڑھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30881]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30881، ترقيم محمد عوامة 29546)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29547 ترقیم الشثری: -- 30882
٣٠٨٨٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: جاء ابو العالية إلي وإلى صاحب لي (فقال) (١) : هلما فإنكما اشب مني (و) (٢) اوعى للحديث مني، فانطلقنا حتى اتينا بشر بن عاصم الليثي (فقال) (٣) [ابو العالية: حدث هذين حديثك، فقال: حدثنا عقبة بن مالك الليثي] (٤) (فقال) (٥) : بعث النبي ﷺ (٦) سرية فاغارت على القوم (فشذ) (٧) رجل من القوم فاتبعه رجل من السرية معه سيف شاهر، فقال الشاذ من القوم: إني مسلم، فلم ينظر (فيما قال) (٨) ، فضربه فقتله، فنمى الحديث إلى النبي ﷺ فقال النبي ﵇ (٩) قولا شديدا، فبلغ القاتل (١٠) ، فبينما النبي ﷺ يخطب إذ قال القاتل: والله يا نبي الله، ما قال الذي قال إلا تعوذا من القتل، فاعرض النبي ﷺ (عنه) (١١) وعمن يليه من الناس، وفعل ذلك مرتين كل ذلك يعرض عنه النبي ﷺ بوجهه، فلم يصبر ان قال الثالثة مثل ذلك، (واقبل النبي) (١٢) ﵇ ⦗٣٤⦘ بوجهه تعرف (المساءة) (١٣) في وجهه فقال:"إن الله ابى علي فيمن قتل مؤمنا -ثلاث مرات- يقول ذلك" (١٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (قال).
(٢) في [ط، هـ]: (أو)
(٣) في [أ، ط، هـ]: (قال).
(٤) سقط ما بين المعقوفتين من: [ط، هـ].
(٥) في [أ، ب، هـ]: (قال).
(٦) في [أ، ب، ك]: ﵇.
(٧) في [جـ، ك]: (فشد).
(٨) في [ط]: (فيمال قال).
(٩) في [جـ]: ﷺ، وسقط من: [أ، ب، ك].
(١٠) في [ب]: (همهم)
(١١) سقط من: [أ، ب، ط، ك].
(١٢) سقط من: [هـ].
(١٣) في [ط]: (الساءة).
(١٤) حسن؛ بشر بن عاصم الليثي صدوق، أخرجه أحمد (٢٢٤٩٠)، والنسائي في الكبرى (٨٥٩٣)، وابن حبان (٥٩٧٢)، والحاكم ١/ ١٨، وابن سعد ٧/ ٤٨، وابن أبي عاصم في الآحاد (٩٤٢)، وأبو يعلى (٦٨٢٩)، والطحاوي ٣/ ٢٠٨، والطبراني ١٢/ (٩٨٠)، والبيهقي ٩/ ١١٦، والخطيب في المتفق (٢٧٣)، ويعقوب في المعرفة ١/ ٣٤٥، وابن قانع ٢/ ٢٧٥، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ٥٩، والمزي ٢٠/ ٢٢٠.

حضرت حمید بن ہلال فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العالیہ میرے اور میرے ایک ساتھی کے پاس آئے اور فرمانے لگے: آؤ، بیشک تم دونوں مجھ سے زیادہ نوجوان ہو، اور حدیث کو مجھ سے زیادہ محفوظ رکھنے والے ہو۔ سو ہم لوگ گئے یہاں تک کہ ہم حضرت بشر بن عاصم لیثی کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت ابو العالیہ نے فرمایا: تو اپنی حدیث ان دونوں سے بیان کردو، انہوں نے فرمایا کہ حضرت عقبہ بن مالک لیثی نے ہمیں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا جس نے قوم پر حملہ کردیا پس اس قوم سے ایک آدمی دوڑ لگا دی، تو لشکر کے ایک آدمی نے اس کا پیچھا کیا اور اس کے پاس ننگی تلوار تھی، اس قوم سے دوڑنے والے شخص نے کہا: بیشک میں مسلمان ہوں۔ اس لشکر کے آدمی نے اس کی بات میں غور نہیں کیا اور اس کو وار کر کے قتل کردیا۔ پھر یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچائی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اس وقت قاتل نے کہا: یا نبی اللہ! اللہ کی قسم! اس نے جو بھی بات کہی وہ صرف قتل سے بچنے کے لیے کہی تھی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض کیا اور ان لوگوں سے بھی جو اس کے ساتھ ملے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ ایسا کیا، ہر بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اپنا چہرہ پھیرلیا۔ پس اس سے صبر نہ ہوسکا تو اس نے تیری بار بھی یہی بات کی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ اس کی طرف متوجہ کیا اس حال میں کہ ناراضگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے معلوم ہو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ نے مجھ پر انکار کیا ہے اس شخص کے بارے میں جو مومن کو قتل کر دے۔ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30882]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30882، ترقيم محمد عوامة 29547)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29548 ترقیم الشثری: -- 30883
٣٠٨٨٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا سفيان بن حسين عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة قال: لما ارتد من ارتد على عهد ابي بكر اراد ابو بكر ان يجاهدهم، فقال عمر: (اتقاتلهم) (١) وقد سمعت رسول الله ﷺ يقول:"من شهد لا إله إلا الله وان محمدا رسول الله، حرم (ماله) (٢) إلا بحق، (و) (٣) حسابهم على الله (تعالى) (٤) " فقال ابو بكر: (انا) (٥) (لا اقاتل) (٦) من فرق بين الصلاة والزكاة؟ والله لاقاتلن من فرق بينهما حتى اجمعهما، قال عمر: فقاتلنا معه وكان رشدا، فلما ظفر بمن ظفر به منهم قال: اختاروا مني خصلتين: إما (حرب) (٧) ⦗٣٥⦘ (مجلية) (٨) وإما الخطة المخزية، قالوا: هذه الحرب المجلية قد عرفناها فما الخطة المخزية؟ قال: تشهدون على قتلانا انهم في الجنة وعلى قتلاكم انهم في النار، ففعلوا (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (نقاتلهم).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (مالهم).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(٥) في [جـ]: (إني).
(٦) في [جـ]: (أقاتل)، وفي [أ، ط، هـ]: (لأقاتل).
(٧) في [هـ]: (الحرب).
(٨) في [هـ]: (المجلية).
(٩) مرسل ضعيف؛ رواية سفيان بن حسين عن الزهري ضعيفة، وعبيد اللَّه لم يدرك الواقعة، وقد ورد الحديث بنحوه من طريق عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة عن أبي هريرة، أخرجه البخاري (١٣٩٩)، ومسلم (٢٠).

حضرت زھری فرماتے ہیں کہ حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے ارشاد فرمایا: جب مرتد ہوگئے وہ لوگ جو حضرت ابوبکر صدیق کے زمانے میں مرتد ہوئے تھے تو حضرت ابوبکر نے ان سے جہاد کرنے کا ارادہ کیا۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا: کیا تم ان سے قتال کرو گے حالانکہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ تو اس کا مال حرام ہوگیا مگر کسی حق کی وجہ سے اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا: بیشک میں قتال کروں گا اس شخص سے جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرے گا، اللہ کی قسم! میں ضرور قتال کروں گا اس شخص سے جو ان دونوں کے درمیان فرق کرے گا، یہاں تک کہ میں ان دونوں کو اکٹھا کر دوں۔ حضرت عمر فرماتے ہیں: سو ہم نے ان کے ساتھ قتال کیا اور وہ ہدایت پر تھے، پس جب وہ کامیاب ہوگئے ان لوگوں کی مدد سے جنہوں نے ان کے ساتھ کوشش کی تھی۔ آپ نے فرمایا: تم لوگ میری طرف سے دو باتیں اختیار کرلو: یا تو خوفناک جنگ یا پھر رسوا کردینے والا صلح کا منصوبہ۔ ان لوگوں نے کہا: اس خوفناک جنگ کو تو ہم نے پہچان لیا۔ پس یہ رسوا کردینے والا منصوبہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: تم ہمارے مقتولین پر گواہی دو کہ بیشک وہ جنت میں ہیں اور اپنے مقتولین پر گواہی دو کہ بیشک وہ جہنم میں ہیں۔ پس انہوں نے ایسا کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30883]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30883، ترقيم محمد عوامة 29548)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29549 ترقیم الشثری: -- 30884
٣٠٨٨٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا ابان بن عبد الله البجلي قال: حدثني إبراهيم بن جرير عن جرير قال: إن نبي الله بعثني إلى اليمن اقاتلهم وادعوهم، فإذا قالوا: لا إله إلا الله، حرمت عليكم اموالهم ودماؤهم (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ إبراهيم بن جرير لم يسمع من أبيه، أخرجه الطبراني (٢٣٩٢)، وابن عدي ١/ ٢٥٧، وأصله عد البخاري (٤٣٥٩)، وأحمد (١٩٢٢٤).
حضرت جریر فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا تاکہ میں ان سے قتال کروں اور میں ان کو دین کی دعوت دوں۔ پس جب انہوں نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیا تو تم پر ان کے اموال اور ان کی جانیں حرام ہوگئیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30884]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30884، ترقيم محمد عوامة 29549)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں